Home » یومِ دفاع اور ہم        (تیسری اور آخری قسط)

یومِ دفاع اور ہم        (تیسری اور آخری قسط)

by ONENEWS

یومِ دفاع اور ہم        (تیسری اور آخری قسط)

گزشتہ دو اقساط کا خلاصہ اگر دو فقروں میں بیان کرنے کو کہا جائے تو وہ دو فقرے یہ ہوں گے:

1۔ ستمبر 1965ء کی جنگ کی تفصیلات کو جذباتی اور افسانوی اسیری کی بظاہر سنہری ”کالی کوٹھڑی“ سے نکال کر غیر جذباتی اور حقیقی فضاؤں میں آزاد اور آباد کیا جائے۔

2۔ اس جنگ کی عسکری تاریخ کو قومی زبان اردو میں لکھ کر اس کی وسیع نشر و اشاعت کا سامان کیا جائے۔

یہ دونوں کام اتنے مشکل نہیں ہیں لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے مشکل تر ضرور ہوتے جا رہے ہیں۔ ذاتی مثال دینا اگرچہ خود ستائی کے زمرے میں آئے گا لیکن راقم السطور گزشتہ ربع صدی سے دفاعی موضوعات کو اردو میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔میں نے کئی معروف کلاسیکی عسکری کتب کے ترجمے بھی انگریزی سے اردو زبان میں کئے ہیں اور طبع زاد دفاعی موضوعات پر اردو زبان میں نصف درجن کتابیں بھی تحریر کی ہیں۔ مثلاً: (1) انفنٹری ایک ارتقائی جائزہ (2) جنگ عظیم دوم کے عظیم کمانڈر (3) بلوچ رجمنٹ کی ایک مختصر تاریخ (4) ایس ایس جی تاریخ کے آئینے میں اور (5) ناردرن لائٹ انفنٹری تاریخ کے آئینے میں وغیرہ وغیرہ……

جہاں تک انگریزی سے اردو تراجم کا سوال ہے تو میں نے جن کلاسیکی عسکری تصنیفات کا اردو میں ترجمہ کیا ہے ان میں ”کنڈکٹ آف وار“ اور ”شکست سے فتح تک“ سرفہرست ہیں …… کنڈکٹ آف وار ایک برطانوی جنرل، جے ایف سی فلر (Fuller)کی تصنیف ہے جس کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب عشروں تک پاکستان آرمی کے دو پیشہ ورانہ امتحانوں میں ملٹری ہسٹری کی ایک نصابی کتاب کی حیثیت میں پڑھی اور پڑھائی جاتی رہی۔ آج پاک آرمی کا کوئی ایسا سینئر آفیسر نہیں ہوگا جس نے اس کا مطالعہ نہیں کیا ہوگا۔ یہ کتاب انقلابِ فرانس(1789ء) سے لے کر جنگ عظیم دوم کے بعد 1961ء تک کے دورانیئے کو احاطہ کرتی ہے اوربتاتی ہے کہ جنگ کی اصل حقیقت کیا ہے، اس کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں، اسے لڑنے کے جو طور طریقے اب تک دنیا کی مختلف اقوام نے اپنائے ہیں کیا ان سے کسی قوم کا بھلا ہوا ہے اور جنگ کا مستقبل کیا ہے۔ جنرل فلر نے اس کتاب کا ڈیڑھ صفحے کا جو دیباچہ لکھا ہے اس کا آخری پیراگراف ملاحظہ کیجئے:

”فنِ جنگ پر بہت سی سرکاری اور پیشہ ورانہ کتب (Manuals) موجود ہیں اور اگرچہ میں کبھی بھی سرکاری نصابی کتابوں کا شوقین نہیں رہا، تاہم جب یہ کتاب لکھ چکا تو مجھے احساس ہوا کہ اسے ان سرکاری کتب کی فہرست میں سرفہرست ہونا چاہیے جو ’جنگ لڑنے اور لڑانے‘ کے موضوع پر لکھی جائیں۔ یہ کتابیں سیاسی مدبّروں اور سپاہیوں دونوں کے لئے تحریر کی جائیں اور ان کا مطالعہ دونوں کے لئے لازمی قرار دیا جائے۔ اس عنوان کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ ”جنگ کیسے کنڈکٹ کی جائے“ اور دوسرا یہ کہ ”کیسے کنڈکٹ نہ کی جائے“…… آپ دیکھیں گے کہ دوسرے عنوان کے لئے میری اس کتاب میں بہت سا سامان موجود ہے“۔

اس دیباچے پر دسمبر1960ء کی تاریخ درج ہے اور یہ فلر کی آخری دو کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس نے کل 45کتابیں تحریر کیں اور ”کنڈکٹ آف وار“ کا نمبر44واں تھا۔ اس کی آخری کتاب کا عنوان تھا: ”جولیس سینئرز“۔ وہ 34برس تک برٹش آرمی میں رہا اور اتفاق دیکھئے کہ 34برس تک ہی پیشہ ء صحافت سے بھی وابستہ رہا۔ اس نے تاریخ کی پہلی ٹینک بیٹل (1917ء میں) کی پلاننگ کی۔ وہ اس وقت میجر تھا۔ چرچل سے اس کے اختلاف پیدا ہوئے اور اسے مزید پروموشن نہ مل سکی۔ 1933ء میں اسے فوج سے ریٹائر کر دیا گیا۔ اس کی عمر54برس تھی۔ ابھی اس نے 34 برس اور زندہ رہنا تھا۔ بریگیڈیئر انتھونی نے جو اس کی سوانح عمری لکھی ہے،اس میں وہ کہتا ہے: ”فلر اپنی ذات کا بہترین دوست اور بدترین دشمن تھا“…… ہٹلر اس کا مداح تھا اور وہ کئی بار ہٹلر کی دعوت پر جرمنی گیا اور وہاں گڈیرین، موڈل اور رومیل سے اس کی ملاقاتیں رہیں۔ اسے ٹینک وار فیئر کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔

”کنڈکٹ آف وار“ موضوعی اور لغوی اعتبار سے انگلش ملٹری لٹریچر میں مشکل ترین کتاب شمار کی جاتی ہے۔ جب یہ کتاب پاکستان آرمی میں ”کپتان سے میجر کے پروموشن امتحان“ میں ملٹری ہسٹری کے پرچے میں اور پھر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں جانے کے لئے بھی ملٹری ہسٹری کے پرچے میں بطور ٹیکسٹ بک سفارش کی گئی تو اس کو پڑھنے اور سمجھنے میں جواں سال پاکستانی آرمی افسروں کو بہت وقت پیش آئی۔ زیادہ تر آفیسرز اس کتاب کے بارے میں تیار کئے گئے خلاصوں اور نوٹس (Notes) کو ”رٹّا“ لگا کر یہ امتحان پاس کرتے رہے۔1997ء میں میرے ایک داماد نے جو اس وقت میجر تھے۔ مجھے یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ اس کتاب کا اردو ترجمہ کر دیجئے۔

میں حیران اس لئے ہوا کہ اردو میں ترجمہ کرنے کا کوئی فائدہ مجھے نظر نہیں آتا تھا۔ کتاب انگریزی میں تھی اور اس کے متعلق سوالوں کے جواب بھی اگر انگریزی میں دینے تھے تو اردو میں ترجمہ چہ معنی دارد؟…… لیکن اس نے کہا کہ اس کتاب (Conduct of War) کی ایک مشکل یہ ہے کہ اس کے مندرجات کی تفہیم ہی مشکل ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ جنرل فلر کہنا کیا چاہتا ہے۔ اردو ترجمہ ہوگا تو کم از کم کوئی بات تو پلّے پڑے گی۔ چنانچہ میں نے ایک دو ماہ لگا کر اس کا ترجمہ کر دیا۔ میں خود بھی ان ایام میں وردی میں تھا۔ اور سینئر افسروں سے ان پروفیشنل نکات پر بحث و تمحیص کیا کرتا تھا جو کتاب کے متن (Text) میں مجھے دقیق لگتے تھے اور ان کا تعلق ورلڈ ملٹری ہسٹری سے تھا۔ خیر یہ کتاب اردو میں ترجمہ ہوئی اور میں نے ازراہِ تجربہ ہر ڈویژن ہیڈکوارٹر میں ایک خط لکھ کر اس کا تعارف کروایا۔ کیا آپ اندازہ کریں گے کہ اس کی اتنی مانگ ہوئی کہ متواتر تین برسوں تک اس کے دو دو ایڈیشن طبع کرنے پڑے اور ڈیمانڈ پھر بھی باقی رہی۔ بہت سے کور کمانڈروں اور ڈویژن کمانڈروں کے خطوط آج بھی میرے پاس ہیں جنہوں نے اس کی تعریف کی۔

آج یہ کتاب کسی پروفیشنل امتحان میں نہیں۔ لیکن اس کی اہمیت اور افادیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ آرمی لائبریریوں میں آج بھی اس کی ڈیمانڈ ہے۔

برسبیل تذکرہ فلر کی اس کتاب کا افتتاحی پیراگراف بھی دیکھ لیجئے:

”جنگ لڑنا بھی پیشہء طب کی طرح ایک فن ہے۔ جس طرح ڈاکٹر کا کام انسانی جسم کی بیماریوں کو روکنا، ان کا علاج کرنا اور جسم کو لاحق مختلف تکالیف کو کم کرنا ہوتا ہے، اسی طرح ایک سیاسی مدبر اور ایک سولجر کا کام بھی یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان جنگوں کو روکے،ان کا علاج کرے اور ان سے پیدا ہونے والی مختلف مشکلات و تکالیف کو کم کرے جو بین الاقوامی جسم کو لاحق ہوتی ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ اس طرف بہت کم دھیان دیا گیا ہے اور جہاں آج کی دنیا میں پیشہء طب میں بہت ترقی ہو چکی ہے اور زخموں کا اندمال (Healing) کرنے کے بے شمار طریقے سائنسی بنیادوں پر استوار ہو چکے ہیں، فنونِ جنگ ہنوز ابتدائی مراحل ہی میں سرگرداں ہیں بلکہ موجودہ صدی (20ویں صدی) میں تو جنگ لڑنے کا فن ایک بار پھر وحشت و بربریت اور خون آشامی کی طرف لوٹ گیا ہے“۔

5جولائی 1977ء کو جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو اسی برس ایک حکم نامہ یہ بھی جاری کیا کہ افواج پاکستان کی زبان از روئے آئینِ پاکستان اردوہو گی۔ GHQاچانک جاگ گیا۔ فوری طور پر ایسے افسروں کی ایک فہرست تیار کی گئی جن کو انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے کا شغف تھا۔ ازراہِ اتفاق کہہ لیں کہ میجر جیلانی کا نام بھی اس فہرست میں آ گیا۔ اور مجھے ایک کتاب IGT&E برانچ سے موصول ہوئی کہ اس کا ترجمہ اردو میں کر دیا جائے۔ اس لیٹر میں فی صفحہ معاوضہ بھی درج تھا اور مدتِ تکمیل شائد ایک برس (یا اس سے کچھ کم و بیش) تھی۔ کتاب کا مصنف فیلڈ مارشل ولیم سلم (William Slim)تھا۔ اس کے تقریباً 600صفحات تھے۔ میں نے اس کا اردو ترجمہ کر دیا اور GHQ کی طرف سے شائع ہو کر یہ ترجمہ فوج کی مختلف یونٹوں میں بھیج دیا گیا۔ فیلڈ مارشل سلم (Slim) کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ اس نے ایک پلاٹون (40افراد) سے ایک آرمی (4لاکھ)تک کی کمانڈ کی تھی اور برطانوی فوج کا ایک نامور جرنیل تصور کیا جاتا تھا۔ اس میں 1942ء سے لے کر 1945ء تک کی ”برما وار“ کی تمام لڑائیوں کی تفصیل درج تھی۔

برما (آج کل میانمر) اگرچہ انڈیا کا ہمسایہ تھا لیکن میں نے اپنے طالب علمی کے زمانے میں اس کا جغرافیہ اتنی تفصیل سے نہیں پڑھا تھا جس تفصیل سے اس کتاب کی مختلف لڑائیوں میں ڈسکس کیا گیا تھا۔ لہٰذا ترجمہ کرتے ہوئے اس کو مجھے از سر نو پڑھنا اور دیکھنا پڑا۔ ایک اور وجہ برما وار کے گہرے مطالعے کی یہ بھی تھی کہ 1947ء میں جب ہمیں آزادی ملی تو پاک فوج کے کئی سینئر افسروں نے برما کی جنگ میں برٹش انڈین آرمی کی طرف سے شرکت کی تھی۔ ان میں سے کئی احباب سے میری گفتگو بھی رہتی تھی۔ کرنل مختار گیلانی جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد 14پنجاب کی کمانڈ کی وہ ان دوستوں میں سے ایک تھے اور ایک نوجوان لیفٹین کی حیثیت میں جو وقت انہوں نے برما کے مختلف شہروں اور محاذوں پر گزارا تھا، اس کے قصے سنایا کرتے تھے۔ ہمارے فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی برما وار میں Serve کیا تھا اور انڈین آرمی کے پہلے ہندو کمانڈر انچیف جنرل کری آپا بھی برما مہم کی کئی لڑائیوں میں شریک رہے تھے۔(بعد میں جنرل کری آپا کو فیلڈ مارشل بنا دیا گیا تھا۔ یہ بھی تاریخ کا ایک مذاق تھا کہ انڈیا نے اپنے ایک ریٹائرڈ آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنا دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ 1971ء کی جنگ میں انڈین آرمی چیف جنرل مانک شا کو جب انڈیا نے بنگلہ دیش بنانے کے صلے میں انعام کے طور پر فیلڈ مارشل کا رینک دے دیا تو کٹر ہندوؤں نے احتجاج کیا کہ ایک پارسی کو فیلڈ مارشل کیوں بنایا گیا ہے۔ معاملہ اس حد تک بڑھا کہ ریٹائرڈ ہندو آرمی چیف جنرل کری آپا کو بھی فیلڈ مارشل بنانا پڑا!)

آخر میں، میں اتنا عرض کروں گا کہ اگر پاکستان کی قومی زبان اردو قرار دے دی گئی ہے اور سپریم کورٹ کی طرف سے اس کا باقاعدہ حکم جاری بھی کر دیا گیا تھا تو شاید کل کلاں افواجِ پاکستان کی زبان بھی اردو کر دی جائے…… اگر ایسا نہ بھی کیا گیا تو شائد افواج پاکستان میں ذولسانی کلچر (Binlingual Tradition) رواج پا جائے۔ یعنی انگریزی اور اردو دونوں زبانوں کو قومی زبانیں قرار دے دیا جائے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں ایسا ہی کرنا پڑے گا۔ ملک کے تعلیمی اداروں میں اگر یکساں نظامِ تعلیم کے نفاذ کی ہوائیں چل رہی ہیں تو ان کے اثرات افواجِ پاکستان پر بھی پڑیں گے۔ آج اگر پاک بحریہ اور پاک فضائیہ میں نچلے رینکوں میں بھی انگریزی زبان پڑھائی اور سکھلائی جا رہی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ آنے والے دور میں جدید اسلحہ جات کی تیاری اور ان کے بین الاقوامی استعمالات میں انگریزی زبان کی ترجیح سمجھ میں آنے والی بات ہے۔لیکن اس کے باوجود 1965ء کی جنگ کی تاریخ اگر اردو میں تحریر کر دی جائے تو پاکستان کی آبادی کے سوادِ اعظم کو معلوم ہوگا کہ اس یادگار معرکے میں افواجِ پاک (آرمی، نیوی، ائر فورس) نے پروفیشنل اور ٹیکنیکل سطوح پر بھی کیا کیا کارنامے سرانجام دیئے تھے!!(ختم شد)

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment