Home » یاسیدی رجب طیب اردون۔ ہیلو. ہیلو

یاسیدی رجب طیب اردون۔ ہیلو. ہیلو

by ONENEWS

یاسیدی رجب طیب اردون۔ ہیلو. ہیلو

اے میرے آقا، رجب طیب اردوان۔ خوش آمدید۔ آپ پر سلامتی ہو

ترکان عثمان کے ساتویں خلیفہ سلطان محمد نے 1353ء میں بازنطینی پایہ تخت قسطنطنیہ کو 53 روزہ محاصرے کے بعد شدید لڑائی کے بعد فتح کیا اور آیا صوفیہ میں چرچ کو مسجد میں تبدیل کیا۔ سلطان نے اسی شہر میں عیسائیوں اور یہودیوں کی سینکڑوں عبادتگاہوں کو نہیں چھیڑا اور فتح کے بعد انہیں حکمرانوں، اشرافیہ اور عوام کو عثمانی سلطنت کے شہریوں کے طور پر رہنے کی پیش کش کی لیکن انہوں نے ہجرت کو ترجیح دی سلطان نے چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے سے پہلے آرچ پشب کے ساتھ مذاکرات کئے ا ور قیمت ادا کر کے چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اس حوالے سے ایک ملکیتی دستاویز بھی موجود ہے ویسے تو مفتوحہ علاقے پر فاتح قوم کا مکمل طور پر تصرف اس وقت کے قوانین کے مطابق جائز تھا لیکن سلطان نے احسان کے جذبات کے تحت پادریوں کو قیمت ادا کی ا ور آیا صوفیہ میں ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کی جو عثمانی خلافت کے دوران فتح و نصرت کی علامت کے طور پر 500 سال تک قائم رہی۔

پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کی شکست اور پھر مصطفیٰ کمال اتا ترک کے ہاتھوں خلافت کے خاتمے کے اعلان کے بعد مسلمانوں کی تاریخ کا ایک عظیم الشان باب نہیں بلکہ کتاب ہی بند ہو گئی ایشیاء یورپ اور افریقہ تک پھیلی خلافت سمٹ کر ترکی میں بھی قائم نہ رہ سکی۔ مصطفیٰ کمال نے 1935ء میں ترک خلافت کے اس عظیم الشان نشان کو میوزیم میں تبدیل کر دیا جسے گزشتہ ہفتے ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک عدالتی فیصلے کے بعد دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے انہوں نے دستاویزات کے ساتھ عدالت میں ثابت کیا کہ آیا صوفیہ مسجد ہے میوزیم نہیں اس لئے اسے اس کی تاریخی اسلامی حیثیت کے ساتھ بحال کیا جانا چاہئے۔ عدالت نے ان کی دلیلوں کی روشنی میں فیصلہ کیا جس کی روشنی میں ترک صدر نے ایک فرمان کے ذریعے عظیم الشان مسجد کی بحالی کے فرمان پر دستخط کر کے عالم اسلام کے مسلمانوں کے دل جیت لئے ہیں۔ ذلت، نامرادی اور ناکامیوں کے اس دور میں یہ خبر مسلمانوں کے لئے خوشگوار اہمیت افزاء ہوا کا جھونکا نہیں طوفان ثابت ہو رہا ہے۔

سلطان محمد جسے تاریخ فاتح کے نام سے یاد کرتی ہے ترکانِ عثمان کی قائم کردہ خلافتِ عثمانیہ کے ساتویں خلیفہ تھے انہیں 1444میں صرف بارہ برس کی عمر میں ایک سمجھوتے کے تحت خلیفہ بنایا گیا ان کی یہ حکمرانی 1446 تک چلی۔ پھر 1451 میں خلیفہ مراد جو ان کے والد تھے کی وفات کے بعد خلیفہ بنے اور 1481 اپنی وفات تک خلافت پر فائز رہے انہوں نے 30 سالوں کے دوران سلطنت کو شمالاً جنوباً، شرقاً غرباً خوب وسعت دی حتیٰ کہ آنے والے 500 سال تک سلطنتِ عثمانیہ طنطنے کے ساتھ عالمی سیاست پر چھائی رہی۔ سلطان محمد نے اپنے دورِ حکمرانی میں 12 ریاستیں اور 200 شہر اور قلع فتح کئے لیکن تاریخ میں ان کی عظمت بازنطینی پایہ تخت قسطنطنیہ کی فتح کے باعث ہے انہوں نے 1351 میں جب عنانِ خلافت سنبھالی تو فوراً اس مہم کو سر کرنے کی تیاری شروع کر دی اور ٹھیک 2 سال بعد 1351 میں وہاں جا پہنچے اور فتح کے جھنڈے گاڑ دیئے۔

قسطنطنیہ، یورپ کا عظیم الشان شہر تھا جسے رومی شہنشاہ روم قسطنطنیہ اول نے 330 عیسوی میں آباد کیا اور اسے ”نیا روم“ قرار دیا۔ یہاں کرسچین آرتھوڈکس چرچ کا مرکز قائم کیا گیا جس کے تحت یورپ میں عیسائیت کی تبلیغ اور گریک چرچ کی روایات کا تحفظ کیا جانے لگا۔ یہاں قائم چرچ کے ذریعے عیسائیت میں فکری اور نظری اختلافات کے خاتمے اور بین المذاہب بھائی چارے کے فروغ کی منظم کاوشیں کی گئیں یہ بازنطینی ریاست کا سیاسی مرکز بھی قرار پایا اور حکمرانوں نے اس شہر کی شان و شوکت کو چار چاند لگا دیئے۔ اس شہر میں قائم چرچ کے ذریعے یونانی، یوکرینی، روسی، البانوی، شمالی اور جنوبی امریکہ، مغربی یورپ، نیوزی لینڈ کوریا اور جدید یونان کے عیسائیوں کی مذہبی رہنمائی اور تنظیم کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔

اس طرح ہمیں قسطنطنیہ کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے یہ شہر دفاعی اعتبار سے بھی ناقابل تسخیر تھا تین اطراف سے سمندر کے ذریعے محفوظ بنا ہوا شہر ہے بحیرہ مرمر، گولڈن ہارن اور آبنائے باسفورس نے اس شہر کو تین اطراف سے گھیر رکھا ہے، یہ ناقابل تسخیر تھا، رومی اسے ایسے ہی ناقابل تسخیر اور ناقابل رسائی سمجھتے تھے جیسے پرل ہارپر جاپانیوں کے حملے سے پہلے تک امریکی، امریکہ کو ناقابل رسائل اور ناقابل تسخیر قرار دیتے رہے تھے ویسے رومیوں نے اطراف کے سمندری راستوں کی مضبوط زنجیروں کے ساتھ ناکہ بندی بھی کر رکھی تھی پھر شہر پناہ بھی انتہائی مضبوط تھی اور قلعہ بندی کا ایسا موثر انتظام تھا کہ محاصرے کی صورت میں وہ طویل مدت تک زندہ رہ سکتے تھے۔ مسلمان اس شہر کو تسخیر کرنے کے لئے 10 مرتبہ حملہ آور ہو چکے تھے لیکن انہیں کامیابی نہیں مل سکی تھی پہلا حملہ اموری دورِ حکومت میں کیا گیا لشکر میں صحابہ کرام بھی شامل ہوئے حتیٰ کہ یہ لشکر قلعے کی دیواروں تک پہنچ گیا۔ شہر کا محاصرہ بھی کر لیا ابو ایوب انصاریؓ اسی لشکر میں شامل تھے ان کی محاصرے کے دوران وفات ہو گئی ا ور انہیں قلعے کی دیوار کے سائے میں دفن کر دیا گیا آج بھی ان کا مزار مرجع خلائق ہے اور اس حملے کی یادگار ہے یہاں جامع ایوبیہ بھی قائم کی جا چکی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سلطان محمد نے خلیفہ بنتے ہی قسطنطنیہ فتح کرنے کا پروگرام کیوں بنایا۔ اس کی دو وجوہات تھیں پہلی وجہ اس شہر کا محل وقوع یعنی یہ ایشیا اور یورپ کا سنگھم ہے یورپ کا دروازہ یا گیٹ وے تھا اور بازنطینی سلطنت کا پایہ تخت اسے فتح کر کے عیسائیوں پر رعب و دبدبہ قائم کرنا مقصود تھا۔ لیکن یہ کام اتنا بھی آسان نہیں تھا قسطنطنیہ کو بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت ایسے ہی نہیں بنایا تھا یہ جغرافیائی اعتبار سے محفوظ ترین ملک تھا اس تک پہنچنا کسی بھی حملہ آور کے لئے آسان نہیں تھا لیکن اس شہر پر حملہ کرنے کی دوسری وجہ نبی کریمؐ کی وہ حدیث تھی جس میں فاتح لشکر قسطنطنیہ کے لئے جنت کی نوید سنائی گئی تھی سلطان محمد نے خلیفہ بنتے ہی 140 بحری جنگی جہازوں پر مشتمل ایک بحری بیڑہ بنانے کا حکم دیا اس کے ساتھ ہی ڈھائی فٹ قطر کی ایک پیتل کی توپ بنائی گئی جو 6 من کا گولا ایک میل تک پھینک سکتی تھی سلطان 2 سال تک تیاریاں کر کے ایک لشکر جرار کے ساتھ حملہ آور ہوا۔

توپ کے ساتھ شہر پناہ/ قلعے پر گولہ باری کے لئے اس کے 1 میل تک قریب ہونا ضروری تھا جبکہ اطراف کے بحری راستوں پر سخت ناکہ بندی تھی سلطان محمد نے راتوں رات 70 جہازوں اور توپ کو 10 میل خشکی کے ذریعے قلعے کی دیواروں تک پہنچایا۔ اس نے لکڑی کے تختوں کی سڑک بنائی جس پر گائے/ بھینس کی چربی کا شدید لیپ کر کے اسے پھسلن زدہ کیا اور اس کے ذریعے جہازوں کو شہر پناہ تک پہنچایا۔ فرنٹ پر اپنا خیمہ نصب کیا 6 اپریل تا 23 مئی شہر کا محاصرہ کئے رکھا 28 مئی کو عام یلغار کا فیصلہ کیا اور 29 مئی 1353 ظہر کے وقت شہر پر قبضہ کر لیا اس طرح یورپ کی فتح کا راستہ کھلا اور پھر سلطان محمد کے قدم فتح و نصرت کی طرف اٹھتے ہی گئے اور وہ تاریخ میں ”فاتح“ کے نام سے امر ہو گیا۔

اس مسجد کو 1935ء میں میوزیم کا درجہ دے کر عبادت پر پابندی لگانا اتا ترک کی اس اسلام دشمن پالیسیوں کا شاخسانہ تھا جسے 85 سال بعد رجب طیب اردوان نے مسجد کو دوبارہ بحال کر کے خلافت عثمانیہ کے سلطان محمد فاتح کی عظیم الشان فتح کی یاد تازہ کر دی ہے۔

یا سیدی رجب طیب اردون – ہیلو – ہیلو

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment