Home » ہم آزادی چاہتے ہیں جو ہمارپید ائشی حق ہے رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

ہم آزادی چاہتے ہیں جو ہمارپید ائشی حق ہے رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

by ONENEWS

ہم آزادی چاہتے ہیں جو ہمارپید ائشی حق ہے رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

”ہم آزادی چاہتے ہیں جو ہمارا پیدائشی حق ہے اس کے حصول کے لئے ہم اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ اب جس راستے پر نکل کھڑے ہوئے ہیں اس سے ہمیں ہٹایا نہیں جا سکتا۔کشمیر کا بچہ بچہ جہاد کے لئے تیار ہے۔ ہمیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا گیا ہے۔ نتائج کی پرواہ کئے بغیر میدان عمل میں کود پڑے ہیں۔ آزادی کے حصول کے لئے آخری دم تک لڑیں گے اور خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے“۔ یہ الفاظ ان کشمیری عوام کے ہیں جو ہندو سامراجی طاقتوں کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں۔

آج وہ کشمیر ہے مجبور و محکوم و فقیر

کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو مسئلہ کشمیر برصغیر سے انگریزوں کے جانے وقت سے ایک المیہ کے طور پر موجود ہے۔1946میں مسلم کانفرنس کی دعوت پر سری نگر میں قائداعظم نے استقبالیہ میں اپنے خطاب میں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔پھر19جولائی 1947کو سردار ابراہیم کے گھر سری نگری میں باقاعدہ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ الحاق کے حوالے سے قرارداد منظور ہوئی اور بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ نے اس اجلاس میں بھی کشمیر کو پاکستان کا لازمی حصہ قرار دیا تھا۔ چنانچہ جب اس پر عمل نہ ہوا تو 23اگست کو جدوجہد کا آغاز ہوا تھا۔

پنچہء ظلم وجہالت نے برا حال کیا

کرکے مقروض ہمیں بے پرو بے بال کیا

توڑ اس دست جفا کیش کو یا رب جس نے

روح آزادیء کشمیر کو پا مال کیا

جب سے سازش کے تحت کشمیر جنت نظیر پر بھارئی حکومت کا قبضہ کرایا گیا ہے۔لاکھوں برہان وانی آزادی کے لئے جانیں دے چکے ہیں۔ ان گنت جواں سال کشمیری شہزادیاں یہ کہتے ہوئے اپنے جان قربان کر چکی ہیں کہ

ہاتھ میں پتھر لئے شہزادیاں کشمیر کی

ڈھونڈنے نکلی ہیں خود آزادیاں کشمیر کی

حضرت قائداعظمؒ نے 1946میں سری نگر میں کہا تھا کہ جب ہمارا خدا ایک،رسول ایک اور قرآن ایک ہے تو ہمارا آزاد وطن بھی ایک ہونا ضروری ہے۔ کشمیر کے بزرگ حریت پسند رہنما سید علی گیلانی دور حاضر میں کہتے ہیں۔”کشمیر کی 750میل لمبی سرحد پاکستان سے ملتی ہے جتنے دریا کشمیر سے نکلتے ہیں، ان کا رخ پاکستان کی طرف ہے۔ہماری طرف آنے والی ہوائیں راولپنڈی سے گزر کر آتی ہیں۔ بارشیں ایک ساتھ برستی ہیں۔یہ اتنے مضبوط رشتے،یہ تاریخی حقیقتیں ہیں،اس لئے میں کشمیر کو پاکستان کا قدرتی حصہ قرار دیتا ہوں“

بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی اور ایس آر ایس سوچ کے حامل مودی کی طرف سے کشمیر میں خصوصی حیثیت کے حامل بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35اے کے خاتمہ سے پورا مقبوضہ کشمیر ایک خوفناک جیل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مودی سرکار نے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے۔ بھارتی حکومت نے اپنی عیاری اور مکاری سے آزادی کے متوالوں پر ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔جب سے 370اور 35اے کو منسوخ کیا گیا ہے تب سے وحشت وبربریت،المناک واقعات،جانگداز سانحات اور مظالم اپنی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔معصوم بچے دودھ کے لئے بلک رہے ہیں۔بھارتی درندوں نے ہر گلی،ہر محلہ میں نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام کا بازار گرم کررکھا ہے۔عقوبت خانوں میں نوجوانوں اور مجاہدین کو جو اذیتیں دی جارہی ہیں ان کی رو داد سن کر رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ عورتوں کی بے حرمتی اور ان کی عصمت دری بھارتی فوجوں کا معمول بن چکا ہے۔

یہ سب اذیتیں انہیں صرف اور صرف آزادی کا نعرہ بلند کرنے کی پاداش میں دی جارہی ہیں۔ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اب تک کتنی ماؤں کی گود اجڑ چکی ہے۔کتنی بہنوں کے بھائی ان سے جدا ہو چکے ہیں،کتنے بچے اپنے ماں باپ کی شفقت سے محروم ہو چکے ہیں،کتنی عورتوں کے سہاگ اجڑ چکے ہیں،کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے،ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ حتیٰ کہ پانی اور بجلی کی سپلائی بند ہے۔بھارتی فوج نے وادی کو عملی طور پر دنیا سے کاٹ کروہاں کے عوام کو محصور کر دیا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ صورتحال یہاں تک آ گئی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹر نیٹ کی سروس بندکر دی گئی ہے تاکہ مود ی سرکار کے مظالموں کی داستانیں اقوام عالم تک نہ پہنچ سکیں۔ملکی اور غیر ملکی میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں۔حتیٰ کہ بھارتی حکومت نے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی اور ان کے وفد کو کشمیر میں داخل ہونے سے روک دیا جو ریاست کی اصل صورتحال سے آگاہی حاصل کرنا چاہتے تھے۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت دو نیو کلیئرآرمڈ ملکوں کو ناگہانی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے اور نیو دہلی نے کشمیر کو اس خطے کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے 11ستمبر2019کو بھارتی نے سیٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ پاس کیا جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو آباد کیا جارہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک لاکھوں گھرتعمیر ہو چکے ہیں جن میں غیر کشمیری رہ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہزاروں کی تعداد میں ڈومیسائل جاری کئے جارہے ہیں جن کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انسانیت سوز تشدد اور المناک واقعات انسانی حقوق کا پرچار کرنے والے ممالک،اقوام متحدہ اور دیگر ادارے جو اپنے آپ کو انسانی حقوق کے تحفظ کا سب سے بڑاچیمپیئن اور علمبردار سمجھتے ہیں کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں۔ مہذب دنیا انسانیت کی تذلیل پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔کیا ان کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم نظر نہیں آرہے؟ انہوں نے بھارتی درندوں کے ہاتھوں بے گناہ اور نہتے کشمیریوں پر ہونے والے تشدد اور بربریت کو ختم کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟بڑی طاقتوں کی خاموشی سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ اس کے برعکس جب بڑی طاقتوں کے حقوق پر زد پڑتی ہے تو وہ متحد ہو کر اپنے حقوق کے حصول کے لئے اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

آج مقبوضہ کشمیر پر بھارتی حکومت کے غیرقانونی قبضے اور فوجی محاصر کے 550روز ہو گئے ہیں مگر عالمی طاقتیں خاموش ہیں۔ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ احسن انداز میں لڑا ہے۔ انہوں نے برطانیہ کی پارلیمنٹ سے لے کر امریکہ کے ایوانوں میں بڑی جرأت سے عالمی رہنماؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے مدلل انداز میں دنیا کو اس عالمی سانحے،خطے میں امن کے لئے سب سے بڑے خطرے اور اس کے نتائج کے ساتھ انسانی سطح پر رونما ہونے وا لے المیے سے آگاہ کرنے کا سلسلہ اس طرح جاری رکھا ہوا ہے کہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔

حکومت پنجاب نے قوم کے جذبات کی ترجمانی اور اقوام عالم کے ضمیر کو جھنجوڑنے کے لئے 5فروری کو ”یوم کشمیر“ منانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ اس جدوجہد کو جاری رکھنے اور وقت کے ساتھ ساتھ منزل کے حصول کے لئے اس کو مزید تیز کرکے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں مسئلہ کشمیرکو عالمی سطح پر اٹھانے اور عالمی ضمیر کو جگانے کے لئے ہر دن یوم کشمیر کے طور پر گذارا جارہا ہے۔کشمیری عوام کے ساتھ اظہاریکجہتی کے مرکزی تقریب گورنر ہاؤس پنجاب میں منعقد ہو گی جس میں گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور،وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار،وزراء کرام،سرکاری افسران اور تمام مکاتب فکر کے تعلق رکھنے والے شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ ڈویژنل،ضلعی اور تحصیل کی سطح پر سیمینارز،واکس،ہاتھوں کی زنجیر،تصویری نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ہمیں صرف اسی پر اکتفا نہیں کرنا بلکہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کی صورت میں حکومت اپنی قوم کی ترجمان بن کر اس جدوجہد کو آگے بڑھا رہی ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment