Home » ہندو جاتی کی دفاعی سرشت!

ہندو جاتی کی دفاعی سرشت!

by ONENEWS


ہندو جاتی کی دفاعی سرشت!

انڈیا کی تاریخ پر نظر ڈالئے اور 5ہزار سال قبل مسیح تک پیچھے چلے جائیے آپ کو کوئی مقامی حکمران، راجہ، مہاراجہ ایسا نظر نہیں آئے گا جس نے ہندوستان کی سرحدوں سے باہر نکل کر کسی اور ملک یا سرزمین پر جارحانہ اور جسورانہ ترک تازیاں کی ہوں۔ انڈین سورماؤں کی سب سے بڑی جنگی اہلیت، مدافعانہ (Defensive) رہی ہے۔ وہ سورمے اپنی سرحدوں کے اندر ڈٹ کر دشمن حملہ آور کا مقابلہ تو کرتے تھے لیکن کسی پر از خود حملہ آور نہیں ہوتے تھے۔وادیء سندھ کی قدیم تہذیب کا مطالعہ کریں تو ہمیں موہنجوڈارو اور ہڑپہ دکھائی دیں گے۔ ان قدیم انڈین شہروں کا رہن سہن اور تمدن بڑا صاف ستھرا اور سماج پرور ضرور ہو گا۔ لیکن ان کے باشندے امن پسند تھے، جنگجو نہیں تھے۔ اس لئے کبھی اپنی شہری یا علاقائی حدود سے باہر نہ نکلے۔ ان کو علاقائی سرحدوں سے باہر نکال دینے کا کریڈٹ آریائی اقوام کو جاتا ہے۔ ان کے زمانے کا آغاز 1500 ق م سے ہوتا ہے۔ آریا، وسط ایشیاء سے آئے تھے۔ وہ کیوں آئے اس کی وجہ آج تک کسی مورخ نے تحریر نہیں کی۔ ان آریائی حملہ آوروں کو تین غولوں (Hords) میں تقسیم کیا جاتا ہے…… ایک غول نے مغربی یورپ کی راہ لی، دوسرا ایران میں داخل ہوا اور تیسرا برصغیر ہندو پاک میں دَر آیا۔

یہ آریا بت پرست لوگ تھے…… سرخ و سفید اور دراز قامت اور مظاہر فطرت کی پوجا پاٹ ان کا شعار تھا۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ جنگجو تھے بلکہ کاشت کار اور بلا کے محنتی بھی تھے۔ ذات پات کی تمیز بھی انہی سے شروع ہوئی…… برہمن، کھشتری، ویش اور شودر …… ان لوگوں نے ہندوستان میں ایسے قدم جمائے کہ آج تک قائم و دائم ہیں۔ برہمن مذہب کے انچارج تھے، کھشتری دیش کے محافظ تھے، ویش تاجر اور سوداگر اور شودر کمی کمین اور نچلے درجے کے لوگ شمار کئے جاتے تھے۔ آج بھی انڈین آرمی میں جتنی فوج ہے اس میں برہمن اور شودر کی شرکت خال خال ہے۔ ملک کی حفاظت اور جنگ وغیرہ کا بیڑا کھشتریوں نے زیادہ اور ویشوں (تاجروں) نے کم کم اٹھایا ہوا ہے۔

انڈیا کا سب سے قدیم حکمران خاندان موریہ کہلاتا ہے جس کا زمانہ 500ق م سے 200عیسوی (یعنی سات سو برس) تک ہے۔ سکندر یونانی انہی کے دور (323 ق م) میں ہندوستان پر حملہ آور ہوا۔ لیکن جب وہ واپس گیا تو اس کا پیچھا کسی راجہ امبھی (ٹیکسلا) یا راجہ پورس (جہلم) نے نہ کیا۔ ہندو قوم میں دفاعی جذبات و احساسات اسی دور کی یادگار ہیں۔جب سکندر، نے برصغیر پر حملہ کیا تو دہلی کے تخت پر چندر گپت موریہ حکمران تھا۔ اس کا دورِ حکومت 24برس تک ہے، یعنی 322ق م سے 298 ق م تک۔ چندرگپت موریہ کے بعد اشوک کا زمانہ شروع ہوا۔ وہ بدھ مذہب کا پیروکار تھا اور اس نے 40برس تک حکومت کی۔ اس کے مرنے کے بعد پھر سے ایک اور طرح کی بت پرستی کا دور شروع ہوا اور ہندو راجاؤں نے 550 سال تک (100ء سے لے کر 650ء تک) ہندوستان پر حکومت کی۔ اس دور کے حکمرانوں میں چندرگپت بکرما جیت اور پرتھوی راج (دہلی) کے علاوہ راجہ داہر (ملتان) کے نام تاریخ میں مشہور ہیں …… ملتان کے راجہ داہر کو محمد بن قاسم نے 712ء میں لاہور اور سومنات کے راجاؤں کو سلطان محمود غزنوی نے 1023ء میں اور پرتھوی راج کو شہاب الدین غوری نے 1193ء میں شکست دی۔ غوری کے بعد 1857ء تک بہادر شاہ ظفر تک کا دور مسلمانوں کا دور کہلاتا ہے۔

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد پورے ہندوستان پر برطانیہ کی حکومت رہی جو 1947ء میں ختم ہوئی اور یہ ملک دو حصوں (انڈیا اور پاکستان) میں تقسیم ہو گیا۔

متذکرہ بالا ادوار سے ظاہر ہے کہ ہندو یا بدھ یا بعد میں مسلمان کبھی ہندوستان کی سرحد سے باہر نکل کر اپنے کسی ہمسائے پر حملہ آور نہ ہوئے……مسلمان، عرب سے آئے اور انگریز انگلستان سے لیکن نہ تو کوئی مسلمان برصغیر کی سرحدوں سے باہر نکلا اور نہ انگریز…… ہاں بعض مغلوں نے زیادہ زور مارا تو کابل تک چلے گئے لیکن تب کابل اور قندھار افغانستان کا حصہ نہ تھے۔ قندھار (غزنی) سے سلطان محمود آیا اور کابل سے ظہیر الدین بابر ہندوستان پر حملہ آور ہوا اور پھر اس کی آل اولاد یہیں کی ہو کر رہ گئی۔

قارئین محترم! یہ لمبی چوڑی تمہید اس لئے ضروری تھی کہ آپ کو یہ بتایا جائے کہ ہندو کبھی اپنی سرحدوں سے باہر نہیں نکلا۔ غزنوی کے 17حملوں سے پہلے محمد بن قاسم کے دیبل پر حملے میں بھی داہر نے ڈٹ کر دفاع کیا، غوری نے ترائن کی دوسری لڑائی (1193ء) میں پرتھوی راج کو شکست دی تو اس چوہان نے بھی ڈٹ کر دفاع کیا، بابر نے 1526ء میں اگرچہ ابراہیم لودھی کو شکست دی جو مسلمان تھا لیکن اس کا اصل مقابلہ کنواہہ کے مقام پر رانا سانگا سے ہوا۔ اس ہندو رانا سانگا کی شکست دراصل پورے ہندو سورماؤں اور مہابلیوں کی شکست تھی،رانا سانگا نے بھی بابر کا ڈٹ کر دفاع کیا اور آخر میں 1857ء میں مغلوں کی فوج نے بھی برطانوی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ لیکن یہ سب مقابلے ہندوستانی حکمرانوں کے دفاعی مقابلے تھے جو انہوں نے ڈٹ کر حملہ آوروں کے خلاف کئے اور ڈٹ کر شکستیں کھائیں! 1947ء کے بعد جو چار جنگیں بھارت اور پاکستان کے درمیان لڑی گئیں ان کی تمام تفصیلات آپ کو معلوم ہیں۔ پاکستان رقبے، آبادی، افواج، سرمائے اور وسائل کے مقابلے میں بھارت سے پانچ چھ گنا کم ہے لیکن اگر ان جنگوں میں بھارت، ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکا تو اب کیا بگاڑے گا(1971ء کی جنگ یکطرفہ تھی اور میں نے کئی جگہ لکھا ہے کہ اگر مشرقی پاکستان کی طرح بھارت کا کوئی مغربی حصہ مغربی پاکستان کے درمیان گھرا ہوتا تو پاکستان کبھی کا اس کا ”بنگلہ دیش“ بنا چکا ہوتا!)……

بھارت اس خطے میں اپنے جھوٹے زعمِ تکبّر میں گرفتار ہے۔ وہ اپنے ہمسایوں کو اپنی فوجی طاقت اور اقتصادی برتری کا خوف دلانا چاہتا ہے۔اس زعمِ تکبّر نے اسے 15جون کا دن دکھایا لیکن اس نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ مودی کی جنتا نے چینی اشیائے صرف (درآمدات) کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ ان دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کا سالانہ گراف یہ ہے کہ چین، بھارت کو 75ارب ڈالر سالانہ کی برآمدات بھیجتا ہے اور بھارت سے صرف 18ارب ڈالر کی درآمدات منگواتا ہے۔ یعنی دونوں کے تجارتی حجم میں 57ارب ڈالر سالانہ کا فرق ہے جو چین کے حق میں ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ بھارت، چین سے دو طرفہ تجارت ختم کرکے اپنا کتنا نقصان کر سکتا ہے۔ بھارت کی چینی درآمدات کا بدل کسی اور ملک سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ (اس کی تفصیل ایک الگ کالم کی متقاضی ہے)میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ہندو کی سرشت مدافعانہ ہے، جارحانہ نہیں …… وہ ڈٹ کر حملہ آور کا دفاع تو کر سکتا ہے، ڈٹ کر حملہ نہیں کر سکتا…… لیکن:

سرور جو حق و باطل کی کارزار میں ہے

تو حرب و ضرب سے بیگانہ ہو تو کیا کہیئے

15جون کو بھارت کی 16بِہار رجمنٹ کے جو 20سورما، چینیوں کے ہاتھوں مارے گئے وہ بارودی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ دست بدست لڑائی (CQB) میں مارے گئے۔ اب ہندو کہہ رہا ہے کہ اس نے بھی 40چینی سولجر ہلاک کر دیئے ہیں لیکن ان کی تفصیل بیجنگ نہیں بتا رہا، انڈیا کے اس زعمِ تکبّر پر کون ایمان لائے گا؟……کاش ان مردہ چینی سولجرز کا کوئی ایک تابوت ہی انڈین میڈیا دکھا سکتا! ہندو کی صدہا برس کی غلامانہ ذہنیت نے اسے فکری اسیری کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے، نہتے کشمیری مسلمانوں پر جور و جفا کے پہاڑ توڑنا اور بے بس ہندی مسلمانوں کی کھالیں کھینچنا ہندو بزدلی کی کھلی علامات ہیں۔ بہادر اقوام کا وہ وتیرہ نہیں ہوتا جو بی جے پی کی انتہا درجے کی دائیں بازو کی پجاری حکومت نے اپنا رکھا ہے۔

کشمیری مسلمانوں پر شرے والی بندوقوں سے وار کرنا،نابالغ بچے اور بچیوں کے چہرے مسخ کرنا، ریپ کو بطور ایک جنگی حربہ مسلمان خواتین پر لاگو کرنا، بلا اجازت مسلمانوں کے گھروں کی تلاشی لینا، کشمیری نوجوان حریت پسندوں کو طرح طرح کی ایذائیں دینا اور گاؤ کُشی کے بہانے بھارتی مسلمانوں پر عرصہ ء حیات تنگ کر دینا آخر کب تک چھپا رہ سکتا ہے؟ لداخ اور اروناچل پردیش کی ہندو آبادیوں کو تیار رہنا چاہیے کہ اگر کل کلاں کوئی اور قوم ان پر اسی طرح کے انتقامی حربے استعمال کرے تو مودی حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا؟…… دفاعی اقدار و روایات کی خوگر اقوام کی بزدلانہ حرکات کا توڑ جارحانہ اقوام کی روایات سے ہی کیا جا سکتا ہے جن میں عفو و درگزر، حلم و تدبر، برداشت اور صلہ رحمی کی صفات کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہیں۔ ہندو جنتا کی سائیکی کا ننگا مظاہرہ دیکھنا ہو تو دہلی، ممبئی، کول کتہ اور چنائی کے بازاروں میں چینی رہنماؤں کی قد آدم تصاویر کو پاؤں تلے روند کر ان کی وڈیوز کو وائرل کرنے کا تماشہ دیکھئے۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment