Home » یہ سب کرسی کا چکر ہے

یہ سب کرسی کا چکر ہے

by ONENEWS

پی ڈی ایم کی تحریک کے ساتھ ہی حکومت کو عوام کی یاد ستانے لگی ہے۔ آئے روز ترقیاتی کاموں کے اعلانات ہورہے ہیں، جو ابھی تک کاغذوں تک ہی محدود ہیں۔ کہتے ہیں حکومت عوام کیلئے ماں کی طرح ہوتی ہے جو بچے کی ہر جائز خواہش پوری کرتی ہے اور بچے کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونے دیتی۔خود تکلیفیں برداشت کر لیتی ہے مگر بچے کو ہر تکلیف سے محفوظ رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات بچے کی جان بچانے کیلئے اپنی جان تک کی قربانی دے دیتی ہے۔ بچے کیلئے ماں سے بڑا ہمدرد اور محفوظ رشتہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہماری حکومت ہے تو عوام کی ماں ہی مگر حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سوتیلی ماں ہے۔سوتیلی ماں کو جیسے سوتیلے بیٹے کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی یا پیار محبت نہیں ہوتا۔ یہی کچھ اس وقت ہماری حکومت عوام کے ساتھ کررہی ہے۔ الیکشن کے دور میں تو یہی لیڈرز زبانی طور پرتو عوام کیلئے جانیں تک قربان کرنے، ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دینے کی باتیں کرتے ہیں لیکن جب یہ اقتدار حاصل کر لیتے ہیں تو پھر عوام اور حکمران دو علیٰحدہ علیٰحدہ مخلوق شمار ہوتی ہیں اور یہی لیڈر عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ تک چھیننا پڑے تو چھین لیتے ہیں۔مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ غریب عوام کے لئے دو وقت کی روٹی کھانا بھی مشکل تر ہوگیا ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں چینی بھی درآمد کرنا پڑی اور پنجاب کو چینی کی ٹرانسپورٹ کے اخراجات  کی مد میں 23کروڑ روپے کا ٹیکہ لگا دیا گیا ہے۔

ایک طرف حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہے تو دوسری طرف عوام کا دل بہلانے کے لئے احتساب، احتساب کا راگ الاپ رہی ہے۔ لیکن احتساب کہیں نظر نہیں آ رہا۔ حکومت نے جن کے احتساب کے  نام پر ووٹ لیا، وہ تو باہر بیٹھے ہیں پھر احتساب کس کا ہو رہا ہے سمجھ سے باہر ہے۔ یہ سب سیاسی شعبدہ بازی ہے۔  ابھی تک کسی سے  کچھ ریکوری نہیں ہوئی الٹا حکومت ان کیسوں پر خزانے سے کروڑوں لگا چکی ہے اور اپوزیشن کے احتساب کی ہی رٹ لگا رکھی ہے، جبکہ اپوزیشن کہتی ہیں انہیں صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ احتساب یک طرفہ  ہے۔ جو صرف اپوزیشن  کا ہی ہو رہا ہے۔

اس وقت پی ڈی ایم بھی ہاتھ دھو کر حکمرانوں کے پیچھے پڑی  ہے۔ وہ حکومت اور حکومتی کارکردگی پر صبح شام اعتراضات کے پہاڑ کھڑے کر دیتے ہیں۔ ان کی نظر میں حکمرانوں نے اچھے بھلے ترقی کرتے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق حکمرانوں کو فوری طور پر گھر بھیج دیا جائے اور حکومت انکے حوالے کی جائے کیونکہ موجودہ حکمران جمہوریت سے واقف ہیں نہ ہی وہ جمہوریت پر عمل کررہے ہیں۔اگر جمہوریت بچانی ہے تو موجودہ حکمرانوں سے جان چھڑانی ہوگی۔ مولانا صاحب کی بے چینی اور حکومت کیخلاف اعتراضات سمجھ آتے ہیں کیونکہ مولانا صاحب کی حالت اسوقت ماہی بے آب والی ہے۔ جہاں تک بلاول صاحب کا تعلق ہے وہ پڑھے لکھے نوجوان ہیں اور جمہوریت اور حکمرانوں کی خامیوں پر تقریریں کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے وہ وقت سے پہلے وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ان کی پارٹی بارہ برسوں سے سندھ میں بر سر اقتدار ہے لیکن صوبے کا برا حال ہے۔

ہماری موجودہ حکومت عوام کے ساتھ بڑے بڑے وعدے کر کے پہلی دفعہ اقتدار میں پہنچی ہے۔لوگوں کا جناب عمران خان پر اعتماد تھا۔ عمران خان نے ملک میں تبدیلی لانے کی بات کی۔ ملک سے کرپشن ختم کرنے کی بات کی۔ ملک کو لوٹ کر کنگال کرنے والوں سے پیسہ نکلوانے کی بات کی۔ قرض لیکر معاف کرانے والوں سے یہ پیسہ واپس لینے کا وعدہ کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کیلئے زندگی سستی اور پرسکون بنانے کی بات کی لیکن شاید ہم عوام کی قسمت میں ہی کوئی خرابی ہے۔جو بھی سیاستدان سامنے آتا ہے۔ الیکشن کے وقت بڑے بڑے وعدے کرتا ہے۔ ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا وعدہ کرتا ہے۔عوام اسے ووٹ دیتے ہیں۔اقتدار میں لے آتے ہیں مگر افسوس کہ وہی خوبصورت وعدے کرنیوالا لیڈر اقتدار میں پہنچ کر عوام کی طرف پیٹھ کر لیتا ہے۔ اپنے تمام وعدے طاق نسیاں پر رکھ دیتا ہے۔عوام کی زندگی مزید مشکل بنا دیتا ہے اور پھر زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف اپنی حکومت اور اپنی کارکردگی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ حکمرانوں کے ایسے بے اصولے رویے پر عوام کیا کریں۔ خوشی سے ہنسیں،روئیں یا سینہ کوبی کریں۔ عوام کیلئے نہ تو علاج معالجہ کی سہولت ہے نہ تعلیم کی اور نہ روزگار کی پھر بھی حکومت کی کارکردگی کی تعریف کرنے پر مجبور ہیں۔

ایک دور تھا زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ ملک میں پرائیویٹ ہسپتال ایک آدھ ہی نظر آ تا تھا اور آج ہزاروں ایسے ہسپتال بڑی بڑی شاہراہوں اور شاپنگ پلازوں میں قائم ہیں ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کوئی میلہ ہے، کار پارکنگ کی جگہ بمشکل ملتی ہے۔ ایک مریض اگر چیک اپ کے لئے کسی پرائیویٹ ہسپتال چلایا جائے تو اگر اسکے معدہ کی خرابی ہے تو بھی اسکی انجیو گرافی کا کہا جاتا ہے،اور پھر باہر لواحقین کو بتایا جاتا ہے کہ مریض کی نازک حالت ہے فوری رقم کا بندوبست کریں، اب یہ ایسی صورتحال ہے کہ اصل بات کا نہ مریض کو علم ہے نہ لواحقین کو ہی ہوتا ہے اگر ان کی مالی حالت اچھی ہے تو ٹھیک ورنہ اسے کسی سرکاری ہسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری ہسپتالوں کا یہ حال ہے  کہ ایک بیڈ پر دو دو تین تین مریض ہیں جبکہ مریضوں کو آپریشن  تو  دور کی بات، صرف ٹیسٹوں کے لئے 3،3 ماہ کا وقت دے دیا جاتا ہے۔ ایسے میں غریب عوام کہاں جائیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment