Home » ہمارے ابا جی!

ہمارے ابا جی!

by ONENEWS

میں آج جو کچھ بھی ہوں، صرف اور صرف اپنے والدین کی وجہ سے ہوں۔ والد اپنے علاقے کے پہلے میٹریکولیٹ تھے…… تاریخ، جغرافیہ، ریاضی، جنرل سائنس اور انگریزی میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ پاک پتن کے جنوب میں ہماری تھوڑی سی زمین تھی۔ چونکہ دریا (ستلج) قریب ہی تھا اس لئے قدرتی نمی کی وجہ سے ان زمینوں میں جھاڑیاں اُگی ہوئی تھیں جن کو مقامی بولی میں ”چھڑیاں“ کہا جاتا تھا۔ اس زمین پر چند مقامی لوگوں نے جھونپڑیاں بنا رکھی تھیں۔ ان ماچھی لوگوں کے پاس ایک گدھا ضرور ہوتا تھا جس پر وہ یہ چھڑیاں کاٹ کر شہر (پاک پتن) لے جاتے اور بیچ کر گزر اوقات کیا کرتے۔ ایک گدھے کے لوڈ کی قیمت بازار میں صرف 2روپے ہوتی تھی۔

سرکارِ برطانیہ کی طرف سے جب اس علاقے کی آباد کاری (Colonization)کا فیصلہ ہوا اور دریاؤں سے نہریں نکالی گئیں تو یہ زمینیں اونے پونے داموں لوگوں کو الاٹ کی گئیں۔ میرے دادا بھی ان سے مستفید ہوئے۔ آبادیاں بڑھیں تو ان علاقوں میں سکول بھی کھولے گئے۔ لیکن لکھے پڑھے شہری لوگ ان دور دراز علاقوں میں جا کر پڑھانے کو تیار نہ تھے۔ والد مرحوم نے حامی بھری اور حکومت کو لکھ کر درخواست دی کہ اس علاقے میں ایک پرائمری سکول کھول دیا جائے، میں وہاں جا کر پڑھانے کو تیار ہوں۔ اس طرح والد مرحوم اور ایک اور ہندو پنڈت (لالہ لچھمن داس) اس سکول کے پہلے مدرسین شمار ہوئے۔ بعد میں یہ سکول پھلا پھولا اور والد مرحوم یہاں کے سینئر ہیڈماسٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے…… والدہ صرف قرآن کریم پڑھی ہوئی تھیں۔ نماز روزے کی سختی سے پابند تھیں لیکن انتظامی امورِ خانہ داری میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں۔

والد اور والدہ میں حد درجہ پیار اور محبت تھی۔ لیکن جب والد کبھی ہم پر غضبناک ہوتے تو والدہ سے فرماتے: ”بھاگوان میں ان بدبختوں کو (یعنی ہم تینوں بھائیوں کو) فارغ خطی دے رہا ہوں۔ بڑے کو بورڈنگ ہاؤس بھیج رہا ہوں، منجھلے کو کسی کاریگر کی دکان پر چھوڑتا ہوں تاکہ کوئی ہنر سیکھے اور چھوٹے کو آلو چھولے کی پرات لگا دیتا ہوں …… اللہ اللہ خیر سلا!! یہ گاڑی اب مزید مجھ سے نہیں چل سکتی۔ میں کانٹا ہی بدلتا ہوں۔ تم کو ’ٹومبو‘ دے کر میکے (قصور) بھیجتا ہوں اور خود تن پر لنگوٹی باندھ کر سامنے والے پہاڑی ٹیلے پر چڑھ جاتا ہوں۔ سارے بدن پر ’سواہ‘ مل کر  جوگی کا روپ دھارتا ہوں اور یہ تمام قصہ ہی ’پاک‘ کرتا ہوں“۔

ہم جب ذرا بڑے ہوئے تو ہمت کرکے پوچھا: ”ابا جی! آپ کی بعض اصطلاحات سمجھ میں نہیں آ رہیں، ذرا وضاحت فرمائیں۔ مثلاً فارغ خطی کیا ہوتی ہے اور ٹومبو کسے کہتے ہیں …… فرمایا کرتے کہ فارغ خطی کا مطلب ہوتا ہے پروانہ ء لاتعلقی اور ٹومبو کا معنی ”طلاق“ ہے…… میں نے ذرا اور ’ہمت‘ کرکے ایک دن پوچھا: ”کیا والدہ کو معلوم ہے کہ ٹومبو کا مفہوم کیا ہے؟……“ فرمایا کہ یہی تو جمہوریت کا حسن ہے کہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ ٹومبو کیا ہوتا ہے۔ اگر معلوم ہو جاتا تو وہ کب کی قصور جا کر اپنے والدین کے پاس بیٹھ جاتیں اور میں ”ٹُھن ٹُھن گوپال“ بجا رہا ہوتا۔ ہمیں اس وقت بھی اس ٹھن ٹھن گوپال کی سمجھ نہیں آئی تھی اور بعد میں بھی کبھی جرات نہ کی کہ اس محاورے کے بارے میں ان سے مزید استفسار کریں۔

ایک دن ابا جی اتوار کو یہی بھاشن دہرا رہے تھے کہ ان کے ماموں ہمارے ہاں آ نکلے۔ والد ان سے حد درجہ خائف رہا کرتے تھے۔ بچپن میں ان سے اتنی ’تواضع‘ کروائی تھی کہ ان کو دیکھ کر بالکل خاموش ہو جاتے۔ وہ جب تشریف لاتے تو ہمارے لئے مسیحا بن کر آتے۔اس روز بھی جب ان کا نزول ہوا تو  آتے ہی کہا:”امین خان! تمہیں شرم نہیں آتی، اولاد کا یہ حشر کرتے ہو…… کل کلاں وہ جوان ہو کر تم کو ”گاڑی نہیں چلتی یا کانٹا بدلتا ہوں“ کا مطلب پوچھنے کے ساتھ کیا یہ دریافت نہیں کریں گے کہ آپ محکمہ ریلوے سے ریٹائر ہوئے ہیں یا محکمہء تعلیم سے؟…… اور ہاں یہ جو تم ہماری بہو کو ’ٹومبو ٹومبو“ کا ڈراوا دیتے ہو تو میں بتاؤں اس کو کہ اس کا مطلب کیا ہے؟……“والد یہ سن کر ان کے سامنے نہ نہ کا سر ہلاتے اور ہم تینوں بھائی دل ہی دل میں اپنے دادا جی (ابا جی کے ماموں کو ہم دادا جی کہا کرتے تھے) کی درازی ء عمر کی دعائیں مانگتے۔

لوہا گرم دیکھ کر دادا جی پوچھتے ”میں باہر کی دہلیز پر کھڑا سن رہا تھا کہ تم کہہ رہے تھے میں سامنے والے پہاڑ پر چڑھ کر جوگ لینا چاہتا ہوں؟…… امیں خان! یہ پہاڑی بابا فریدؒ کا ٹبہ ہے…… جب بابا صاحب یہاں تشریف لائے تو یہاں ایک ہندو جوگی رہا کرتا تھا۔ اس زمانے میں اس قصبے کو اجودھن کہتے تھے اور جوگی کا حکم تھا کہ ہر منگل وار کو اپنی بھینسوں کا دودھ مندر کی داسیوں اور سادھووں کو بانٹو وگرنہ ان کے تھنوں سے خون آنا شروع ہو جائے گا، دودھ نہیں …… بعض روایات میں ہے کہ واقعی خون آتا تھا۔ امین خان! کیا تم اس جوگی کا روپ دھارنا چاہتے ہو؟…… لنگوٹی تو تم کو مل جائے گی لیکن اتنی ’سواہ‘ کا انتظام کون کرے گا؟“

والد مرحوم کا جسم کسرتی تھا اور اوورویٹ بھی تھے اور توند بھی نکلی ہوئی تھی۔ ماموں نے توند کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ’آس پڑوس کے چولھوں کی ساری سواہ مل لو گے تو پھر بھی اس توند پر پوری نہیں آئے گی، باقی جسم کا کیا کرو گے؟ وہ خوشی محمد ناظر کی نظم جوگی تو تم نے پڑھی ہو گی اس میں اس راکھ (سواہ) کا کافی تفصیلی ذکر ہے۔ اس کا مصرعہ ہے ناں؟

تھی راکھ جٹا میں جوگی کے

اور انگ بھبوت رمائی تھی

”تم ہماری بہو کو قصور نہیں بھیجو گے۔ میں ان شاء اللہ اسے اپنے ساتھ لے جاتا ہوں اور جیلانی کو بورڈنگ بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ میری حویلی کافی بڑی ہے اور دال روٹی بھی بہت ہے ان سب بچوں کے لئے……“

دادا جی یہ تقریر فرماتے جاتے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا ہمارے زخموں پر مرہم رکھ رہے ہیں۔ ابا جی نے ان سے معافی مانگی اور کہا: ”ماموں جی! معاف کر دیں۔ آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا…… اور ہاں ”ٹومبو“ کی تشریح تو بالکل نہ کریں۔ میرا گھر اجڑ جائے گا“…… یہ سن کر والدہ چونکیں اور پوچھا: ”کیا اس کا مطلب طلاق ہے؟“……

”نہیں نہیں بیٹی! امین کی یہ مجال نہیں کہ تمہیں طلاق دے۔ ہم تمہیں بیاہ کر لائے تھے۔ ہمیں معلوم ہے تمہارا مرتبہ کیا ہے۔ یہ امین خان تو فضول آدمی ہے۔ ٹومبو کا مطلب ہے کہ ایسا ’کاغذ‘ لکھ کر دوں گا جس پر خاندانی زمین کی بانٹ درج ہو گی۔ لیکن بیٹی! تمہیں زمین کی کیا ضرورت؟ جب تک ہم زندہ ہیں، کسی کی مجال نہیں کہ ’ٹومبو‘ پر عمل کرے یا کروائے……“

ان دادا جی سے ایک اور ملاقات بھی یاد ہے۔ والد طبیعت کے سخت تھے۔ کبھی بڑی سے بڑی بات کو خاطر میں نہ لاتے اور کبھی چھوٹی سی بات پر مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے۔ ان کی آواز بلند آہنگ تھی۔ جب کبھی غصے میں بولتے تو چوتھے ہمسائے کو بھی خبر ہو جاتی کہ خان صاحب ’گرج‘ رہے ہیں۔ غصے میں گالی گلوچ سے پرہیز نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کا انتخاب موقع محل دیکھ کر کرتے۔ہم تینوں بھائیوں کے عرفی نام عمروں کے حساب سے خنزیر، سؤر، اور کِنڈ رکھے ہوئے تھے۔میں چونکہ سب سے بڑا تھا اس لئے ”خنزیر“ کہلاتا تھا……اتوار کو وہ بالعموم اپنی زمین پر چلے جاتے اور ہم سکھ کا سانس لیتے۔ اگر گھر پر ہوتے اور طبیعت گدگداتی تو مجھے بلاتے اور پوچھتے: ”پرسوں شام کیا پکایا تھا گھر میں؟……اور کیا کھایا تھا تم لوگوں نے؟“

اب ہمیں تو صبح کے ناشتے کا مینو (Menu) بھی یاد نہیں ہوتا تھا۔ ایک دو بار اسی سوال کی تکرار فرماتے اور آخر میں غضب ناک ہو کر حکم صادر فرماتے: اُس سؤر کوبلاؤ“

……جیسا کہ اوپر عرض کر چکا ہوں لغت میں بلحاظ عمر اس جانور کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے…… سب سے بڑا ’خنزیر‘ کہلاتا ہے۔ درمیان والا ’سور‘اور سب سے چھوٹے کو ’کِنڈ‘ کا نام دیتے ہیں …… ابا جی کا مطلب ہوتا تھا منجھلے کو بلاؤ اور جب وہ آتا تو اس سے بھی وہی سوال ہوتا کہ: ”پرسوں  شام کیا پکایا تھا؟“…… وہ بے چارا اس سلسلے میں ہم سے بھی گھامڑ تھا۔ اِدھر اُدھر دیکھنے لگتا۔ معاً ایک اور آرڈر ایشو ہوتا اور پوچھا جاتا: ”وہ ’کِنڈ‘ کہاں ہے؟“ کنڈ،اپنا خطاب سنتا تو خود ہی بیٹھک سے برآمد ہوتا اور جب اس سے یہی سوال کیا جاتا تو وہ کہتا: ”دہی سے روٹی کھائی تھی“…… ابا جی یہ سن کر پوچھتے: ”اوئے الو کے پٹھے۔ دہی سے تو ناشتہ کیا تھا ناں …… پرسوں  سکول سے واپس آ کر کیا کھایا تھا؟ اس کا سیدھا سادا جواب ہوتا: ”یاد نہیں“…… یہ سن کر والدہ محترمہ کو آواز دی جاتی: ”بیگم ذرا اِدھر آؤ……“ وہ شوہر کے سامنے ہم تینوں بھائیوں کو ایک قطار میں کھڑا دیکھتیں تو کن انکھیوں سے میری طرف رخ کرکے سرگوشی کرتیں: ”کیا پرسوں  کے کریلے گوشت بھول گئے ہو؟“…… یہ سن کر ابا جی کہتے: ”بیگم یہی تو مسئلہ ہے ان کا۔ اگر پرسوں کا کھانا یاد نہیں تو یہ سالانہ امتحان کے پرچوں میں کیا لکھیں گے؟“…… اس پر والدہ برہم کو کر پوچھتیں:

”کیا میرے بیٹے سکول میں اپنی اپنی کلاس میں فرسٹ نہیں آتے؟…… آپ خواہ مخوا ان غریبوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ……“…… پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہو کر کہتیں: ”جاؤ، دفع ہو جاؤ…… یاد رکھا کرو کہ پچھلے ہفتے کیا کھایا اور کیاپکایا تھا۔ ویسے یہ کام تو میرا ہے اور پوچھا تم لوگوں سے جاتا ہے!“…… ہم دل ہی دل میں ہزار دعائیں والدہ کو دیتے اور کمرے میں جا کر سکھ کا ایک لمبا سا سانس کھینچتے اور ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو ہو جاتے!

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment