Home » یہ تو آئینی مسئلہ ہے جناب

یہ تو آئینی مسئلہ ہے جناب

by ONENEWS

یہ تو آئینی مسئلہ ہے جناب

اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو کامیابی حاصل ہوئی،یہ تو روایتی نتائج ہیں۔ جب اسلام آباد پر پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی اسی پارٹی کی حکومتیں بنی تھیں۔ وزیر اعلیٰ جی بی مہدی حسن شاہ تھے،جو اس بار بری طرح ہار گئے۔ جب اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی تو اس کے بعد جی بی اور آزادکشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن) کے حکومتیں بنیں آزاد کشمیرمیں ابھی مسلم لیگی حکومت چل رہی ہے۔ جی بی کے لیگی وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن اب بہت ہی بُری طرح ہار گئے ہیں، وہ رنر اپ بھی نہیں رہے۔ ان روایتی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ان کشمیری علاقوں کے عوام بہتر سوجھ بوجھ رکھتے ہیں، دوسرے وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں …… بہتر سوجھ بوجھ کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں شرح خواندگی باقی پاکستان سے بہت بہتر ہے۔

حیرانی ہے تو اس بات پر کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نوازشریف کے انتخابی مہم کے دوران ہونے والے جلسے بہت بھرپور، پُر ہجوم اور پُر جوش تھے، لگتا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پر لوگ بھاری اکثریت سے اعتماد کا اظہار کریں گے۔ اسی طرح بلاول بھٹو زرداری چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کے جلسے بھی بڑا رش لے رہے تھے، جبکہ تحریک انصاف کے وزراء کے جلسے بھی پُر رونق تھے، لیکن ہوا یہ کہ مسلم لیگ (ن) کو صرف دو نشستیں مل سکیں۔ یہی حال پاکستان میں گزشتہ انتخابات سے پہلے کے انتخابات میں تحریک انصاف کا ہوتا تھا۔ جلسے بڑے بڑے اور اسمبلیوں کی نشستیں خال خال، اسی لئے پی ٹی آئی کے رہنما عوام سے کہتے تھے کہ اگر ووٹ نہیں دے سکتے تو جلسوں میں کیوں آتے ہو؟ یہ بات اب لیگی قیادت بھی کہہ سکتی ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی میں کل 33 نشستیں ہیں، جن میں 24 عام نشستیں، چھ خواتین اور تین ٹیکنو کریٹس کی مخصوص نشستیں ہیں۔ اس بار 18 اگست 2020ء کو عام نشستوں پر انتخابات ہونا تھے، مگر کورونا پھیل جانے کی وجہ سے ملتوی کر دیئے گئے۔ اب 15 نومبر کو 23 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی، ایک نشست پر الیکشن ایک امیدوار کے انتقال کی وجہ سے ملتوی کر دیئے گئے۔یہ امیدوار کورونا کی وجہ سے ہی فوت ہوئے تھے۔ جی بی اسمبلی کے گزشتہ انتخابات 2015ء میں ہوئے تھے، تب 24 میں سے 22 نشستیں مسلم لیگ (ن) نے جیتی تھیں، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کو ایک ایک نشست ملی تھی، اب سات  آزاد امیدوار جیت گئے ہیں، یہ تحریک انصاف میں ہی تھے، ان کو ٹکٹ نہ ملا تو آزاد کھڑے ہو گئے۔

اب یہ جیت کر پھر تحریک انصاف میں چلے جائیں گے۔ جیسے خانیوال سے سید فخر امام ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار بنے۔ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے امیدوار رضا حیات ہراج کو ہرایا،پھر تحریک انصاف میں شامل ہو کر وفاقی وزیر بن گئے۔ مجلس وحدت المسلمین کو ایک نشست ملی ہے۔ یہ تنظیم تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کو اتنی ”جھاڑو پھیر“  کامیابی تو نہیں ملی جتنی 2015ء میں مسلم لیگ کو ملی تھی، تاہم وہ آزاد ارکان اور وحدت المسلمین کے ساتھ مل کر حکومت بنا لے گی ا ور اس سے پہلے مخصوص  نشستوں میں سے بھی اپنا حصہ وصول کرے گی۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات اس حوالے سے بھی حیران کن ہیں کہ انتخابی مہم کے دوران ہر سیاسی پارٹی نے جلسے کئے، مخالفین کے خلاف دھواں دھار تقاریر کیں، مگر کہیں بھی متحارب کارکنوں کے درمیان تصادم کی نوبت نہیں آئی۔ اسی طرح پولنگ والے دن سوائے ایک معمولی جھگڑے کے کوئی افسوسناک واقعہ نہیں ہوا۔

ایک جگہ کامیابی کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں نے خوشی میں ہوائی فائرنگ کی۔ یہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی ضرور تھی،مگر شکر  ہے کہ کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس رویے پر گلگت بلتستان کے ووٹروں، امیدواروں اور سیاسی رہنماؤں کی تحسین ہونی چاہئے اور پاکستان بھر میں انتخابات کو سیاسی مقابلے کی حد تک رکھنے اور اسے انتخابی جنگ نہ بنانے کا کلچر متعارف کرانا چاہئے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے یہ تیسرے انتخابات ہیں، اس سے پہلے اسمبلی کا وجود ہی نہیں تھا۔ پہلا الیکشن پیپلزپارٹی نے جیتا، دوسرا مسلم لیگ (ن) نے جیتا، اب تیسرا پی ٹی آئی نے جیتا۔ ان تینوں پارٹیوں نے انتخابی مہم کے دوران گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا نہ صرف وعدہ کیا،بلکہ وزیر اعظم عمران خان نے تو بنانے کا اعلان بھی کر دیا۔

جی بی کو صوبائی درجہ دینے سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ مؤقف اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے مضمرات اپنی جگہ، لیکن کسی نئے صوبے کا قیام ایک آئینی مسئلہ بھی ہے۔ پاکستان کے آئین میں چار صوبے ہیں، پانچواں یا چھٹا صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی جو قومی اسمبلی اور سینٹ میں دو تہائی اکثریت سے ہی ہو سکتی ہے۔ حکمران تحریک انصاف کے پاس اس وقت تو یہ اکثریت ہے نہیں، اس لئے آئینی ماہرین کو اس کا کوئی حل نکالنا ہوگا یا تحریک انصاف کو دیگر سیاسی جماعتوں سے تعاون مانگنا ہوگا،جو عمران خان کے مزاج سے مطابقت  نہیں رکھتا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment