Home » ہیر کے مزار سے نذرانے کی رقم چوری ہوگئی

ہیر کے مزار سے نذرانے کی رقم چوری ہوگئی

by ONENEWS

ڈبےکا تالا توڑکر رقم نکال لی گئی

جھنگ ميں ہیر سيال کے مزار پر چور نذرانے کے بکس کا تالا توڑ کر رقم لے کر فرار ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کر رہے ہیں تاہم رقم کا تعین نہیں کرسکتے۔ نذرانہ بکس ہر ماہ کی 20 تاریخ کو کھولا جاتا ہے۔

چوری کیسے ہوئی؟

مزار کے مجاور نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ ہیر کے مزار پر سی سی ٹی وی فوٹیج تو لگی ہے، تاہم وہ کیمرے مزار کے بیرونی دروازے کے سامنے لگے ہیں۔ مزار کے عقبی حصے پر نہ کسی سیکیورٹی کا انتظام ہے اور نہ کیمرے لگے ہیں۔ مجاور کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی کیلئے پولیس کی چوکی مزار کے ساتھ ہی برابر والے کمرے میں ہے۔

پولیس کا بیان

پولیس کے مطابق وقوعہ پیر کی رات کو پیش آیا، مزار کو رات 8 بجے لوگوں کیلئے بند کردیا جاتا ہے۔ مزار بند ہونے کے بعد چوروں نے یہ کارروائی کی۔ چور مزار کے عقبی حصے سے اندر داخل ہوئے اور نزرانہ کی رقم کیلئے رکھا گیا ڈبے کا تالہ توڑ کر رقم چرا کرلے گئے۔

کتنی رقم ؟

پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ فی الحال اس بات کا تعین نہیں ہوسکا کہ چوری کی گئی رقم کتنی تھی۔ مزار کے رکھوالوں کے مطابق یہاں بڑے عقیدت مند آتے ہیں، جو بڑی بڑی رقم نزرانہ کے طور پر دیتے ہیں۔ اس نزرانہ کے ڈبے میں ایک اندازے کے مطابق 1 لاکھ سے زائد رقم جمع ہوتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نذرانے کا باکس ہر مہینے کی 20 تاریخ کو ایک ماہ بعد کھولا جاتا ہے۔ یہ رقم محکمہ اوقاف کو دی جاتی ہے۔

ہیر کا اصلی نام کیا تھا

ہیر کا اصل نام عزت بی بی تھا۔ ہیر کا سالانہ عرس ہر سال 5 محرم سے 12 محرم تک منایا جاتا ہے۔ ہیر کا مزار اس وقت کے بادشاہ بہلول لودھی نے ہیر کی وفات کے 6 ماہ بعد تعمیر کروایا تھا، جو فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ قبر کی چھت کے عین اوپر چھت بھی ہے۔

لوگوں کے عقائد

سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں ہیر کے مزار پر آنے والے لوگوں نے بتایا کہ اس چھت کے اوپر سے بارش نہیں ہوتی، جو غلط ہے۔ جب بھی چھت مکمل کی گئی خود بخود گر جاتی ہے۔

اطراف میں قبریں

اس دربار کے اطراف اب سیکڑوں قبریں بھی بن چکی ہیں، جن کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سب ہیر کے مریدوں میں شامل ہیں۔

آج تک کوئی گدی نشین نہیں

اس دربار میں آج تک کسی کو گدی نشین نہیں بنایا گیا۔ 15 سال پہلے محکمہ اوقاف نے اس کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

دربار کے قریب کنواں اب سوکھ چکا ہے۔ اس کنوئیں کو کب اور کیوں بنایا گیا یہ کوئی نہیں جانتا۔

یہاں زندگی کی دعائیں نہیں مانگی جاتیں

یہاں آنے والوں کا کہنا ہے کہ اس دربار میں صحت یا لمبی زندگی کیلئے لوگ دعائیں نہیں مانگتے، بلکہ لوگوں کی مرادیں دوسری ہوتی ہیں۔

درخت سے بندھے دھاگے

صرف دربار کے اندر ہی نہیں بلکہ قریب موجود درخت پر بھی ہزاروں رنگ برنگے دھاگے لپٹے نظر آتے ہیں۔ دربار کے احاطے میں ہی کئی سالوں پرانا ایک درخت بھی موجود ہے، جس پر لال، کالے اور سبز رنگ کے دھاگے موجود ہیں۔

اس دربار یا مزار میں صرف محبت کی شادی کرنے کے خواہشمند جوڑے ہی دھاگے باندھتے ہیں۔ کسی کی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ یہاں سے دھاگا کھول دیتا ہے۔ اس مزار پر وہ لوگ بھی آتے ہیں، جن کی اولاد کی خواہش ہوتی ہے، یا جن کی شادی نہیں ہوتی، وہ بھی دعا کرنے یہاں آتے ہیں۔

تین قسم کی منتیں

ہیر کے مزار پر لوگ 3 قسم کی منتوں کے دھاگے باندھنے آتے ہیں۔ کالا، سبز اور لال دھاگوں کا رنگ ہوتا ہے۔ کالا دھاگا اولاد کی خواہش کیلئے، سبز دھاگا شادی کی خواہش کیلئے اور لال دھاگا محبت کی شادی کیلئے باندھا جاتا ہے۔

مزار کا رنگ

پہلے ہر سال اس مزار کا رنگ تبدیل کیا جاتا تھا، تاہم گزشتہ ایک سال سے اس مزار کا رنگ سفید ہی رکھا گیا ہے۔

You may also like

Leave a Comment