Home » ہم پھربھی خوش ہیں

ہم پھربھی خوش ہیں

by ONENEWS

طاہر پچھلے دس سال سے کینیڈا میں رہتا ہے۔ جیکب نہ صرف اس کا ہمسایہ بلکہ بہترین دوست بھی ہے۔ وہ ہروقت خوش رہنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ہر محفل کی جان سمجھا جاتا ہے، لیکن آج صبح جیکب خلاف معمول غمگین اور بجھا بجھا سا تھا۔ طاہرنے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پریشانی کا سبب پوچھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے ہمسائے میں ایک جوڑارہتا ہے، انہوں نے ایک کتا پال رکھاتھا۔کسی وجہ سے انہیں تین دن کے لیے ملک سے باہر جانا پڑا۔جب وہ گھر سے روانہ ہوئے توکتا کمرے میں تھاجو بے خیالی میں کمرے میں لاک ہو گیا۔جب اسے بھوک پیاس نے ستایاتو اس نے بھونکنا شروع کر دیا۔ شروع میں تو لوگوں نے اسے معمول سمجھا، مگر جب اس کا بھونکنا کسی طور بند نہ ہوا توانہیں تجسّس ہوا، پولیس کو اطلاع دی گئی، پولیس آئی، دروازہ توڑا گیا،یوں کتے کو باہر نکال کر اسے خوراک مہیا کی گئی۔

یہ سن کر طاہر نے پوچھا: اس میں پریشانی کی بات کیا ہے؟ جیکب نے کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھا اور کہا: مَیں اس لیے پریشان ہوں کہ ایک کتا دو دن کمرے میں بند رہا۔اگر وہ بھوک پیاس سے مر جاتا تو؟ طاہر نے مسکرا کر کہا: بس! تم اتنی سی بات پر پریشان ہو؟ ہمارے ملک میں سینکڑوں دھماکے ہوتے ہیں، جن میں ہزاروں لوگ مرتے ہیں، لیکن پھربھی ہماری وہ حالت نہیں ہوتی جو تمہاری محض ایک کتے کے بھوکا پیاسا رہنے پر ہو رہی ہے،کیوں؟کیونکہ ہم بہادراور تم بزدل قوم ہو۔ یہ سن کر جیکب نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندے پر رکھا، تھپکی دی اورکہا: ”نہیں! ایسا اس وجہ سے ہے،کیونکہ تم بے حس ہو۔ تم جسے اپنی بہادری سمجھ رہے ہو  وہ بہادری نہیں، بے حسی ہے اور جسے ہماری بزدلی سمجھ رہے ہو، وہ بزدلی نہیں احساس ہے“۔

اگر آپ جیکب کی بات کو گہرائی میں دیکھیں تو اس نے ہماری نفسیات کو ایک فقرے میں سمو دیا ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہم  واقعی بے حس ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں ”توجّہ دلاو“ نوٹس کہتا ہے کہ پنجاب میں تہترہزار (73000) اشتہاری ابھی تک گرفتار نہیں کیے جاسکے۔ ان میں سے دوسوچالیس (240) وہ ہیں جن کا نام بلیک بک میں ہے۔ اگر دو ڈالر یومیہ آمدنی کاحساب لگایا جائے تو ہماری آدھی آبادی خط غربت سے نیچے ہے، جبکہ عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مطابق یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔پچھلے چاربرسوں میں ہمارے ہاں 2300000 جرائم ہوئے۔ ملک میں 6700000 سے زائد لوگ نشے کے عادی ہیں، جن کی عمریں پندرہ سال سے چونسٹھ سال تک ہیں۔ سات لاکھ سے اوپرسٹریٹ کرائم ہو تے ہیں۔ ملک عزیز میں ہر ہزار میں سے دوسوساٹھ بچے زچگی کے فوراً بعد مرجاتے ہیں،جو بچ جاتے ہیں، ان میں سے بھی پندرہ فیصد شدید بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

زچگی کی وجہ سے پینسٹھ لاکھ خواتین مختلف پیچیدہ مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ آبادی کے ہر پانچ چھ لاکھ کے لیے صرف ایک سائیکا ٹرسٹ  ہے۔ ہماری صحت کے لیے بجٹ کا شرمناک حصہ ہے۔ 1500000 سے زائد لوگ دماغی مسائل کا شکار ہیں، جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ہماری چالیس فیصد آبادی مختلف سطح کے کسی نہ کسی دماغی یا نفسیاتی عارضے کا شکار ہے۔لوگ باہر سے آتے ہیں اور دن دیہاڑے لوگوں کومار کر باعزّت رہاہوجاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق زندگی کے لیے محفوظ ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر ایک سو سینتیس، شرح خواندگی کے اعتبار سے ایک سو انچاس، صحت میں ایک سو چھپن، معیارزندگی میں ایک سو سڑسٹھ اورانسانی ترقی کے لحاظ سے ایک سو انتالیس درجے پر ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ملازمتی شعبہ چالیس فیصد، جبکہ عدلیہ اور ارکان پارلیمینٹ چودہ فیصد کرپشن کا شکار ہیں۔ پچھلے سال اٹھارہ فیصد شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی نہ کسی سطح پر رشوت دینے پر مجبور ہوئے۔

یہ سارے حقائق اپنی جگہ، لیکن ہم پھر بھی اتنے ”بہادر“ ہیں کہ کتا توکجا،دھماکوں اور دہشت گردی میں ذبح ہونے والوں کا غم بھی ہماری روش نہیں بدل سکا۔ ایک نظر ان مسائل کو دیکھیں، پھر دیانتداری سے بتائیں کہ کیا واقعی خوشی اسی کا نام ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم لوگ واقعی بے حس ہیں اور وہ بھی اس قدرکہ خوشی اور بے حسّی کے فرق سے ناآشنا ہو چکے ہیں۔ کیا ہمارے ”مائی باپ“ حقیقت پسندی کا سامناکر سکتے ہیں؟ عوام اتنے بے حس کیوں ہوئے؟ انہیں ”نفسا نفسی“ کی کیفیت میں مبتلا کرنے والا کون ہے؟ کیا ملک اسی لیے بنا تھا؟کیا قومیت، رنگ اور زمین اور انداز تبدیل ہونے کا نام آزادی ہے؟عرصہ بعد سینے کا غم اشعار کی صورت میں ڈھالا ہے:

زندان تو بدلا ہے، زنجیر نہیں بدلی

نگران ہی بدلا تھا، تقدیر نہیں بدلی

آزاد ہوئے تھے ہم کیسی تھی یہ آزادی

بس ملک ہی بدلا تھا، تقدیر نہیں بدلی

ہے قید وہی اب بھی، بس فرق یہی ٹھہرا

دیوان تو بدلے تھے، تحقیر نہیں بدلی

ہے جسم ہمارا ہی معمول ستم اب بھی

مامور تو بدلے ہیں، تذلیل نہیں بدلی

اسلام کے نعرے پر اک ملک بنا ڈالا

ملبوس ہی بدلے ہیں، تبخیر نہیں بدلی

کوثر یہاں لوگوں میں خیرات بٹی اتنی

پہچان تو بدلی ہے، تفریق نہیں بدلی

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment