Home » ہمیں صوبہ گلگت۔ بلتستان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے

ہمیں صوبہ گلگت۔ بلتستان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے

by ONENEWS

ہمیں صوبہ گلگت۔ بلتستان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے

گزشتہ ہفتے میں نے دو اقساط پر مشتمل ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا: ”شاہراہِ قراقرم کا متبادل“……(بعض قارئین نے بارہا میری توجہ اس امر کی طرف مبذول کروائی ہے کہ میرے اکثر کالم اصطلاحی معنوں میں کالم کم اور آرٹیکل زیادہ ہوتے ہیں …… چلو اس کالم کو بھی آرٹیکل سمجھ لیا جائے)

میں نے کالم تو لکھ دیا لیکن تلاشِ بسیار کے باوجود ایسا نقشہ نہ دے سکا جو اس متبادل شاہراہ کی جغرافیائی / زمینی وضاحت کرتا۔ اس قسم کے مضامین میں نقشہ یا خاکہ ضروری ہوتا ہے۔میرا خیال تھا ابھی یہ شاہراہ صرف ایک آئیڈیا، ایک تصور ہے جس کو مجسم صورت میں ڈھلنے کے لئے کئی برس درکار ہوں گے۔ سال 2021ء کے اواخر تک اس کی مفصل رپورٹ فیڈرل وزارتِ مواصلات میں تو تیار کر لی جائے گی۔ لیکن پھر اسے CPEC کی اعلیٰ سطحی کمیٹی میں پیش کیا جائے گا، چین اور پاکستان دونوں اس پر بحث و مباحثہ کریں گے اور تب جا کر اس کا سنگِ بنیاد رکھا جا سکے گا۔ شاہراہِ قراقرم (KKH)اور دنیا بھر کے اس طرح کے میگا پراجیکٹوں میں یہی ٹائم لائن اختیار کی جاتی ہے۔ چونکہ گلگت۔بلتستان (GB) اب ایک باقاعدہ صوبہ بن چکا ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس علاقے کی تاریخی، جغرافیائی، ثقافتی، مذہبی، تعلیمی، طبی، سماجی اور اس طرح کی دوسری ہمہ جانبی معلومات سے پاکستانی قارئین کو آگاہ کیا جائے۔ماضی میں ایک طویل مدت تک یہ علاقے، ’شمالی علاقہ جات‘ کہلاتے رہے اور ان کی اہمیت کا صرف ایک ہی پہلو قابل ذکر رہا۔ میری مراد کوہ ہمالیہ، کوہ قراقرم اور کوہ ہندوکش کی بلند اور فلک بوس چوٹیوں کی کوہ پیمائی سے ہے جن کو سر کرنے کے لئے ہر سال مختلف ممالک سے کوہ پیما یہاں آتے تھے۔ (اور آج بھی آتے ہیں) لیکن اب تو موسم کی بھی کوئی قید نہیں رہی۔ پچھلے دنوں شدید برفباری کے دوران بھی پہلی مرتبہ ایک نیپالی کوہ پیما ٹیم نے K-2چوٹی سر کی ہے جس کی خبر عالمی میڈیا کی توجہ کا سبب بنی۔

شمالی علاقہ جات کے بارے میں ہم پاکستانیوں کوان کا تعارف 1984ء میں اس وقت ہوا جب انڈیا نے درۂ قراقرم پر قبضہ کر لیا اور پھر وہاں سے سیاچن گلیشیئر کے دوتہائی رقبے پر قابض ہو گیا۔ آج بھی اس کا قبضہ برقرار ہے۔ اور پھر مشرقی لداخ کے سوال پر جب انڈیا اور چین کی افواج کے درمیان ملٹری سٹینڈ آف شروع ہوا اور 15جون 2020ء کو انڈین آرمی کے 20جوان اور آفیسر چینی آرمی کے ہاتھوں مارے گئے تو یہ خطہ ایک دم گویا خوابِ گراں سے بیدار ہو گیا۔ اب پاکستان، انڈیا اور چین کو بھی GB کی سٹرٹیجک لوکیشن کا احساس ہونے لگا اور جب انڈیا نے جھیل پاگونگ، دولت بیگ اولدی اور لیہ (Leh) میں اپنی گراؤنڈ اور ائر فورسز کی تعداد میں ایک بڑا اضافہ کر دیا تو پاکستان کو بھی اس امر کا احساس ہوا کہ ماضی کے شمالی علاقہ جات کو ایک ریگولر پاکستانی صوبہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اور وہ حال ہی میں بن چکا ہے۔ اس کی ڈویلپمنٹ کا آغاز ہو چکا ہے اور حالیہ الیکشنوں میں پی ٹی آئی نے GB کے باشندوں سے جو وعدے کئے تھے ان پر عملدرآمد کی رفتار تیز ہونے لگی ہے…… اس ڈویلپمنٹ میں یہ نیا روٹ بھی شامل ہے جس کی کچھ تفصیلات راقم السطور نے اپنے کالم میں تحریر کی تھیں۔

یہاں ایک اور بات بھی عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ہم پاکستانیوں کو عادت ہے کہ جب تک ہمیں کوئی کچوکے نہ لگائے، ہم سوئے رہتے ہیں۔ انڈیا نے دولت بیگ اولدی اور درۂ قراقرم پر اپنی فوجی نفری بڑھا کر، لداخ کے سارے علاقے میں سڑکوں کا جال بچھا کر اور ایسے ہوائی اڈے بنا کر ہمیں خبردار کر دیا ہے کہ انڈیا چندی گڑھ ائر بیس سے لداخ اور دولت بیگ اولدی تک نہ صرف اپنے دیوہیکل ٹرانسپورٹ طیاروں کو سٹیشن اور آپریٹ کر سکتا ہے بلکہ فرانس سے خریدے گئے رافیل جنگی طیاروں کو لیہ اور اس کے گرد و نواح میں صف بند بھی کر سکتا ہے (اور شاید کر بھی چکا ہے) اگر یہ صورت حال ہو اور انڈیا، کارگل اور قراقرم سے پاکستان کے GB کے علاقوں کے خلاف کارروائیاں کر سکتا ہو تو ہماری خوابیدہ قوم کو بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم پاکستانیوں نے ایک بات یہ بھی طے کر رکھی ہے کہ جنگ و جدال صرف فوجیوں کا کام ہے۔

فوج لاکھ واویلا مچاتی رہے کہ یہ ہائی برڈ وار فیئر کا دور ہے جس میں دشمن کا فوکس نفسیاتی جنگ پر زیادہ اور گرم پر کم ہوتا ہے ہم نے سوئے رہنا ہے…… اب یہی دیکھ لیں کہ چین اور پاکستان کو زمینی راستے سے ملانے والی اس دوسری شاہراہ پر ہمارے میڈیا کی خاموشی کتنی افسوسناک ہے۔ایک عرصے سے ہم اپوزیشن اور حکومت کی حالیہ سرگرمیوں کا ذکر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ فارن فنڈنگ اور براڈشیٹ گویا اب ہاؤس ہولڈ موضوعات بن چکے ہیں لیکن ہمارا میڈیا یہ نہیں بتاتا کہ انڈیا کے عسکری عزائم کیا ہیں اور اگر وہ لداخ سے پاکستانی علاقوں کے خلاف کوئی فضائی / زمینی کارروائی کرتا ہے تو اس کے مضمرات کیا ہوں گے…… مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ اسرائیل منظور یا نا منظور ہونے کی ریلیوں اور جلسے جلوسوں کی بجائے دشمن کے فوجی ارادوں پر بات کرنا کیا باعثِ شرم موضوع ہے؟

ایک اور بات جو میں قارئین کے ساتھ شیئر کرنی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میرے ان کالموں (یامضامین) پر جن کا تعلق دفاع اور افواجِ پاکستان سے ہوتا ہے جو فیڈ بیک مجھے ملتی ہے وہ پاکستانی قارئین سے زیادہ بیرونِ ملک قارئین سے آتی ہے۔ان غیر ملکی پاکستانی حضرات نے بھی بارہا یہی سوال مجھ سے پوچھا کہ پاکستان کا پریس میڈیا خطے کی دفاعی صورتِ حال پر کم کم کیوں لکھتا ہے۔ میرا جواب بالعموم یہ ہوتا ہے کہ ان موضوعات پر لکھنے والوں کی غالب تعداد انگریزی خواں اور انگریزی داں ہے اور چونکہ اردو زبان میں ان موضوعات پر کوئی زیادہ تصنیفات بازار میں دستیاب نہیں اس لئے ہمارے کالم نگار دوست از راہِ مجبوری صرف ملکی سیاسیات پر زیادہ لکھتے ہیں۔ ہمارا مین سٹریم الیکٹرانک میڈیا (TVچینل) کو یہی مجبوری لاحق ہے۔ کوئی پاکستانی چینل اگر انگریزی زبان میں نشریات سے احتراز کرتا ہے تو اس کی وجہ شاید سامعین و ناظرین کی کمی ہے۔ اس لئے وہ دفاعی اور سٹرٹیجک معاملات و موضوعات کی طرف کم متوجہ ہوتا ہے۔ میڈیا پر آج کل ایک اور رجحان بھی خوش آئند ہے اور وہ یہ ہے کہ پاکستان کا سوشل میڈیا اب اس کمی کو پورا کرنے کی طرف گامزن ہے۔ بعض ریٹائرڈ ملٹری آفیسرز نے اپنا ایک الگ چینل جوائن کر رکھا ہے۔

مثلاً جنرل امجد شعیب DDA کے نام سے تقریباً ہر روز کسی نہ کسی دفاعی یا بین الاقوامی سٹرٹیجک موضوع پر 10،12 منٹ کی گفتگو کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض ویب سائٹس نے اب دفاعی امور پر اردو زبان میں بحث و مباحثہ شروع کر دیا ہے۔ انگریزی کی عسکری اصطلاحات کو اردو زبان میں ادا کرکے اپنا نقطہ ء نظر بیان کر دیا جاتا ہے۔ اس کا نام ”انٹرنیشنل ڈیفنس انیلے سز (Analysis)“ ہے۔ اس میں باتصویر عسکری خبریں اور معلومات دی جاتی اور ان پر تجزیہ پیش کیا جاتا ہے…… اور یہ ایک اچھی ڈویلپمنٹ ہے۔ مین سٹریم الیکٹرانک میڈیاکے مقابلے میں سوشل میڈیا کی رسائی اگرچہ کم ہوتی ہے کیونکہ صرف وہی موبائل فون ان خبروں کو نشر کر سکتے ہیں جو سمارٹ موبائل کہلاتے ہیں۔ میرا خیال ہے اگرچہ ان موبائل فونوں کی سیل پاکستان میں دوسرے غیر سمارٹ موبائل فونوں کے مقابلے میں کم ہے لیکن جو خریدار مہنگا سمارٹ موبائل خریدتا ہے،وہ نسبتاً خشک عسکری موضوعات کو بھی پڑھتا اور دیکھتا ہے۔ میرا خیال ہے جوں جوں سمارٹ موبائل فونوں کی تعداد بڑھتی جائے گی، دفاعی موضوعات کی نشریات کا حجم بھی بڑھتا جائے گا۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment