Home » یادیں باقی رہ جاتی ہیں

یادیں باقی رہ جاتی ہیں

by ONENEWS

یادیں باقی رہ جاتی ہیں

سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے پاکستان پیپلزپارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔ سیاست کے اسرار و رموز سے واقفیت ہونے کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ کھلتا گیا اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں وزیراعظم بنے۔سازش کا شکار ہو کر وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے باوجود کسی سیاسی دوست سے شکوہ شکایت نہیں کیا، بلکہ اسی خندہ پیشانی سے ملے، جس خلوص، پیار اور مسکراہٹ سے پہلے ملتے تھے۔ بطور وزیراعظم امریکہ کے دورہ کے دوران شیخ رشید احمد بھی ان کے وفد میں شریک تھے۔ وطن واپسی سے قبل رمز فیلڈ سے ون ٹو ون 30سے 40منٹ کی ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں پاکستانی سفیر کے ساتھ شیخ رشید احمدبھی باہر بیٹھے رہے۔ جنرل پرویز مشرف سے شیخ رشید احمد کی کیا بات ہوئی، ان کے قریب بیٹھے پاکستان کے سفیر، شیخ رشید احمد اور پرویز مشرف کو معلوم ہے کہ کیا پوچھا گیا اور کیا، کس انداز میں بتایا گیا، ان تینوں کرداروں کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہتر جانتی ہے جو دلوں کے بھید بھی بخوبی جانتی ہے۔ شیخ رشید احمد نے اس ملاقات کا تذکرہ اپنی نئی خود نوشت ”لال حویلی سے اقوام متحدہ تک“ میں اپنے مخصوص انداز میں کیا ہے، اس کے باوجود میر ظفر اللہ جمالی نے حقائق توڑ مروڑ کر تحریر کرنے پر بھی گلہ نہیں کیا، یہ ان کا بڑا پن تھا۔ جنرل پرویز مشرف،  ظفر اللہ جمالی سے ناراض ہو گئے، کیونکہ وہ انہیں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق کام کے لئے بطور وزیراعظم لائے تھے، مگر وہ تابع فرمانی کے معیار پر پورا نہ اتر سکے۔ مرحوم میر ظفر اللہ خان جمالی نے جب اپنے اختیارات کا استعمال شروع کیا تو جنرل پرویز مشرف نے ان کو عہدے سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مسلم لیگ (ق) کے صدر، سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے بھی اپنی یادداشتوں میں تحریر کیا ہے کہ میر ظفر اللہ جمالی عزت و آبرو کے ساتھ خود ہی وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونا چاہتے تھے۔ انہوں نے صدر مملکت سے ملاقات کی اور انہیں استعفیٰ پیش کر دیا۔

تحریک پاکستان کے لئے جمالی خاندان نے موثر کردار ادا کیا۔ ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو حصہ لینے کے لئے ان کے چچا میر جعفر خان جمالی نے رضا مند کیا تھا، کیونکہ وہ اس سے قبل خواجہ ناظم الدین اور حسین شہید سہروردی کو انکار کر چکی تھیں۔ صدارتی انتخابات میں میر ظفر اللہ جمالی محترمہ فاطمہ جناح کے چیف پولنگ ایجنٹ تھے۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح، ایوب خان کے خلاف جب اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں ان کے علاقے میں تشریف لائیں تو میر ظفر اللہ جمالی بطور محافظ ان کے ساتھ ساتھ رہے،  جعفر خان جمالی بابائے قوم قائداعظمؒ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ میر ظفر اللہ جمالی انگریزی، اردو، سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو زبان پر عبور رکھتے تھے۔

میر ظفر اللہ جمالی کے تایا عمیر جعفر خان جمالی کی وفات پر ذوالفقار علی بھٹو روجھان جمالی اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے لئے آئے اور ظفر اللہ جمالی کے والد شاہنواز جمالی سے کہا کہ اس گھرانے سے سیاست کے لئے مجھے ایک فرد دیں، جس پر شاہنواز جمالی نے میر ظفر اللہ جمالی کا ہاتھ ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں دے دیا۔ میر ظفر اللہ جمالی 1970ء کے انتخاب میں کھڑے ہوئے، مگر کامیاب نہ ہو سکے، لیکن 1977ء میں بلا مقابلہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ صوبائی وزیر خوراک اور اطلاعات کا قلم دان ان کے سپرد ہوا۔1982ء میں وزیر مملکت خوراک و زراعت رہے۔ 1985ء کے انتخابات میں نصیر آباد سے بلا مقابلہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔1988ء میں وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وہ پانی و بجلی کے وزیر بنے تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے علاقے کے گاؤں 190/ رب کراڑی کلاں کا میٹرک پاس نوجوان روزگار  کے لئے درخواست لے کر جمالی صاحب کے دفتر پہنچ گیا اور انہیں بتایا کہ وہ تین دن سے راولپنڈی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر بھوکا پیاسا دھکے کھا رہا ہے،آپ کے  ملازم ملاقات کے لئے اندر نہیں آنے دے رہے تھے۔ جمالی صاحب نے آنے اور ملاقات کا مقصد پوچھنے پر نوجوان نے نوکری کے لئے درخواست پیش کی تو ظفر اللہ جمالی نے نوکری کا حکم جاری کرتے ہوئے نوجوان کو واپس فیصل آباد آنے کا کرایہ بھی دیا اور کہا بیٹا اب پیٹ بھر کر کھانا بھی کھا لینا۔ نوجوان نے جمالی صاحب کے سامنے کھڑے ہو کر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نمناک ہو کر کہا کہ جمالی صاحب! آپ جیسے درد دل رکھنے والے سیاست دان کو ملک کا وزیراعظم ہونا چاہیے۔ اللہ نے اس کی دعا قبول کی۔ 2002ء کے الیکشن میں کامیاب ہوئے اور پارلیمنٹ نے 21نومبر 2002ء میں میر ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم منتخب کر لیا۔ مرحوم ایک سنجیدہ اور منجھے ہوئے سیاست دان تھے۔ بلوچستان کے دوبار نگران وزیراعلیٰ رہے، سینیٹر رہے، مسلم لیگ (ق) کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔  میر ظفر اللہ جمالی کے صاحبزادے فرید اللہ رکن قومی ہوئے اور سیاست میں والد محترم کا خلا پُر کریں گے…… اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، آمین!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment