Home » یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا

یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا

by ONENEWS

یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا

حکومت اور اپوزیشن کے مابین کورونا وائرس پر لڑائی شروع ہو گئی ہے، ایک کہتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا خطرناک ہے اور اس سے بچاؤ کا واحد حل یہ ہے کہ اپوزیشن اپنی حکومت مخالف تحریک کی دیگ کو آگ سے اتار کر رکھ دے اور دوسرا فریق کہتا ہے کہ اب جبکہ چاولوں کو دم آنے والا ہے، وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ اسے مناسب آگ کی آنچ نہ ملے۔ ایسے میں عوام یقینی طور پر دیگ کے تیار ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور گھٹنوں کے بل دونوں ہاتھ انہی گھٹنوں پر رکھے دیگ کے اترنے کے انتظار میں ہیں۔ چنانچہ ایک ایسی صورت حال میں جب عوام کی ایک بڑی تعداد اپوزیشن کے پنڈال میں جمع ہے، کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو تماشہ موقوف کرکے گھر بیٹھ جائے۔ ایسے میں تو اپوزیشن قیادت بے خطر آتش نمرود میں کود پڑنے کو تیار ہوگی، یہ تو پھر کورونا وائرس ہے جس سے بچاؤ کا واحدطریقہ یہ ہے کہ جونہی علامات ظاہر ہوں، خود کو چودہ دن کے لئے آئسولیٹ کرلیں، اللہ اللہ، خیر سلہ!

ویسے بھی اگر عمران خان 126دن خالی کرسیوں سے خطاب کے نام پر دھرنے کی تحریک بپا کرکے ایک بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں تو پی ڈی ایم تو پھر بھی ہزاروں لاکھوں کے جلسے منعقد کر رہی ہے۔ اگر اسے عوام کی ایک بڑی آڈیئنس سننے اور دیکھنے کو مل رہی ہے تو اس کو کیا پڑی ہے کہ وہ کورونا وائرس سے ڈر جائے۔ ہماری اپوزیشن کے کچھ اکابرین سے بات ہوئی اور ہم نے سیدھا سوال داغا کہ کیا آپ کو کورونا سے ڈر لگتا ہے؟ تو ان کا بغیر کسی لگی لپٹی کے ایک حرفی جواب تھا کہ ’نہیں‘!ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بدترین کورونا وائرس کے حملے کے دوران امریکہ میں عام انتخابات منعقد ہو سکتے ہیں اور وہاں کے لیڈر احتیاطی تدابیر اختیار کرکے انتخابی مہم چلا سکتے ہیں تو پاکستان میں ایسی کوئی ایکٹویٹی کیوں نہیں ہو سکتی؟ کچھ نے تو ہنستے ہوئے یہ بھی کہا کہ جب بہت سارے لوگ ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں تو کورونا وائرس ان کے درمیان دب کر رہ جاتا ہے اور اسے اپنی کاروائی دکھانے کا موقع نہیں ملتا ہے، اس لئے وہ جلسے جلوسوں سے باز نہیں آئیں گے۔  ویسے بھی کل ملا کر پی ڈی ایم کے دو تین ہی تو بڑے جلسے رہ گئے ہیں،  اس کے بعد تو دما دم مست قلندر شروع ہو جائے گا اور اسلام آباد کی کھلی سڑکوں پر پی ڈی ایم جماعتوں کے کارکن سارا دن ایک دوسرے سے چھے فٹ کے فاصلے پر دھوپ سینکا کریں گے اور شام کو جلسہ منعقد کرکے اپنے اپنے خیموں میں سو جایا کریں گے۔

اس لئے حکومت کو ایسی کاروائیاں نہیں کرنی چاہئیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہو کہ اس کی سانسیں پھولی ہوئی ہیں، اوسان خطا ہیں اور ٹانگیں لرز رہی ہیں۔ اس کے برعکس اسے پوری متانت اور سنجیدگی سے کورونا وائرس سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم سطح پر رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ معاملہ یہ ہے کہ اس وقت تک حکومت کی جانب سے وہ متانت اور سنجیدگی دیکھنے کو نہیں ملی ہے، کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے کیونکہ حکومت کا جہاں زور چلتا ہے، وہاں چلاتی نظر آتی ہے اور جہاں تاجروں اور لوگوں کا زور چلتا ہے وہاں پیچھے ہٹتی نظر آتی ہے۔ اگر حکومت اس کو ایک پالیسی کے طور پر اعلان کردے کہ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا اور کسی کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی تو ایسے میں اگر اپوزیشن والے سڑکوں کو گرم کریں گے تو سارا پاکستان اوئے توئے کرے گا اور اپوزیشن کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا کہ وہ اپنا گیند بلا لے کر گھروں میں دبکے رہیں کہ جب بازار کھلیں گے، لوگ گھروں سے نکلیں گے تو وہ بھی اپنا رنگ جما ئیں گے۔ لیکن اگر ایسا ہوگا کہ بازار، مارکیٹیں، فیکٹریاں اور شادی ہال کھلے رہیں گے تو ٹی وی چینلوں کے پروگراموں کے ذریعے اپوزیشن کو روکنا ممکن نہ ہوگا۔

اگر حکومت اپوزیشن کو آئندہ دنوں اور مہینوں میں جلسے جلوسوں کے انعقاد سے روکنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو کیا اس سے ملک کے اندر بے چینی اور عوامی بے قراری کو قرار آجائے گا، کیا مہنگائی،بے روزگاری اور کم آمدن کے ستائے ہوئے عوام چین کی نیند سو سکیں گے، کیا وہ حکومت کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی نہیں کوسیں گے؟ کیا وہ خودکشیوں کو ترجیح نہیں دیں گے؟ پارلیمانی نظام میں اپوزیشن کو دبا کر، دھونس دھاندلی سے نیچا دکھا کر حکومتیں نہیں ہوسکتی ہیں۔ پارلیمانی نظام میں ایک فعال اور متحرک اپوزیشن ہی گڈ گورننس کی ضمانت ہوتی ہے، جہاں اپوزیشن ڈھیلی ڈھالی ہوتی ہے وہاں اسٹیبلشمنٹ کو اس کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانا پڑتی ہے جیسا کہ 2014کے دھرنے کے دوران ہوا تھا اور آج تک پاکستان تحریک انصاف کو یہ طعنہ سننا پڑرہا ہے کہ وہ الیکٹڈ نہیں سلیکٹڈ حکومت ہے۔ اس کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کا نظام سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور نظام سے اعتبار اٹھنے کا مطلب ریاست سے اعتبار اٹھنے کے برابر ہوتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ بھی جلد ازجلد اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ موجودہ نظام کے تحت مملکت پاکستان کو چلانا ممکن نہیں رہا ہے۔ اس کے لئے ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے اور اگر ایک بڑا عمرانی معاہدہ ممکن نہیں ہے تو کم از کم 1973کے دستیاب عمرانی معاہدے میں ضروری ردوبدل کو یقینی بنایا جائے۔ان کیلئے اس سے بڑھ کر اطمینان کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ اپوزیشن ان کے اقتدار کے پیچھے نہیں پڑی ہے بلکہ ان کے پیچھے پڑی ہے جو انہیں اقتدار میں لائے ہیں۔ مگر کیا کریں۔

محبت کے لئے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں

یہ وہ نغمہ ہے  جو  ہر  ساز  پر  گایا  نہیں جاتا

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment