0

5 اگست اور سرینگر ہائی وے

5 اگست اور سرینگر ہائی وے

اصلی سرینگر ہائی وے تو وہ 295 کلومیٹر لمبی شاہراہ (NH-44) ہے جو جموں سے سرینگر جاتی ہے اور پچھلے 73 سال سے بھارت کے ناجائز قبضہ میں ہے، لیکن پاکستانی قوم کو مبارک ہو کہ عمران خان حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کا”اصلی تے وڈا“ فارمولا ڈھونڈ لیا ہے۔ 5 اگست کو اسلام آباد اور مری سے مظفر آباد جانے والی سڑک کا نام کشمیر ہائی وے سے تبدیل کرکے سرینگر ہائی وے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس دن مقبوضہ کشمیر، جموں اور لداخ پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ کو (اپنے طور پر) باضابطہ قرار دینے کا ایک سال مکمل ہو جائے گا۔ اس ”مجاہدانہ“ فیصلہ سے بھارت عالمی برادری میں ویسی تنہائی کا دوبارہ شکار ہو جائے گا جیسا ایک سال پہلے قبضہ کے وقت عمران خان نے ایک جمعہ کو آدھ گھنٹہ کے لئے قوم کو باہر سڑکوں پر باہرکھڑا کر کے کیا تھا۔ یہ معمہ آج تک جواب طلب ہے کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدام سے دو ہفتہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان کو 22 جولائی کو کیوں اچانک واشنگٹن طلب کرکے ”ثالثی“ کی گول مول پیشکش کی تھی اور اس کے بعد نریندر مودی نے وہ حرکت کی جس کی بھارت کو پچھلے 72 سال میں کبھی ہمت نہیں ہوئی تھی اور جس کے جواب میں ہمارا جواب محض ہومیو پیتھک بیان بازی تک محدود رہا تھا۔

البتہ قبضہ کے اگلے مہینہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان نے ایک مشہور تقریر ضرور کی اور عمران خان کے پرستاروں نے اتنی خوشیاں منائی تھیں جیسے بس اسی ایک تقریر کی دیر تھی ورنہ کشمیر کب کا آزاد ہو چکا ہوتا۔ ہو سکتا ہے اس سال بھی اگلے مہینہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں وزیر اعظم ایک اور مشہور زمانہ تقریر کر ڈالیں اور اس میں بھی وہ اپنا ”عمرانی“ تاریخ اور جغرافیہ بیان کریں اور ان کے پرستار اسی طرح دادو تحسین کے ڈونگرے برسائیں۔ ایک زمانہ تھا جب برطانوی وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل کی تقریروں کا طوطی بولتا تھا لیکن اس کے پیچھے ان کی پرفارمنس بھی تھی۔چرچل نے دوسری جنگ عظیم میں شکست کو فتح میں تبدیل کیا تھا اور ایک نیم مردہ قوم میں نئی جان اور تباہ حال قوم کو دوبارہ کھڑا کیا تھا۔ عمران خان کی تقریروں کا حوالہ دینا خالی ٹین ڈبہ بجانے جیسا ہے یعنی تقریریں ہی تقریں، کارکردگی زیرو۔معیشت بیٹھ گئی ہے، گوورننس تباہ حال اور عوام بدحال ہو چکے ہیں۔ملک میں اس وقت مافیاز کا راج ہے۔

ان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے پاکستان جس مقام پر تھا، ہر لحاظ سے اب اس سے بہت نیچے جا چکا ہے اور سنجیدہ حلقوں میں یہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ کیا پاکستان اس بات کا متحمل ہو سکتا ہے کہ اسے تین سال مزید عمران خان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ سائنسی اصول ہے کہ کوئی تجربہ ناکام ہونے کی صورت میں اسے بلا وجہ طول نہیں دیا جاتا۔پاکستان کے ان حالات نے نریندر مودی اور اس کے سرپرستوں نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کا حوصلہ مزید بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے وہاں ان کے ظلم و ستم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

عمران خان حکومت کے پہلے سال میں ہی بھارت نے موقع غنیمت جانتے ہوئے گذشتہ سال 5 اگست کو اقوام متحدہ، بین الاقوامی قوانین اور شملہ معاہدہ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جموں، کشمیر اور لداخ کو باضابطہ طور پر ہڑپ کر لیا تھا۔ مودی سرکار نے تمام مقبوضہ علاقوں پر سخت کرفیو کے ساتھ لاک ڈاؤن لگا دیا۔ اگر کوئی اپنے بچوں کے لئے دودھ یا دوا لینے نکلا تو اسے بھی گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بھارتی فوجیوں نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو زبردستی گھروں سے اٹھا لیا اور درندوں نے لاتعداد گھریلو خواتین کی عصمت دری کی۔ بھارتی مقبوضہ علاقوں میں روا رکھے گئے مظالم اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں جو پچھلے 72 سالوں میں اسرائیلیوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کئے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کی سٹریٹجک پارٹنرشپ کو امریکی سرپرستی حاصل ہے اور پاکستان ان کا خاص نشانہ ہے۔ گذشتہ برس 5 اگست سے پہلے ہی تمام مقبوضہ علاقوں میں ٹیلی فون، موبائل اور انٹرنیٹ غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دئیے، پارلیمنٹ ممبران، غیر ملکی مبصرین اور میڈیا سمیت کسی کو بھی وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی، حتی کہ کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی اور دوسرے اہم راہنماؤں کو بھی ائرپورٹ سے واپس بھیج دیا گیا۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات نریندر مودی کا وہ شیطانی منصوبہ ہے جس کے تحت مقبوضہ جموں، کشمیر اور لداخ کی demography تبدیل کرکے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے قوانین کا نفاذ ہے۔ بھارت کی دوسری ریاستوں کے شہریوں کو جموں کشمیر کی شہریت دی جا رہی ہے اور اس کا آغاز ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو آئی اے ایس افسرکو کشمیر کی شہریت دینے سے کیا گیا۔ اس کے بعد سے دوسرے بھارتی علاقوں کے لوگوں کو کشمیر کی شہریت دینے، انہیں پراپرٹی خریدنے، کشمیری خواتین سے زبردستی شادیاں کرنے اور مسلمان کشمیریوں کو بے دخل کرنے کے منصوبوں پر تیزی سے عمل ہو رہا ہے۔ یہ سب کچھ ویسا ہی ہے (مکمل فوٹو کاپی) جو اسرائیل 1948 سے فلسطین میں کر رہا ہے۔

جب تک قائد اعظم زندہ رہے، وسائل اور فوج کے نہ ہوتے ہوئے‘اور اپنی زندگی کے آخری اور نحیف ایام کے باوجود انہوں نے کشمیر واپس لینے کی جدو جہد کی اور کچھ حصہ آزاد کرا لیا۔ اگر قدرت مہلت دیتی تو فولادی ارادے رکھنے والے قائد اعظم ابتدائی سالوں میں ہی پورا جموں کشمیر آزاد کروا لیتے۔ بعد میں آنے والی حکومتیں کشمیر کی آزادی کے سلسلہ میں وہ عزم، ہمت اور حوصلہ نہ دکھا سکیں جو چھ گنا بڑے دشمن کو زیر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے اور یوں رفتہ رفتہ مسئلہ کشمیر پر ہماری گرفت کمزور ہوتی گئی۔ سویلین حکمرانوں کی بجائے فوجی حکمرانوں نے زیادہ کمزوری دکھائی، فیلڈ مارشل ایوب خان نے سندھ طاس معاہدہ کے تحت تین مشرقی دریا بھارت کو دے دئیے اور جنرل پرویز مشرف آگرہ میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے کمزور سودے بازی کی کوشش کرتے رہے جس کے نتیجہ میں کشمیر پر ناجائز بھارتی قبضہ کو بین الاقوامی آئینی حیثیت حاصل ہو جاتی۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ کشمیر جنرل مشرف کے ”آگرہ ویژن“ کی نذر نہیں ہوا، البتہ ایوب خان کے غلط معاہدے کی وجہ سے کشمیر سے آنے والے تمام دریاؤں پر بھارت کا کنٹرول ہنوز جاری ہے اوروہ دریاؤں سے متعلق عالمی قوانین کی پاسداری کرنے سے بھی انکاری ہے۔

پاکستان کو کسی بھی صورت کسی بھی فارمولہ سے گریز کرتے ہوئے کشمیر کی مکمل آزادی تک اپنی جنگ جاری رکھنا ہے۔ پاکستان نے تین مرتبہ کشمیریوں کو بھارتی قبضہ سے چھڑانے کی عملی طور پر کوشش کی۔پہلی دفعہ 1948 میں کافی کامیابی بھی ہوئی لیکن شیخ عبداللہ کی غداری اور قائد اعظم کی رحلت کی وجہ سے مشن پورا نہ ہو سکا۔ دوسری دفعہ 1965 میں آپریشن جبرالٹر اور تیسری دفعہ 1999 میں کارگل میں کوشش کی گئی لیکن غدار لیڈروں (جیسے عبداللہ اور مفتی خاندان وغیرہ) اور مقامی عوام کے ساتھ نہ دینے کی وجہ سے کامیابی نہ ہو سکی۔ کشمیری عوام کو ان کے نام نہاد لیڈروں کی غلطیوں کی سزا 5 اگست کی صورت میں مل رہی ہے لیکن پاکستان اور کشمیریوں کو اپنے ماضی سے جان چھڑا کر کامیاب اور شاندار مستقبل کی داغ بیل ڈالنا ہے۔

کشمیر جمعہ کے دن آدھ گھنٹہ باہر سڑک پر کھڑے ہونے اور ہارن بجانے سے آزاد نہیں ہو گا اور نہ ہی کسی سڑک کا نام تبدیل کرنے سے۔ اس کا واحد حل کشمیر کو بھارتی قبضہ سے چھڑانا ہی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کبھی انصاف پر مبنی فیصلے نہیں کریں گے۔ پاکستان اور کشمیریوں کو اپنا حق اپنے زورِ بازو سے لینا ہو گا۔ ہمیں لداخ میں بھی چین کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنا لداخ واپس لینا ہے۔ عام تصور کے برعکس (بدھ اکثریت) لداخ میں بھی سب سے زیادہ تناسب مسلم آبادی کا ہے کہ وہاں مسلم 46 فیصد اور بدھ 40 فیصد ہیں۔ نریندر مودی اور اس کے انتہا پسند ساتھیوں نے سیکولر بھارت کو ہندوتوا انتہا پسندی میں دھکیل کر بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ پاکستان کو اپنے اٹل موقف پر اس وقت تک قائم رہنا ہے جب تک بلقانائزیشن کا شکار ہو کر بھارت کشمیر سے بھاگ نہیں جاتا۔ اس دوران ہمیں اپنی تمام توجہ پاکستان کو ناقابل تسخیر اور انتہائی مضبوط اقتصادی اور عسکری طاقت بنانے پر رکھنا ہوگی۔

ہمیں سیاسی تجربات سے جان چھڑا کر سسٹم، حقیقی جمہوریت اور معیشت کو مضبوط بناکر ایک عالمی طاقت بننا ہو گا۔ مظفر آباد جانے والی سڑک کا نام سرینگر ہائی وے رکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں اصل سرینگر ہائی وے (NH-44) واپس لینا ہے اور وہ ہم انشا اللہ لے کر رہیں گے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک چینل ڈپلومیسی کی کوششیں ہو رہی ہیں اور دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر ان کوششوں سے با خبر ہیں۔ حکومت کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ پاکستانی اور کشمیری قوم کسی قسم کی کوئی سودے بازی قبول نہیں کرے گی۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں