0

یوم استحصال۔اور عالمی ضمیر

یوم استحصال۔اور عالمی ضمیر

کشمیر کا مسئلہ تقریباً 72 سال سے اقوام متحدہ کے سامنے پڑا ہے اور کشمیر کے مظلوم عوام بین الاقوامی منصفوں اور حقوق انسانی کے علمبرداروں سے چیخ چیخ کرآزادی کا  مطالبہ کر رہے ہیں۔ ماحول کی تبدیلیوں کا نوٹس لینے والے، وبائی امراض پر پالیسیاں بنانے والے اور جانوروں کے حقوق کے لئے قانون بنانے والے جب کشمیر کا نام سنتے ہیں تو ان کا ضمیر سو جاتا ہے۔یا شائد مردہ ہو جاتا ہے۔کشمیر جنت نظیر وادی کو ایک سال سے عملاً ایک بڑے قید خانے کا درجہ دیا گیا ہے۔تمام دنیا نے کورونا  وباء کے باعث آزادی کی نعمت کا احساس کر لیا ہے۔لیکن عملی اقدامات سے ابھی عاری ہے۔ادھر  ہمارے ہاں بھی مختلف دن منانے ا ور بیان بازی پر زور ہے۔کشمیر کمیٹی شائد کمیٹی چوک سے آگے نہیں گئی۔وزارت خارجہ پریس بریفنگ اور وزیراعظم اخلاقی اور سفارتی حمایت تک محدود۔کشمیر کی آزادی کے لئے کتنے ہی جوان شہید ہوئے۔کتنی دلہنوں کا سہاگ اجڑا۔کتنی ماؤں کے لال قربان ہوئے۔کتنے باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کو اپنے ہاتھوں سے دفنا آئے۔اور مٹی کا حق ادا کرنے کے کتنے نغمے شاعروں نے لکھے۔ہمارے چنداخبارات اور سوشل میڈیا پر کچھ لوگ  ایک سال  سے بھارت کی آئین ہند کی دفعہ 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو دو یونین علاقوں میں تقسیم کر نے کے خلاف تحریر اور پوسٹ سے جہاد کر رہے ہیں۔ بھارت کے غیر سنجیدہ اور جارحانہ اقدامات کی بدولت چین، بھارت، بھارت اور پاکستان سرحدی تنازعات بڑھ رہے ہیں۔

سنجیدہ ماہرین کے مطابق اگر مسئلہ کشمیر کا جلد اور دیرپا حل نہ کیا گیا تو یہ تیسری بڑی عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن کر کروڑوں لوگوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے۔جس کے اثرات صدیوں ختم نہیں ہونگے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود  قریشی نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کو یک جہتی کا واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ سیاسی دھڑے بازی کے باوجود کشمیر کے معاملے پر ہم متحد ہیں، حق خود ارادیت کے مقصد کیلئے پاکستانی قوم کشمیریوں کیساتھ کھڑی ہے۔آخری فتح تک کشمیریوں کیساتھ کھڑے رہیں گے۔تحریک آزادی کیلئے کشمیری لیڈ کریں ہم انکے پیچھے کھڑے ہیں، کشمیریوں کی ترجمانی اور انکی آواز دنیا میں اٹھائیں گے، مایوس نہیں کرینگے، ہماری نظر سری نگر پر ہے، کشمیر ہائی وے کا نام 5 اگست سے سری نگر ہائی وے رکھ رہے ہیں، یہ شاہراہ ہمیں سرینگر تک لیکر جائیگی، کشمیری جھکیں گے نہ پاکستانی افواج پیچھے ہٹیں گی۔ شائننگ انڈیا اب برننگ انڈیا میں تبدیل ہو چکاَ۔ دنیا نے دیکھا کہ مقبوضہ کشمیر میں نانا کی میت پر بیٹھے معصوم بچے پر بھارتی اہلکار بندوق تانے کھڑے ہیں، اس معصوم کشمیری بچے کو دیکھ کر دل بیٹھ گیا۔ شبلی فراز نے عوام سے 5 اگست کو گھروں میں کشمیری جھنڈا لہرانے کی اپیل بھی کی ہے۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس کا تحفظ ہر پاکستانی کا فرض ہے کیونکہ اسی میں پاکستان کی بقا ہے۔ہم نے قسطنطنیہ کے فاتح سلطان محمد کی کہانی تو سنی ہے نہ جانے کشمیر کے فاتح کی کہانی ہماری نسل کب سنے گی۔مسجد آیا صوفیہ میں تو 24 جولائی کو آزادانہ  جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔.

سری نگر کی جامع مساجد نہ جانے پوری طرح کب  آزاد ہوں گی۔ وادی کشمیر اپنے حسن کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے جبکہ۔ لداخ جسے “تبت صغیر” بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث جانا جاتا ہے۔ ریاست کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کشمیر پر تین جنگیں لڑچکے ہیں جن میں 1947ء کی جنگ، 1965ء کی جنگ اور 1999ء کی کارگل جنگ شامل ہیں۔علاقہ عالمی سطح پر متنازع قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ اور باقی بڑی اہم عالمی تنظیموں نے کشمیریوں کے حق آزادی کو تسلیم کیا ہے۔اوراس سلسلے میں اپنی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ شیخ محمد عبداللہ اپنی کتاب ”آتش چنار”میں لکھتے ہیں کہ علامہ اقبال کا جسم لاہور میں اور روح کشمیر میں ہوتی تھی اور وہ ہمیں کشمیر میں ایک تحریک شروع کرنے کے لئے مشورہ دیتے۔ اور یہ کہ  قائداعظم نے1947ء سے بہت پہلے انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا تھا، البتہ وہ اپنے اس نظریئے پر قائم رہے تھے کہ ریاست کا پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ الحاق مفید رہے گا اور وہ ایسا ہی کریں گے۔

25 مئی  2020 کو امریکہ میں جارج فلائیڈ کے قتل کے باعث امریکا کے ساتھ ساتھ برطانیہ، اسپین، بیلجیئم، برازیل میں بلیک لائیوز میٹر (سیاہ فام زندگیاں اہم ہیں) ریلیاں نکالی گئیں۔اور عالمی حقوق کے علمبردار سیاہ فام لوگوں کی حمایت میں کھڑے ہو گئے۔لیکن کیا کشمیر کا خون ارزاں ہے۔ عمران خان نے جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا، اب کشمیری عوام کو ان کے مستقبل کے فیصلے کا حق دلانے کا اختیار ٹرمپ اور مودی کے ہاتھ ہے۔چین نے بھارت کو لداخ میں اچھا سبق سکھایا ہے لیکن ہندو ذہنیت اتنی آسانی سے ہار نہیں مانتی۔ مسلم امہ سے مدد کی کوئی امید نہیں کیوں کہ سب اپنے اپنے مفادات کے تابع ہیں۔ ساری دنیا مفادات کی جنگ لڑ رہی ہے بلکہ ہر گھر، محلے، شہر، صوبے میں مفادات کی گرم نہ سہی سرد جنگ تو ضرور جاری ہے۔ اقوام متحدہ بھارت ا ور اسرائیل سے ایک قرارداد پر بھی عمل نہیں کرا سکی۔جبکہ عراق،ایران اور افغانستان میں اقوام متحدہ بہت  فعال نظر آئی۔24 جولائی کو مسجد آیا صوفیہ کے اطراف میں مسلمانوں نے خصوصی نوافل ادا کیے اور عالم اسلام کے لیے دعائیں مانگی گئیں۔اس موقع پر کشمیر کی آزادی کے لیے بھی دعا کی گئی۔عالمی ضمیر کو جنجھوڑنے،بیدار کرنے اور کشمیر کو فلیش پوائنٹ کے طور پر پیش کرنا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ورنہ صرف تاریخ میں ایک اور وزیر اعظم کے نام کے علاوہ اور کچھ شامل نہیں ہوگا۔

مزید :

رائےکالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں