0

یہاں میاں مٹھو وہاں ‘لو جہاد’

یہاں میاں مٹھو وہاں ‘لو جہاد’

میں گزشتہ تحریر میں یہ لکھ تو بیٹھا کہ سندھ میں ہندوؤں سے نمٹنے کے لیے ایک اتھرا سا میاں مٹھو نامی شخص موجود ہے۔ دراصل اخبارات نے میاں مٹھو کے اتھرے پن کا تاثر میرے ذہن میں پختہ کر رکھا تھا، پر میاں مٹھو کا سراغ لگایا تو کچھ اور ہی ہاتھ آیا۔ میاں مٹھو کی اخباری شناخت اس ڈھب پر بنا دی گئی ہے کہ جیسے کوئی بنیاد پرست شخص منتظر رہتا ہے کہ کوئی نابالغ ہندو لڑکی ملے تو اسے جبری مسلمان کر کے کسی مسلمان سے نکاح کر دیا جائے۔ اس موضوع کے قریب لوگ جانتے ہیں کہ میاں مٹھو “انسانی حقوق والیوں ” کے لیے  لوہے کا  چنا ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن یہ مت سمجھ لیجئے کہ وہ واقعتا اس بگڑی مخلوق سے پنجہ آزمائی کرتے رہتے ہیں۔ وہ تو بس اپنا کام کرتے ہیں۔ ان دریدہ دہن لوگوں کے عین سامنے لوگ قادیانیت قبول کرتے ہیں تو  یہ فیل بے زنجیر مخلوق اسے آزادی اظہار قرار دے کر اسے بے جان انسانی حقوق میں ڈالتی ہے۔ لیکن ادھر کسی نے اسلام قبول کیا، ادھر ان کی انسانی حقوق مشین حرکت میں آجاتی ہے۔ میاں مٹھو اس مشین کی لپیٹ میں اکثر آتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں نے مسلسل جھوٹ بول بول کر یہ تاثر قائم کر دیا ہے کہ میاں مٹھو نابالغ ہندو لڑکیوں کو جبراً مسلمان کر کے مسلمانوں سے نکاح کراتے ہیں۔ پرسوں پرلے روز ہی ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی صاحب سے بات ہو رہی تھی۔ ہمارا اتفاق تھا کہ پرویز مشرف نے جھوٹ کو اتنا فروغ دیا کہ این جی او، لادین اور دین دشمن تو رہے ایک طرف، اب ریاستی عہدے داروں کی تحریر و تقریر سے بھی سچ کشید کرنا ناممکنات میں سے ہے۔

چلیے، یہاں پاکستان میں تو 96 فیصد مسلمانوں کے سمندر میں ایک ڈیڑھ فیصد ہندوؤں میں سے کسی کا مسلمان ہو جانا قابل فہم ہے، لیکن ہندوؤں کے غالب اکثریتی ملک ہندوستان میں ہندو اپنی خود ساختہ اصطلاح لو (love) جہاد سے کیوں خوفزدہ ہیں۔ ہندوؤں کے خیال میں مسلمانوں نے جہاد کی یہ نئی شکل شروع کی ہے۔ مسلمان، ہندو لڑکیوں کو ورغلا کر انہیں مسلمان کرتے ہیں، پھر ان سے شادی کر لیتے ہیں۔ ہندوؤں کے خیال میں یہ مسلمانوں کے جہاد ہی کی ایک نئی شکل ہے۔ ہندوستان میں مسلمان صرف 15 فیصد ہیں اور وہ بھی مفلوک الحال۔ میرے پیش  نظر آج کے ہندوستان میں قبول اسلام یا اسلام نہیں ہے کہ میں اعداد و شمار سے کچھ ثابت کروں لیکن یہ عام سی بات ہے کہ ہندوستان میں اکثریت میں رہتے ہوئے اور قاہرانہ ریاستی اختیارات سے لیس ہو کر بھی ہندو اسلام سے بے حد خوفزدہ ہیں۔ تو پھر دو متضاد معاشروں میں فضا اسلام کے حق میں یکساں کیوں ہے؟ اس پر ماہرین سماجیات اور علمائے علم الانسان غور کریں تو کریں، میرے پیش نظر یہ کھوج لگانا ہے کہ عبدالحق عرف میاں مٹھو کے ہاتھ پر صرف لڑکیاں کیوں اسلام قبول کرتی ہیں اور وہ بھی جبرا  اور اگر واقعی ایسا ہے تو کیا میاں مٹھو کی درگاہ یا ڈیرہ, اشاعت اسلام کا مرکز ہے، یا پریمی جوڑوں کو ملانے کے لیے نہر والا پل نما کوئی چیز ہے۔

یہی سوچ کر میں نے براہ راست میاں  مٹھو سے رابطہ کیا، بولے: “سائیں اچھا کیا کہ مجھ ہی سے پوچھ لیا۔ سنو!ایک دفعہ ایک مسیحی لڑکی مسلمان لڑکے کے ساتھ بھاگ کر اسلام قبول کرنے آ گئی۔ ہم نے دونوں سے الگ الگ تحقیق کی۔ معلوم ہوا لڑکا تو شادی شدہ ہے اور اس لڑکی سے  شادی کا اس کا کوئی ارادہ نہیں۔ آگے خود سمجھ جاؤ یار پروفیسر! ہم نے لڑکے سے کہا کہ اگر تو تم نے لڑکی سے شادی کرنا ہے تو ابھی بولو, ورنہ وہ سامنے کونے میں پڑا ڈنڈا دیکھ لو۔ یہ لڑکی اب ہماری بیٹی ہے۔ یہ سن کر وہ بھاگ گیا۔ ہم نے لڑکی سے پوچھا ہاں بی بی, اب بتاؤ؟ اب لڑکی کے سر سے تو بھوت اتر چکا تھا پر ہمارے لئے مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ ہم اس کا کیا کریں۔ ایک رات احترام سے اپنے ہاں بیٹی کی طرح اسے ٹھہرایا اور اگلے دن سکھر میں مسیحوں کے پادری کے حوالے کر دیا۔ باقی تفصیل انہی سے جاکر پوچھو”.

اب میرے ذہن میں ایک نئے سوال نے اچھل پھاندشروع کردی: یہ لڑکیاں اسی سالہ میاں مٹھو ہی کے پاس جا کر کیوں اسلام قبول کرتی ہیں؟ میں نے شکارپور کے آغا نور احمد پٹھان صاحب سے رابطہ کیا۔ امور سندھ پر نظر رکھنے والے اور سندھی علمی ادبی حلقوں میں معروف آغاصاحب اکادمی ادبیات سے ڈائرکٹر ریٹائرڈ ہیں۔ آغاصاحب نے بتایا کہ سندھ میں قبول اسلام کے خلاف مخالفانہ نشرواشاعت حالیہ چند عشروں میں شروع ہوئی ہے، ورنہ قبول اسلام کے واقعات انگریزوں کے دور میں بھی ایسے ہی تھے۔ انگریزوں نے قبول اسلام میں باقاعدگی پیدا کرنے کی خاطر سندھ میں چار درگاہوں کو اختیار دے رکھا تھا کہ وہ اسلام کے خواہشمندوں کی عمر، ذہنی کیفیت اور آزادی اظہار کا جائزہ لیں، اور انہیں موقع دیں کہ وہ  سوچ کر آزادی سے یہ کام کریں۔

یہ چار درگاہیں لیاری، مٹیاری، سو مارو اور بھرچونڈی میں ہیں۔ بھرچونڈی کی درگاہ کے پیرعبدالخالق صاحب ہیں۔ میاں مٹھو ان کے پوتے ہیں۔ ماضی میں پیپلز پارٹی سے عبدالحق عرف میاں مٹھو کی وابستگی اور بھرچونڈی میں زیادہ قبول اسلام کے سبب وہ مشہور ہو گئے توانسانی حقوق والیوں اور این جی او نے انہیں بطور خاص نشانے پر رکھ۔لیا ہے۔ چنانچہ میری پچھلی تحریروں اور موجودہ گفتگو سے آپ کو اندازہ ہو چکا ہو گا کہ سرحد کے دونوں جانب اقتدار کی غلام گردشوں میں اسلام کے خلاف خوب جم کر کام ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کو کچلنے کے لئے کوئی ایک طریقہ اختیار کیا گیا ہو تو لکھا جائے، بابری مسجد اور کشمیری مسلمانوں کی قید و بند ہی دیکھ لیں۔ادھر پاکستان میں پشاور کے ایک عام سے ہندو رہنما جناب سرب دیال ہمارے ریاستی نظام میں کہاں کہاں نقب لگا کر ریاست مدینہ کے وزیراعظم تک جا پہنچے اور انہیں قائل بھی کرلیا کہ 428 غیر موجود یا متروکہ مندرو ں کو از سر نو تعمیر کیا جائے تو ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا اور ملک میں ڈالروں کا سیلاب آجائے گا۔ اس احمقانہ تجویز کو وزیراعظم نے مان بھی لیا۔ سندھ حکومت کیسے پیچھے رہتی؟ اس نے فروغ ہندو مت کے لیے ہندوؤں کو بھگوت گیتا کے دس ہزار نسخے ہدیہ کیے۔ اگر کسی کے علم میں ہو کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے مسلمانوں میں کبھی قرآن کے صرف دس نسخے ہی تقسیم کیے ہوں تو مجھے مطلع کر دے۔ دوسری طرف عوامی سطح پر ہندوستان ہو یا پاکستان، دونوں ملکوں میں اسلام جس خاموشی اور تدریج سے پیش قدمی کر رہا ہے، اس سے لگتا ہے کہ اسلام کے خلاف محلاتی سازشیں زیادہ عرصہ نہیں چل سکیں گی۔

17 اگست رات کو میں یہاں تک لکھ پایا تھا کہ فون پر ایک ساتھی نے اطلاع دی کہ آج سندھ کے ایک مشہور ھندو سیاسی خاندان کی 21 سالہ لڑکی نے گھر سے بھاگ کر میاں مٹھو کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ہے۔ میں نے گھوٹکی اور بھرچونڈی میں اپنے ذرائع سے رابطہ کیا تو خاصی معلومات ملیں، خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی کے وہاں آنے پر منتظمین درگاہ بھرچونڈی نے لڑکی کے ورثاء کو بلا کر علیحدگی میں دونوں کی ملاقات کرائی۔ ان سے کہا گیا کہ لڑکی اگر واپس جانے پر رضامند ہو تو آپ لے جائیں۔ لڑکی کا جواب انکار میں تھا۔ منتظمین نے پولیس کو بلا کر لڑکی اس کے حوالے کردی کہ وہ اس بالغ لڑکی سے آزادانہ رائے لے۔ لڑکی کا جواب تب بھی وہی تھا۔ اس سارے عمل کی ویڈیو بنائی گئی (جو میرے پاس بھی ہے)۔ بالآخر لڑکی کلمہ شہادت پڑھ کر عالم گیر امت مسلمہ کا رکن بن گئی۔ وہ کیوں مسلمان ہوئی؟ وجہ؟  پتا چلا کہ گزشتہ سال عید میلاد النبی کے جلوس کے والہانہ منظر نے اس کی دنیا بدل کر رکھ دی تھی۔ وہ ایک سال سے تڑپ رہی تھی، آج موقع ملتے ہی وہ محرم راز خالق کائنات کے امتیوں میں شامل ہوگئی۔

حتمی تصدیق کے لیے میں نے میاں مٹھو سے رابطہ کیا تو انہوں نے کچھ بتانے سے انکار کر دیا: “سائیں شاید تم اس میدان میں نئے نئے کودے ہو۔ ہمارے لئے تو یہ روز کا کام ہے۔ یہاں لڑکیاں ہی نہیں، مرد اور خاندان کے خاندان آکر اسلام قبول کرتے ہیں۔ میں اس ایک معاملے میں آپ کو کیا بتاؤں “۔میں نے حاصل شدہ معلومات کا سارا پشتارا میاں مٹھو کے آگے رکھ دیا. ان کا جواب ملاحظہ ہو: “دیکھو! آپ عہد و پیمان کی قدر و قیمت سے واقف ہو ناں یقیناً تو سنو، اس خاندان سے ہمارا وعدہ ہے کہ کسی کو کوئی معلومات نہیں دی جائے گی۔ اپنے ذرائع سے حاصل معلومات پر آپ جو لکھنا چاہو، لکھ ڈالو”۔ میاں مٹھو سے میرا آخری سوال یوں تھا: “بالعموم لڑکیاں شادی کے لیے اسلام قبول کرتی ہیں، ورنہ اسلام کو بطور مذہب اختیار کرنا ان کے سامنے کوئی مقصد نہیں ہوتا، تو آپ ان کی حوصلہ افزائی کیوں کرتے ہیں۔ میاں مٹھو برافروختہ گئے: “سائیں کس نے تم سے کہہ دیا کہ یہاں صرف لڑکیاں اسلام قبول کرتی ہیں۔ ارے بھائی! میں بلدیہ کا چیئرمین تھا تو وہاں تیس پینتیس مسیحی مردوزن نے اسلام قبول کر لیا تھا. سائیں اس صحابی کا قصہ نہیں سنا جو کافر کو بچھاڑ کر اس کے گلے پر تلوار پھیرنے ہی لگے تھے کہ کافر نے کلمہ پڑھ لیا۔ صحابی نے پھر بھی اسے مار ڈالا۔ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو کیا کہا تھا انہوں نے صحابی سے؟ بولو!چپ کیوں ہو گئے ہو؟ چلو میں بتاتا ہوں۔ آپ نے پوچھا تھا کہ کیا تم نے مقتول کا دل چیر کر دیکھا تھا، سائیں! اب میں ان لڑکیوں کا دل چیرا کروں، یا ان کو مسلمان کیا کروں؟ بولو بتاؤ”؟

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں