Home » 86 سال بعد آیا صوفیہ میں ایک بار پھر اللہ اکبر کی صدائیں

86 سال بعد آیا صوفیہ میں ایک بار پھر اللہ اکبر کی صدائیں

by ONENEWS

86 سال بعد، آیا صوفیہ میں ایک بار پھر اللہ اکبر کی صدائیں

آیا صوفیہ میں آج 86 سال بعد نمازِ با جماعت ادا کی جائے گی۔ اس سے پہلے یعنی 1934ء میں جب مصطفی کمال نے اس عظیم الشان مسجد کو میوزیم کا درجہ دے کر یہاں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی تھی یہاں گزرے 500 سالوں سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی رہی تھیں۔ یہ مسجد ترکانِ عثمان (عثمانی خلافت) کی عظمت و شہرت کا نشان تھی اور ہے شہر استنبول جہاں یہ مسجد قائم کی گئی، ترکوں کے ساتویں حکمران سلطان محمد نے 1453ء میں بازنطینی حکمرانوں سے لڑ کر فتح کیا تھا۔ یہ شہر بازنطینی سلطنت کا پایہئ تخت اور یہاں قائم عظیم الشان گرجا عیسائیت کی عالمی طاقت کا مظہر تھا۔ سلطان محمد نے 55 روزہ محاصرے کے بعد جنگ کر کے اس شہر پر قبضہ کیا اور تاریخ اسلام میں ہی نہیں بلکہ تاریخِ اقوا م میں ”فاتح“ (The conqurer) کے طور پر مشہور ہوئے جس طرح شہر استنبول بازنطینی سلطنت کا پایہ تخت اور ان کی طاقت و سطوت کا مظہر تھا ترکوں نے بھی اسے پایہ تخت بنایا اور خلافت عثمانیہ کی طاقت و شہرت کا نشان بنا دیا۔ جس طرح آیا صوفیہ کا گرجا، گریک آرتھوڈکس عیسائیت کی عظمت کا نشان تھا بالکل اسی طرح سلطان فاتح نے اسے مسجد میں تبدیل کر کے اسلام کی عظمت کا نشان بنایا اور یہ نشان 500 سال تک سلطنت فاتح کی یاد دلاتا رہا۔ آج ترک صدر رجب طیب اردوان یہاں نماز ادا کریں گے اور ایک بار پھر یہ مسجد اللہ کی کبریائی کے نعروں سے معمور ہو گی اور ترکوں کی عظمت اور جاہ و جلال کی یاد دلائے گی۔ دنیا کو ایک بار پھر یاد دلایا جائے گا کہ صرف اللہ ہی بڑا ہے، اللہ ہی حکمران ہے، دین تو صرف اسلام ہے سلامتی کا راستہ، کل یہ بات سلطان محمد فاتح نے دنیا کو بتائی تھی ا ٓج وہی بات رجب طیب اردوان بتا رہے ہیں۔ مرحبا یا سیدی۔

آیا صوفیہ بازنطینی ایمپائر کی عظمت اور سطوت کی علامت تھا جسے شہنشاہ جسٹنین نے چھٹی صدی عیسوری میں تعمیر کیا یہاں ایک عظیم الشان گریک آرتھوڈکس چرچ کی تعمیر بازنطینی عیسائی حکمرانوں کی مذہبی شان کا اظہار تھا اس مرکزی چرچ کے ذریعے یونانی، یوکرینی، روسی، البانوی، شمالی و جنوبی امریکہ، مغربی یورپ، نیوزی لینڈ، کوریا اور جدید یونان میں بسنے والے آرتھوڈکس عیسائیوں کی مذہبی تربیت اور تنظیموں کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ قسطنطنیہ جہاں یہ چرچ تعمیر کیا گیا تھا، عظیم رومی شہنشاہ قسطنطین اول نے 330 عیسوی میں بسایا اور اسے ”نیا روم“ قرار دے کر ترقی دی، اس دور میں اسے یورپ کے جدید ترین شہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ قسطنطنیہ اہل حرم کے لئے اس وجہ سے اہمیت کا حامل تھا کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فتح کرنے والوں کے لئے جنت کی بشارت دی تھی اس لئے تمام مسلم حکمرانوں کی یہ خواہش تھی کہ وہ اس شہر کے فاتح بنیں اور بشارت محمدیؐ کے مصداق قرار پائیں۔

عیسائی مختلف عقائد کی بنیادوں پر ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے تھے عہد وسطیٰ میں عیسائی دنیا مغربی رومن کیتھولک اور مشرقی آرتھوڈکس فرقوں میں بٹ چکی تھی 1054 میں دونوں فرقوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بھی بند ہو گیا جو 1965ء تک جاری ر ہا۔ اسی دور میں قسطنطنیہ مشرقی آرتھوڈکس چرچ کا ”کعبہ“ اور بازنطینی سلطنت کا پایہ تخت تھا بازنطینی شہنشاہ نے بھی یہاں آیا صوفیہ کی شکل میں عظیم الشان کیتھڈرل تعمیر کیا یہ شہر ناقابل رسائی اور نا قابل تسخیر سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ تین اطراف سے سمندر سے گھرا ہوا تھا جبکہ خشکی بھی نا ہموار تھی جسے پاٹ کر شہر پناہ تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔

مسلمانوں نے پہلی مرتبہ 674-78 عیسوی فتح قسطنطنیہ کے لئے مہم جوئی کی۔ حضرت امیر معاویہؓ نے ایک لشکر اس مہم کے لئے ترتیب دیا جس میں جلیل القدر صحابہ رسولؐ شریک تھے انہی میں میزبانِ رسولؐ ابو ایوب انصاریؓ بھی شریک تھے اس وقت ان کی عمر مبارک 80 برس کے قریب تھی لیکن بشارت نبیؐ کے مطابق وہ اس مہم میں شریک ہوئے یہ لشکر یہاں تک پہنچا محاصرہ بھی کیا لیکن شہر فتح نہ ہو سکا اسی دوران یہ صحابی وفات پا گئے اور انہیں ان کی وصیت کے مطابق شہر پناہ کے سائے میں دفن کر دیا گیا اور عیسائی حکمرانوں کو بتا دیا گیا کہ یہ صحابی رسولؐ کی قبر ہے اس لئے اسے نقصان نہ پہنچایا جائے ان کا مزار مبارک آج استنبول شہر میں ایوبی مسجد میں شان و شوکت سے قائم ہے اور مسلمانوں کی اولین مہم کی یاد دلاتا ہے۔

اس شہر کی فتح کے لئے دس مرتبہ حملہ کیا گیا لیکن یہ شہر فتح نہ ہو سکا۔ حتیٰ کہ ترکانِ عثمان کے ساتویں خلیفہ سلطان محمد ثانی نے (1432-81) اسے فتح کیا اور تاریخ میں سلطان محمد فاتح کے نام سے امر ہو گئے انہوں نے اس فتح کے بعد 12 ریاستیں اور 200 کے قریب شہر اور قلعے فتح کئے اور عثمانی سلطنت کو اس قدر مضبوط بنایا کہ وہ اگلے 500 سال تک قائم و دائم رہی۔ سلطان نے 55 روز تک اس شہر کا محاصرہ رکھا پھر خشکی اور بحری اطراف سے حملہ کر کے شہر فتح کیا۔ اس طرح یہ شہر محروصہ اور مفتوحہ کے ذیل میں آتا ہے مسلمانوں نے عیسائیوں سے لڑ کر یہ شہر حاصل کیا تھا اور اس دور کی روایات کے مطابق یہ شہر مسلمانوں کا ہوا۔ سلطان نے سب سے پہلے آیا صوفیہ میں جا کر یہاں فتح کے شکرانے کی نماز ادا کی۔ اس شہر میں قائم کسی عبادت گاہ کو تباہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی گرجے کو مسجد بنایا گیا حالانکہ فاتح کے طور پر انہیں ہر املاک پر تصرف کا قانونی و اخلاقی حق حاصل تھا سلطان نے صرف آیا صوفیہ کے گرجے کو جس کی صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت تھی، مسجد میں تبدیل کیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ سلطان نے گرجے کے پادریوں کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کیا اور انہیں ادائیگی کی۔ یہ تحریر اب بھی ترک حکومت کے پاس موجود ہے۔

حالانکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلطان کو گرجا گھروں و عبادت گاہوں پر مکمل تصرف کا حق حاصل تھا یہی وجہ ہے کہ جب جنگِ عظیم اول میں برطانوی، فرانسیسی، اٹالین اور یونانی افواج نے استنبول پر قبضہ کیا تو مسلمانوں نے آیا صوفیہ پر اپنا قبضہ برقرار رکھا حتیٰ کہ جب یونانیوں کے ایک گروہ نے یہاں اندر جا کر چرچ بیل لگانے کی کوشش کی تو عثمانی سپاہ نے انہیں پیچھے دھکیل دیا اور دھمکی دی اگر انہوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو وہ سارا سٹرکچر نذر آتش کر دیں گے۔ پھر 1934ء میں اس مسجد کو عجائب گھر میں تبدیل کر کے یہاں مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا تھا۔ آج 86 سال بعد، ایک بار پھر اسے اس کی اصلی حالت یعنی ”سجدہ گاہ“ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آیا صوفیہ کو 1453 میں گرجا گھر سے مسجد میں تبدیل کرنا رائج الوقت قوانین کے مطابق جائز تھا اور آج میوزیم کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنا، آئینی و قانونی ہی نہیں اخلاقی اور ہر لحاظ سے درست ہے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment