Home » ہمیں مرنے کی اجازت دی جائے!

ہمیں مرنے کی اجازت دی جائے!

by ONENEWS

ہمیں مرنے کی اجازت دی جائے!

جب سے کورونا کی دوسری لہر شروع ہوئی ہے، میرے بچوں نے مجھے سختی سے منع کر رکھا ہے کہ باہر نہ نکلو کورونا پکڑ لے گا۔ کورونا پکڑے گا یا نہیں یہ دوسری بات ہے لیکن اس ایکسرسائز نے یادِ ماضی کا عذاب دہ چند کر دیا ہے۔ کسی پرانی انڈین فلم کے گانے کے مکھڑے کا پہلا مصرع بار بار یادوں کی چلمن سے جھانکتا ہے اور بتاتا ہے کہ: ”گزرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ“…… لیکن مصرعہء ثانی پر جب نظرجاتی ہے تو کورونا ایک حقیقت کی صورت میں مجسم ہو کر سامنے آتا ہے، بالخصوص یہ ٹکڑا کہ ”حافظ خدا تمہارا“……

جب میڈیا پر نظرجاتی ہے تو یہ ٹِکر دیکھ کر ہول آنے لگتا ہے کہ پاکستان میں پچھلے 24گھنٹوں میں کورونا نے 59جانیں نگل لی ہیں۔ اس سے ایک دن پہلے (25نومبر 2020ء) بی بی سی میں یہ خبر بھی سنی اور دیکھی کہ امریکہ میں ایک روز میں 2015 انسان، جان کی بازی ہار گئے…… یا اللہ! یہ کیسا عفریت ہے۔

اپنے بلوچستان کے ایک سابق وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری صاحب کی صاحبزادی بھی اگلے روز، جس کی عمر 22برس تھی، کراچی کے ایک ہسپتال میں کورونا ہی میں مبتلا ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ اللہ کریم ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ مجھے ان کی وفات سے ان کا آبائی گاؤں زہری بہت یاد آیا۔ 1971-72ء میں جب میں قلات سکاؤٹس خضدار میں تھا تو ہماری ایک کمپنی (110افراد)زہری میں صف بند تھی جو خضدار کے شمال مشرق میں 80میل (130 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں اکثر آنا جانا رہتا تھا۔میر ثناء اللہ زہری کے والد مرحوم میر ڈوڈا خان زہری وہیں مقیم تھے۔ بڑے شفیق اور دانش مند انسان تھے۔بطور رکن قومی اسمبلی وہ اسلام آباد میں بیٹھ کر اپنے علاقے کی سیاست کو اس طرح کنٹرول کرتے تھے جیسے کہ وہ خود اپنے گاؤں (زہری) میں بیٹھے ہیں اور تمام انتظامی معاملات وہیں بیٹھ کر حل کر رہے ہیں۔

زہری میں ہماری کمپنی نے انگور کے باغات لگا رکھے تھے۔ یہ شاید آب و ہوا کی تاثیر ہے کہ زہری کے انگوروں کی مٹھاس (اور کٹھاس) کوئٹہ (چمن) کے سندر خانی انگوروں سے کہیں زیادہ لذیز ہوتی ہے۔ اس زمانے میں بلوچستان بھر میں صرف ایک طویل سڑک RCD ہائی وے پکی (بلیک ٹاپ) تھی جو کوئٹہ سے کراچی تک جاتی تھی۔ خضدار درمیان میں واقع تھا۔ یعنی کوئٹہ اور کراچی کے مابین 200میل (300کلومیٹر) کی مساوی دوری پر…… باقی تمام سڑکیں کچی تھیں۔لیکن پنجاب کے میدانی علاقوں کی کچی سڑکوں کی طرح نہیں بلکہ ان میں ’دھو ل اور گرد‘ نام کو نہیں ہوتی۔ ان کچی سڑکوں کی ایک اور خصوصیت بالخصوص قابل ذکر ہے جو ہمارے پنجابی، سندھی یا خیبرپختونخوا کے علاقوں کی کچی سڑکوں میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ان سڑکوں کو Corrugatedسڑک کا نام دیا جاتا ہے۔ اردو زبان میں اس کا کوئی ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔ نزدیک ترین ترجمہ ”نالی دار سڑک“ ہے۔ ان سڑکوں پر برابر برابر وقفوں میں اوپر تلے ایک قسم کی پکی نالیاں سی بن جاتی ہیں جن پر گاڑی کو ایک خاص رفتار سے تیزی سے بھگایا جاتا ہے۔ اگر رفتار آہستہ ہو تو گاڑی رک رک جاتی ہے۔ زہری (یا وڈھ یا زیدی وغیرہ بلوچستانی قصبات) میں ان ایام میں سفر کرنے کے لئے یہی ”نالی دار“ کچی سڑکیں تھیں جن پر گاڑی کو 80اور 100کلومیٹر کی رفتار پر ڈرائیو کرنا پڑتا تھا اور زہری کی یہ سڑک تو مجھے اس حوالے سے بھی یاد ہے کہ اس کی چوڑائی بمشکل بڑے ٹرک کے دوپہیوں کے برابر تھی۔ اگر ڈرائیور کی توجہ ذرا سی اِدھر اُدھر ہو جائے تو سڑک کے دونوں جانب بنے اونچے کناروں سے ٹکڑا کر گاڑی کا آف روڈ  ہونا اور بند ہو جانا نوشتہء دیوار ہوتا تھا۔ رشین جیپوں کی سسپنشن اس حوالے سے کافی مضبوط (Robust) تھی کہ ہم ان سڑکوں پر ڈرائیو کرنے سے ہمیشہ لطف اندوز ہوا کرتے اور اپنی ڈرائیونگ مہارت (Skill) پر نازاں رہا کرتے تھے۔

دیکھئے یہ سیاست بھی کتنا سنگدل کاروبار ہے کہ مس زہری کی وفات کو میڈیا پر کوئی کوریج نہیں دی گئی لیکن جب سے یہ خبر آئی ہے کہ بلاول زرداری کو بھی کورونا ہو گیا ہے اور وہ قرنطینہ میں چلے گئے ہیں تو تمام ٹی وی چینلوں پر یہ خبر، اولین خبر کے طور پر نشر کی گئی۔ اور خیال ہے کہ جب تک بلاول صاحب آئسولیشن میں رہیں گے، ابلاغی خبریں ان کے اردگرد گردش کرتی رہیں گی۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ انہوں نے پشاور کے جلسے میں احتیاطی تدابیر کو زیادہ گھاس نہیں ڈالی تھی اس لئے کورونا کی گرفت میں آکر قرنطینہ ہونا پڑا۔ لیکن خیال کریں کہ اگر اس جلسے (یا ریلی) میں باقی شرکاء میں سے اکثر کا بھی یہی حال ہو جائے تو کیا ہو گا؟ ہمارے عوام سیاست کے دیوانے ضرور ہیں، لیکن ان کو یہ درسِ فرزانگی کون دے کہ یہ کورونا کسی امیر غریب میں کوئی تمیز نہیں کرتا اور نہ ہی کسی جوان بوڑھے میں عمر کا کوئی فرق ملحوظ رکھتا ہے۔ اپوزیشن یہ سمجھتی ہے کہ حکومتی حلقے جان بوجھ کر اس کو جلسوں اور ریلیوں سے روک رہے ہیں جبکہ دوسری طرف حکومت کو ڈر ہے کہ اگر کورونائی مریضوں کی تعداد بڑھ گئی تو ہسپتالوں میں ان کو رکھنے کی گنجائش نہیں رہے گی اور اپوزیشن کی بن آئے گی اور وہ یہ دعوے کرے گی کہ دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ حکومت ناکام ہو گئی ہے، اسے استعفیٰ دے کر گھر چلے جانا چاہیے، اس کے دن پورے ہو چکے۔ لوگ (خدانخواستہ) سڑکوں پر مر رہے ہیں اور یہ لوگ اسلام آباد میں تختِ حکمرانی پر جلوہ فرما ہیں! وغیرہ وغیرہ……

کورونا ایک حقیقتِ ثابتہ ہے اور دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی اس حقیقت کا سامنا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں ایک اور حقیقت بھی ثابتہ ہے…… یہاں ڈھائی تین برس سے ایک ”سیاسی انہونی“ وقوع پذیر ہو چکی ہے۔ ہماری گزشتہ دو نسلیں پاکستان کو زوال آمادہ دیکھنے کی خوگر ہو چکی ہیں۔ ہم اس ہمہ جانبی (All encompassing) انحطاط کے ایسے عادی ہو چکے ہیں کہ اس گردان سے باہر نکلنے کی مساعی کرنے والوں کی مزاحمت پر کمربستہ ہیں۔ عوام کی اکثریت اگرچہ اگست 2018ء میں نئی حکومت کو اقتدار میں لا چکی ہے لیکن اپوزیشن اس تبدیلی کو تسلیم کرنے پر رضامند نہیں۔ وہ (خود پر) ستم کاری سہنے اور کرپشن و اقربا پروری برداشت کرنے کی لت میں ایسی گرفتار ہے کہ آدھے پاکستان کو چین سے جینے کا حوصلہ دینے کی بجائے بے چینی سے مر جانے کو گلے لگانے پر تلی ہوئی ہے۔ حکومت آنے والے برسوں میں دور رس منصوبوں پر عمل پیرا ہو کر سہانے مستقبل کے تانے بانے بن رہی ہے لیکن اپوزیشن بڑی ”استقامت اور شقاوت“ سے یہ نیا سویرا نہیں دیکھنا چاہتی۔ میں نے کئی بار سوچا ہے کہ اگر آج کے ملتان کے جلسے میں بعض لوگ کورونا کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جانے کو ترجیح دیتے ہیں تو ریاست کو ان کی راہ میں ”حائل“ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی مرنا چاہتا ہو تو اسے مرنے کا حق دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت یہ بھول رہی ہے کہ اس کی ذمہ داری اسے موت کے منہ میں جانے سے بچانے کی ہے!…… وہ لوگ جومرنے پر تلے ہوئے ہیں، ان کو اپنا شوق پورا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ حکومت عوام کے بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے پر اپنی توانائیاں خرچ نہ کرے تو اس کے حق میں یہی بہتر ہوگا۔ بقولِ غالب (بہ ادنیٰ تصرف):

منحصر ہو جن کی مرنے پر امید

ناامیدی ان کی دیکھنا چاہیے

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment