0

2020ء میں چینی افواج کی پیشہ ورانہ کامیابیاں

2020ء میں چینی افواج کی پیشہ ورانہ کامیابیاں

تین روز پہلے کالم میں عرض کیا تھا کہ عسکری میدانوں میں اتنی تیزی سے ڈویلپ منٹس ہو رہی ہیں کہ ان کو اردو زبان میں ورطہ ئ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔ ایک تو پیشہ ورانہ اصطلاحات کے اردو ترجمے کا مسئلہ ہے،لیکن اس سے بھی مشکل مسئلہ ان اصطلاحات کی تشریح ہے۔ اس لئے میں نے کہا تھا کہ میں عسکری موضوع پر کالم(یا مضمون) لکھتے ہوئے انگریزی اصطلاحات کو اردو میں املا کر دیا کروں گا۔ جو قارئین ان اصطلاحات کی تشریح جاننا چاہیں وہ ان کو اپنے سمارٹ فون پر مل جائے گی،کسی بھی اصطلاح کو گوگل کریں اور اس کے معانی و مفہوم کی جانکاری لے لیں۔

جو قارئین انگریزی سے کم آگاہ ہیں ان کی مشکل کا کوئی حل نہیں۔ ہم نے اقتصادیات اور دفاع پر اردو زبان میں کچھ زیادہ مواد تصنیف نہیں کیا۔ راقم نے بعض ملٹری کلاسک کا اردو میں ترجمہ کیا ہے لیکن ان تراجم کی تعداد بہت ہی کم ہے۔جب تک حکومتی سطح پر اس طرف توجہ نہیں دی جائے گی یہ مشکل نہ صرف باقی رہے گی بلکہ بڑھتی چلی جائے گی۔

سطورِ ذیل کے اولیں حصے میں چینی صدر شی کے ایک خطاب کو اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس میں بظاہر کوئی مشکل عسکری اصطلاح تو استعمال نہیں کی گئی،لیکن چین نے حکومتی اور فوجی سطح پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا ہے۔انڈو چائنا ملٹری سٹینڈ آف کا تذکرہ جس طرح آج کا بھارتی میڈیا کھل کر کر رہا ہے، چین اس سے گریزاں ہے۔اس نے صرف اشاروں کنایوں میں بات کی ہے۔

چین اب دُنیا کی ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے اور اس لئے اس کا میڈیا اپنی زبان اور اپنے بیانیئے کو سٹرٹیجک معیار کی ڈکشن میں ملفوف کر کے پیش کرنے کی راہ پر گامزن ہے، اس نے لداخ، دولت بیگ اولدی، وادیئ گلوان، جھیل پاگونگ اور اقصائے چین وغیرہ کا نام لینے کے بجائے صرف ”مغربی چین“ کی اصطلاح استعمال کی ہے جبکہ انڈین میڈیا آج بھی دن رات نقشوں کی بھرمار کر کے ان پر صف بند چینی فورسز کو یوں دکھا رہا ہے جس طرح دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی ہے۔

چین نے اپنے بیانیے میں رافیل طیارے کا نام نہیں لیا۔ صرف اپنےJ-20 کا نام لیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا انجن وہ خود بنا چکا ہے، جبکہ انڈیا، رافیل کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے کہ جیسے آئندہ کسی بھی انڈو پاک یا انڈو چائنا فضائی جنگ یا جھڑپ میں انڈین ائر فورس (IAF) فضاؤں میں اپنی کلی برتری برقرار رکھے گی!

رافیل کے بارے میں مزید معلومات و اطلاعات انشاء اللہ اگلے کالم میں …… فی الحال چین کے صدر کا خطاب اور اس کیٖPLA کی وہ کامیابیاں جو2020ء میں اواخر جولائی تک دُنیا کے سامنے آ چکی ہیں۔ یہ سب کچھ چین کا اپنا ساختہ ہے، جبکہ انڈیا کے  ٹی90 اور ٹی72 وغیرہ رشین،C-17  اورC-130J اور چینوک وغیرہ امریکی اور رافیل وغیرہ فرانسیسی ساختہ ہیں!

چین کے صدر اور چائنا پولیٹکل کمیٹی (CPC) کے جنرل سیکرٹری شی جن پنگ نے قومی دفاع اور مسلح افواج کو جدید خطوط پر ڈھالنے پر زور دیا ہے۔وہ چند روز پہلے (29جولائی کو) CPC کی سنٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے سٹڈی سیکشن کے ایک گروپ سے خطاب کر رہے تھے۔

چینی سوشلزم کی اپنی مخصوص روایات و خصوصیات ہیں اور انہی خصوصیات کو مد ِنظر رکھتے ہوئے صدر شی نے اپنی قوم کی تعمیر نو پر زور دیا اور ملک کی سلامتی اور ترقی پر فوکس رکھتے ہوئے کہا کہ یہ سلامتی اور تعمیر و ترقی، ملک کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ چلنی چاہئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر ملک کی اپنی قومی اور سٹرٹیجک ضروریات ہوتی ہیں۔ اور قومی دفاع اور مسلح افواج کو جدید خطوط پر ڈھالتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ یہ سلامتی و ترقی، سٹرٹیجک تقاضوں کے عین مطابق ہو، اسی لئے چائنا پولیٹکل کمیٹی ہمیشہ سے قومی دفاع کو مضبوط بنانے اور ملٹری فورسز کو پاور فل بنیادوں پر اٹھانے کے لئے کوشاں رہی ہے۔

صدر شی نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا:

”2020ء کا یہ سال ہمارے لئے ایک اہم سال ہے۔ہم نے اسی برس کے لئے قومی دفاع کو مضبوط بنانے اور اپنی مسلح افواج کو قوی تر بنیادوں پر ڈھالنے کا جو ہدف مقرر کیا تھا مجھے امید ہے کہ سال کے اختتام پر ہم اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس سلسلے میں ترقی کے حصول کے لئے اگلے مرحلے پر گامزن ہو کر اپنی افواج کو ایک ورلڈ کلاس فورس میں تبدیل کر دیں گے۔ آج کی دُنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہی  ہے۔ یہ تبدیلیاں اس صدی کی اَن دیکھی تبدیلیوں میں شامل ہیں۔ انٹرنیشنل منظر نامے پر  کووڈ19- کی عالمی وبا اپنے دور رس ثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس وجہ سے چین کی سلامتی کی صورتِ حال کو انجانے چیلنجوں کا سامنا ہے اور سر اٹھاتی انہونیاں اور ایسے عناصر سامنے آ رہے ہیں جو قوم اور ملک کو عدم استحکام کا شکار کر سکتے ہیں۔چین کا14واں پنج سالہ پلان (2020ء تا2025ء) ہمارے سامنے ہے۔ اس میں ہم نے اپنی افواج کو مزید طاقتور بنانا اور اسے ایک سائنسی روڈ میپ پر استوار کر کے اس کی پیشہ ورانہ اہلیتوں اور صلاحیتوں کو نکھارنا ہے“۔

پولیٹکل پارٹی، دوسرے ریاستی اداروں، پارٹی کمیٹیوں اور مقامی سطح کے محکموں میں دفاع کا شعور اجاگر کرنے اور مسلح افواج اور قومی دفاع کو مضبوط تر بنانے کی تاکید صدر شی نے بار بار کی۔ اس خطاب کے دو روز بعد یکم اگست2020ء کو چین کی پیپلز لبریشن آرمی (PLA) نے اپنے قیام کی93 ویں سالگرہ بھی منائی۔

یہ سال2020ء گزشتہ برسوں کے مقابلے میں PLA  کے سخت ترین امتحان کا سال تھا۔ پیپلز لبریشن آرمی نے نہ صرف کووڈ19-کی وبا کا مقابلہ کیا، خوفناک سیلابوں سے اس کا واسطہ پڑا بلکہ کئی ممالک کی طرف سے فوجی خطرات(Threats) کا بھی سامنا ہوا۔ یہ خطرات (تھریٹس) ساؤتھ چائنا سی، آبنائے تائیوان اور چائنا  انڈیا  بارڈر پر تھے۔

وزارت قومی دفاع نے اپنی ماہانہ کانفرنس میں جو اسی روز(29جولائی) کو منعقد کی گئی، یہ بتایا گیا کہPLA نے کووڈ19- سے عہدہ برآ ہونے کے بعد سیلابوں کا بھی بڑی کامیابی سے مقابلہ کیا اور ان پر قابو پایا اور چین کے طول و عرض میں پھیلے3749 مقامات پر 720,000 فوجی جوانوں اور افسروں کو اس ڈیوٹی پر مامور کیا کہ وہ سیلابوں کو کنٹرول کریں۔…… یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ جس پر حکومت نےPLA کے افراد کو قومی اعزازات سے بھی نوازا۔

سال2020ء میں سیلابوں اور کووڈ19- جیسے غیر عسکری مشنوں کے علاوہ PLA نے کئی ملٹری چیلنجوں کا بھی بھرپور مقابلہ کیا۔ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا، اس سلسلے میں تین علاقوں کا ذکر ضروری ہے۔…… ایک تو انڈیا کے ساتھ سرحدی کشیدگی تھی،…… دوسرے تائیوان میں امریکی اشتعال انگیزی ملٹری حرکات (Moves) تھیں …… اور تیسرے امریکی ملٹری کی ساؤتھ چائنا سی میں ملٹری موومنٹ(Movements)تھی۔

PLA نے مغربی چین کی سرحد سے ملحق بلند ارتفاعی علاقوں میں ایسی جنگی مشقیں کیں جن میں ہزاروں ٹروپس اور جدید ہتھیار استعمال کئے  گئے۔اس کے علاوہ تائیوان میں جنگی طیاروں کی گاہے بگاہے متعدد اڑانیں بھری گئیں اور ساؤتھ چائنا سی میں کئی فضائی ایکسر سائزوں میں حصہ لیا۔

یہ سال(2020ء) اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اس میں بین الاقوامی صورتِ حال بڑی تیزی سے تبدیل ہوئی۔لیکن اس کے باوجودPLA نے نہ صرف یہ کہ قومی سلامتی اور علاقائی یکجہتی برقرار رکھی، بلکہ ایسے اقدامات بھی اٹھائے جن سے ملک کسی جنگ کی دلدل میں نہ پھنسا۔…… یہ سال اگرچہ کووڈ19- کی وبا کا سال تھا،پھر بھی چین کی افواج نے ہتھیاروں اور جنگی سازو سامان کی ڈویلپ منٹ میں بھی بطور خاص بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔12جنوری 2020ء کو چین کا پہلا10ہزار ٹن ڈسٹرائر کمیشن کیا گیا جس میں 055 ٹائپ کے گائیڈڈ میزائل نصب تھے۔ جنوری کے بعد کے مہینوں میں اس تباہ کن بحری جہاز پر عملے  کی ضروری پروفیشنل ٹریننگ کی گئی اور اس کی بڑی (Main)گن کی فائرنگ کے ٹرائل بھی انجام دیئے گئے۔

22اپریل2020ء کو چین نے اپنا دوسرا (Amphibious) اسالٹ شپ شنگھائی کی بندرگاہ میں لانچ کیا۔ پہلا (Amphibious)  ستمبر2019ء کو لانچ کیا گیا، تھا اب وہ جلد ہی اپنے پہلے آزمائشی  سمندری سفر پر روانہ ہونے کے لئے تیار ہے۔

جولائی2012ء میں چین نےH-6  بمبار طیارہ اڑایا۔ اس میں ایسے اینٹی شپ میزائل نصب ہیں جن کی رفتار آواز کی رفتار سے تیز تر ہے اور اس کی کمبٹ رینج بھی خاصی طویل ہے، اور جہاں تک گراؤنڈ فورسز کا تعلق ہے تو چین نے2019ء میں نیشنل ڈے ملٹری پریڈ میں اپنے ہلکے ٹینک(PCL-181)کا مظاہرہ کیا تھا اور تماشائیوں سے داد وصول کی تھی۔

چین ہر چھ ماہ بعد اپنے ہاں ایک ائر شو (Air Show)  منعقد کرتاہے۔ اس سال کا دوسرا ائر شو نومبر2020ء میں شیڈول ہے جس میں چین اپنے اس سٹیلتھ فائر جیٹ کا تازہ ترین ماڈل پیش کرے گا جس کا نام J-20 رکھا گیا ہے۔ اس کا مقابلہ اُس رافیل طیارے سے کیا جا رہا ہے جو گزشتہ ہفتے فرانس سے انڈیا پہنچا اور اسے انبالہ ائر بیس پر لینڈ کروا کر سیدھا لداخ کے کسی مستقر پر بھیج دیا گیا ہے۔ اس J-20 طیارے کی سب سے اہم خبر یہ ہے کہ اس کا انجن، خود چین نے ڈویلپ کیا ہے۔ قارئین کو یہ بتانا بھی شائد ضروری ہے کہ چین کا اس سال کا دفاعی بجٹ 180 ارب ڈالر ہے، جبکہ انڈیا کا66 ارب ڈالر ہے۔ …… آگے آپ خود سمجھ دار ہیں!

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں