Home » ہوئے تم دوست جس کےپی آئی اے اللہ حافظ!

ہوئے تم دوست جس کےپی آئی اے اللہ حافظ!

by ONENEWS


ہوئے تم دوست جس کے،پی آئی اے، اللہ حافظ!

زندگی حادثات کا مجموعہ ہے،اچھے اور تکلیف دہ مقام آتے رہتے ہیں اور بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی معمولی سا واقعہ یا تبدیلی انسان کی زندگی کا رُخ بھی موڑ دیتی ہے، ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوا،آج ہم جس مقام پر ہیں اور زبان دانی کے حوالے سے بھی اپنا کام چلا رہے ہیں تو اس کے لئے بھی بعض شخصیات کی مہربانی ہے،اُردو ادب سے لگاؤ اور سدھ بدھ ابتدائی تعلیم کے ساتھ ان استاد محترم کی مرہون منت ہے، جو فلیمنگ روڈ پر ایک دکان میں بچوں کو پڑھاتے۔یہ دکان یوں بھی ”آنہ لائبریری“ تھی اور پڑھنے کے لئے کتابیں کرائے پر دی جاتی تھیں، ہم اور ہمارے بھائی جیسے، ساتھی عابد نظامی(ہومیو ڈاکٹر) نے یہیں اپنی زبان سیدھی کی۔ اُردو ادب کی کتابوں کے ساتھ اسرار اور جاسوسی پر مبنی کتابوں کو بھی پڑھ ڈالا، چھوٹی عمر ہی میں سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر بھی پڑھنے کو مل گئے، پھر ایک دور وہ بھی تھا، جب ہم نے محترم نسیم حجازی کے ضخیم ناول ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالے۔

بہرحال آج تو بات کرنا ہے، اپنے محترم استاد یٰسین خان صاحب کی جن کی بدولت ہم نے انگریری میں عبور حاصل کیا اور آج ہم اپنی کم علمی کے باوجود انگریزی کے حوالے سے کمزور نہیں ہیں۔یہ بھی ایک دلچسپ موڑ ہے کہ ہم قیام پاکستان سے قبل مسجد سے سکول پہنچے توچوک نواب صاحب اور پھر مسجد وزیر خان والے سکول داخل ہوئے۔یہاں سے دِل اکتایا تو والد صاحب نے فلیمنگ روڈ والے ٹیوشن سنٹر چھوڑا، وہاں سے ہم وطن اسلامیہ ہائی سکول برانڈرتھ روڈ میں داخل ہوئے تو تقسیم برصغیر کا عمل آ گیا،چنانچہ سکول چھوٹ گیا، آوارہ گردی شعار کی اور ادبی کتب (خصوصاً ناول) پڑھنے کا مستقل روگ پال لیا۔ (یہ اب بہت کام آ رہا ہے) پھر تقسیم برصغیر کی خون آلود گرد بیٹھی تو ہمارے والد صاحب کو ہمارا خیال آ گیا۔ ان دِنوں وہ مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار ضلع تھے اور ان کا دفتر شاہ عالمی دروازہ کے باہر ایک متروکہ ہسپتال کی عمارت میں تھا۔اس عمارت میں متعدد مہاجر خاندان بھی آباد تھے۔ مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے دفتر کی بالائی چھت پر محترم یٰسین خان رہتے تھے، وہ ریلوے میل سروس میں ملازم اور بچوں کی آمد کے منتظر تھے، جنہوں نے بریلی سے آنا تھا،ہم اس دفتر میں آتے جاتے اور کھیلتے تھے تو خان صاحب کی نگاہ میں بھی آ گئے۔انہوں نے ازخود ہمارے والد ِ محترم سے ہماری تعلیم کے بارے میں دریافت کیا،جب بتایا گیا کہ پانچویں جماعت کے بعد سکول نہیں جا سکے تو انہوں نے ہمیں ٹیوشن پڑھا کر ”دیر نکلوانے“ کی پیش کش کر دی، چنانچہ ہم بستر اٹھا کر اس دفتر میں لے آئے۔ یٰسین خان صاحب ہمیں دن رات پڑھانے لگے، ہمیں آج یہ یاد اور احترام ہے کہ وہ انگریزی گرائمری بہت اچھی پڑھاتے تھے،قصہ مختصر بات کرنا تھی کہ ان کی تعلیم ہی کی محنت سے ہم اسلامیہ ہائی سکول شیرانوالہ گیٹ میں ساتویں جماعت کا ٹیسٹ پاس کر کے داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔یہ ساری تمہید اِس لئے کہ استاد محترم یٰسین خان نے ہمیں انگریزی پڑھنے کے ساتھ بولنے کو بھی کہا، جب ہم نے جھجک محسوس کی تو وہ بولے: جھجک کیسی، انگریز جب پاکستان میں آئے اور یہاں اُردو بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو زبان کو کتنا بگاڑتے ہیں،ان کو کوئی کچھ نہیں کہتا اور یہ انگریزی زبان ہماری تو نہیں،ان کی ہے،اگر ہم اسے بگاڑ لیں گے تو کون سا طوفان آ جائے گا، تو اللہ بھلا کرے استادِ محترم کا کہ ہم نے بولنا بھی شروع کر دی اور یوں واقعی جھجک دور ہوئی کہ ہم اپنا مطلب جلد بیان کرنے لگے اور پھر بتدریج بہتری آتی گئی۔

یہ سب یوں یاد آیا اور قارئین کرام کا وقت لیا کہ سوشل میڈیا والوں نے اپنے دیرینہ واقف سرور خان صاحب کی زبان دانی پر بہت اعتراض کئے اور ان کے ”حقیقی کارنامے“ کو چھوڑ کر ان کے اُردو بولنے پر تنقید زیادہ کر دی کہ ان کو اُردو بھی بولنا نہیں آتی۔یہ غالباً ان کے لہجے کی بدولت ہے۔ بھائی وہ پوٹھو ہاری ہیں،اِس لئے ان کے لہجے کو معاف کریں کہ اُردو کوئی ان کی زبان تو نہیں وہ تو پوٹھو ہاری بولتے ہیں،اس میں کچھ غلط کہتے تو اعتراض کی بات بھی تھی،لیکن ہمیں تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ سب حضرات ہمارے سرور خان کے ہمدرد ہیں کہ ان کے ”اصل کارنامے“ سے توجہ ہٹا دی، حالانکہ جب انہوں نے پی آئی اے طیارے کے حادثے کے حوالے سے بات شروع کی اور ابتدائی رپورٹ سے پہلے ہی پائلٹوں کے لائسنس اور تعلیم کی بات کی تو ہم نے عرض کیا تھا کہ موصوف نے نیا پینڈورا بکس کھول دیا جو نقصان دہ ہو گا،لیکن وہ تو اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور ایوان میں حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے غیر متعلقہ معاملہ چھیڑ دیا اور پورے ڈھانچے (پی آئی اے) ہی کو مشکوک تر بنا دیا، ان کی ایوان میں تقریر پر سنجیدہ فکر حضرات سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور نتائج کا انتظار کرنے لگے کہ موصوف نے ماضی کی بہترین ایئر لائن کے پورے ڈھانچے ہی کو مشکوک ترین قرار دے دیا تھا،

اس کا نتیجہ بھی سامنے آ گیا کہ پہلے یورپین یونین نے چھ ماہ کے لئے پی آئی اے کی فضائی سروس معطل کی اور اس کے بعد برطانیہ نے بھی یہی عمل دہرا دیا، اب انتظار یہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دوسرے ملک کتنی دیر میں پیروی کرتے ہیں تو دوستو! زبان دانی اور لہجے کو چھوڑو۔یہ دیکھو کہ وہ کتنے نادان دوست ثابت ہوئے ہیں کہ پہلے سے بڑے خسارے سے دوچار ایئر سروس کو بند ہی کرا دیا کہ ”نہ ہو گا تیل اور نہ رادھا ناچے گی“ اب کر لو، جو کرنا ہے، اب تو نجکاری بھی ممکن نہیں اور ابتدائی چھ ماہ اس سروس کو ”مکمل بند“ کرانے کے لئے کافی ہوں گے۔ اسے کہتے ہیں ”نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے“ اب سر پکڑ کر رونے والوں سے کہیے صبر کریں کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے کی بانسری، ویسے اختتام پر ایک بات بتا دیں کہ موصوف سابقین پر بہت شدت سے تنقید کرتے ہیں،جبکہ خود پیپلزپارٹی کے زبردست جیالے تھے۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment