Home » 5 جولائی 1977 یوم سیاہ پاکستان کی تاریخ میں

5 جولائی 1977 یوم سیاہ پاکستان کی تاریخ میں

by ONENEWS

5 جولائی 1977 یوم سیاہ پاکستان کی تاریخ میں

پاکستان ایک خوبصورت ملک جو وسائل سے مالا مال ہے، ہر طرح کے باصلاحیت افراد کا سیلاب ہے، یہاں لوگوں کو فائدہ اٹھانے کے بہت سارے مواقع موجود ہیں۔ 1998 ء میں پہلی بار میں امریکہ گیا میں نے بہت سارے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ امریکہ مواقع کی سرزمین ہے۔ دنیا کے بہت سارے ممالک کو دیکھنے کے بعد اب میں محسوس کرتا ہوں اور دنیا بھر کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ پاکستان مواقع کی سرزمین ہے۔

1977ء کے دنوں میں، میرے والد ڈاکٹر جہانگیر بدر، پانچ سالوں سے پنجاب یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے لیکن اپنی جدوجہد کی وجہ سے سیاست میں بہت سرگرم تھے، انہیں قومی اسمبلی کے عام انتخابات کے لئے لاہور سے پاکستان پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دیا گیا تھا، آمر جنرل ضیاالحق کی وجہ سے معاملات جمہوری قوتوں کے بس سے باہر ہو رہے تھے۔ ایسی خفیہ قوتیں موجود تھیں جو پاکستان کو، عالم اسلام کا قائد، ایٹمی طاقت اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے قانون پر دستخط کرنے کے خلاف کام کر رہی تھیں۔ یہ قوتیں پہلے سے پوری طر ح سر گرم تھیں اور مارشل لا سے پہلے دنوں میں سیاسی سفارتکاری عروج پر تھی۔ 25 جون 1977 ء کو آخری وقت تھا جب پورے خاندان نے کچھ وقت اکٹھا گزارا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ طویل گفتگو کی۔

جنرل ضیاء نے 5 جولائی 1977 ء کو مارشل لاء نافذ کیا۔ 5 جولائی کی آدھی رات تھی مسٹر بھٹو راولپنڈی میں وزیر اعظم ہاؤس میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ تھے۔ ان کے ہمراہ اس وقت کے وزیر تعلیم جناب عبدالحفیظ پیرزادہ اور ان کے کزن جناب ممتاز علی بھٹو بھی تھے۔ اس کے بعد حالات بالکل بدل جاتے ہیں اور ان سب کو اپنی زندگی کے سب سے مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس خاندان میں پہلی مرتبہ جناب بھٹو کی گرفتاری تھی۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد مسٹر بھٹو کو گرفتار کیا گیا تھا اور منصفانہ کھیل کے نام پر حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا ان کو مری میں زیر حراست میں رکھا گیا تھا۔ کچھ اور رہنما بھی تھے جن کو تحویل میں لیا گیا جیسے جناب شیخ رشید، ڈاکٹر غلام حسین، جناب عبدالحفیظ پیرزادہ، مسٹر ممتاز بھٹو، جناب حامد رضا گیلانی، مسٹر کوثر نیازی، جناب غلام مصطفی کھر، جنرل ٹکا خان، مسٹر راؤ رشید، مسعود محمود اور دیگر بھی۔ ان میں سے کچھ کو ایبٹ آباد لے جایا گیا لیکن بعد میں مری لایا گیا جہاں مسٹر بھٹو کو صدر ہاؤس مری میں قید رکھا گیا تھا لیکن بیشتر قائدین نے مسٹر بھٹو کو چھوڑ دیا۔ مسٹر بھٹو یہ بھی جانتے تھے کہ وقت کے ساتھ ساتھ حالات اور بھی خراب ہوجائیں گے، اسی وجہ سے انہوں نے اپنی اہلیہ بیگم نصرت بھٹو کو پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نامزد کیا۔ پیپلز پارٹی، بیگم بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے یہ مشکل وقت تھا۔ بی بی اس وقت جوان تھیں اور انہیں پاکستانی سیاست کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

مسٹر بھٹو کو حکومت سے ہٹانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے دنوں میں دوبارہ مقبولیت حاصل کی۔ ان کی مقبولیت کو بے اثر کرنے کے لئے فوجی حکومت نے مسٹر بھٹو کو ایک سیاسی مخالف کے قتل میں مدد فراہم کرنے کی کوشش کے الزام میں پھر گرفتار کر لیا تھا۔ جنرل ضیا اپنا کام کررہے تھے وہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) کے مابین غیر جانبدار طاقت کے طور پر ظاہر کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ نوے دن کے اندر انتخابات کرائیں گے اور انتخابات کے انعقاد کے فورا بعد ہی بیرکوں میں واپس جائیں گے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے انتخابات ملتوی کردیئے اور مسٹر بھٹو کو پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ حراست میں لیا۔ اس نے اپنی فوجی حکومت کو قانونی حیثیت دی اور اپنی حکومت کی حفاظت کیلئے اضافی عدالتی اختیارات استعمال کیے۔

میرے والد شہید بھٹو کے ساتھ اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں تھے جب انہیں ستمبر 1977 ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ میرے والد کو اگست 1977 ء میں اس سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ پہلے سیاسی قیدی تھے جنھیں سمری ملٹری کورٹ نے سزا سنائی تھی اور مسٹر بھٹو کا استقبال کرنے کی وجہ سے ایک سال کی سزا کوڑوں کے ساتھ سنائی گئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو 8 اگست 1977ء کو لاہور پہنچنے پر ایک جلوس کے ساتھ لاہور ائیرپورٹ پر پہنچے تھے۔ وہ مسٹر بھٹو کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں لیکن میرے والد کے ان کی وابستگی سے دستبردار نہ ہونے کی وجہ سے کئی دوسرے رہنما ان کے نقش قدم پر چل پڑے اور اسی وابستگی، وژن اور نظریہ کے لئے کوڑے مارے گئے۔ پی پی پی کے کارکنوں اور ان کے کنبوں نے لاتعداد قربانیاں دی ہیں جو انمول ہیں۔ مسٹر بھٹو کو اسی سیل میں لایا گیا تھا جہاں وہ پھانسی سے پہلے بھی رکھے گئے تھا میرے والد کو جیل اسپتال کے قریب مخالف سمت دوسری طرف منتقل کردیا گیا تھا۔

یہ 1978 ء کے ابتدائی دن تھے کہ اچانک ایک دن جناب بھٹو اور میرے والد کی جیل کے بڑے دروازے کے قریب ملاقات ہوئی۔ میرے والد ڈسپنسری کے قریب کھڑے تھے جب مسٹر بھٹو نے انہیں دیکھا اور ان کو مسٹر بدر کہ کر بلایا کہ بات سنو، انہوں نے قدم بڑھایا اور قائد سے مصافحہ کیا انہوں نے کہا گلے لگ جاؤ،انھوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا اور یہ میرے والد کے لئے بہت ہی مختصر لیکن تاریخی ملاقات تھی۔ مسٹر بھٹو نے میرے والد سے کہا تھا کہ جب آپ جیل سے باہر جائیں تو بچی کے ساتھ کام کریں اور ان کی قیادت میں اس کا ساتھ دیں۔ میرے والد نے اس کی صحیح پیروی کی وجہ سے پوچھا کہ مسٹر چیئرمین آپ کا مطلب ہے کہ مجھے بیگم صاحبہ کا ساتھ دینا چاہئے؟ انہوں نے کہا نہیں میرا مطلب بے نظیر سے ہے۔ اگلا سوال میرے والد نے ان سے پوچھا کہ وہ ابھی سیاست میں نہیں ہیں۔ مسٹر بھٹو نے کہا دیکھو میں آپ کو بتا رہا ہوں اور یاد رکھنا کہ وہ پاکستان کی آئندہ رہنما ہوگی۔ مسٹر بھٹو نے میرے والد سے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا وعدہ لیا اور انہوں نے دونوں ہاتھوں سے گرمجوشی سے ہاتھ پکڑ کر ان سے وعدہ کیا۔ مسٹر بھٹو میرے والد کی وابستگی سے بہت مطمئن تھے کیونکہ وہ ان کی ماضی کی جدوجہد اور کردار کو جانتے تھے۔ اللہ تعالٰی کے فضل سے میرے والد نے اپنا وعدہ قبر تک قائم رکھا۔

تاریخ کا یہ سیاہ دن ہم سب کے لئے سبق ہے جس نے اس سے فائدہ اٹھا یا متاثر ہوا۔ جس دن کوئی بھی واقعہ یا حادثہ پیش آجاتا ہے اس دن کے اثرات کے بعد ہم اسے سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ ہم زندگی میں کبھی کبھی یا ایک بار اسے محسوس کرتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو سمجھنے اور سمجھنے کے باوجود، ہمارے پاس جو بھی سیاسی نظریہ ہے اس کے باوجود، اس دن نے آج تک ہم چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی ہم اس عمل کی وجہ سے متاثر ہیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں اور بہت ساری مغربی قوتیں اس کارروائی کے پیچھے تھیں جس کا اثر نہ صرف مسٹر بھٹو اور ان کے کنبہ پر پڑا بلکہ اور بہت سارے کنبے اس عمل سے متاثر ہوئے تھے اور آج تک اس کارروائی کے اثرات پر قابو نہیں پاسکے ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان ہمارے ملک ایک ترقی پسند پاکستان، جمہوریت اور ہمارے قومی اداروں کو ہوا۔ ہمارا ملک آگے کی طرف جارہا تھا اور اس کی پہچان بننے ہی والی تھی لیکن اسے اپنے ہی لوگوں نے برباد کیا جو ہمارے ہی ملک کے خلاف مغربی افواج کے کٹھ پتلی کے طور پر استعمال ہو ئے اور ان کی فائرنگ کا نشانہ آج بھی ہیں، دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان دو ایٹم بموں کے ناقابل تلافی نقصان سے متاثر ہوا تھا اور انہوں نے بطور قوم ہار نہیں مانی تھی جس کے نتیجے میں انہوں نے ریاستہائے متحدہ امریکہ اور باقی قوتوں سے انتقام لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے دنیا کے تمام ممالک میں معاشی رسائی کے معاملے میں دنیا سے انتقام لینے کے لئے منصوبہ بنایا اور عملی اقدامات اٹھائے۔ ہمیں جاپان سے بھی سبق حاصل کرنا چاہئے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے کام کرنے والی تمام اندرونی اور بیرونی قوتوں کے خلاف مل کر کام کرنا چاہئے۔ ہمیں بحیثیت قوم اپنی غلطیوں کا ادراک کرنا چاہئے، اپنے فیصلہ سازوں اور اداروں کی ان غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہئے اور اپنی نسلوں کے مستقبل کے لئے انھیں بہتر ماحول اور ملک دینے اور گروپوں کی بجائے ایک قوم کی حیثیت سے ابھرنے کے لئے منصوبہ بنانا چاہئے۔ مسٹر بھٹو نے اپنی جان دے دی لیکن اپنی عزت و احترام، اپنے اصولوں اور نظریے کو آنے والی نسلوں کے لئے سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ صحیح یا غلط، اچھے یا برے کا انتخاب کرنا سیکھنا اور سمجھنا ہم پر منحصر ہے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment