Home » ہزار فتوحات:ٹینس لیجنڈ رافیل نڈال کا ایک اور سنگ میل

ہزار فتوحات:ٹینس لیجنڈ رافیل نڈال کا ایک اور سنگ میل

by ONENEWS

اسپین سے تعلق رکھنے والے رافیل نڈال نے ٹینس کے کھیل میں کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں لیکن  ان میں سے کچھ ریکارڈ فی الوقت ناقابل شکست دکھائی دیتے ہیں اور 34 سال کی عمر کو  پہنچنے کے باوجود وہ اپنی ریکارڈ ساز کارکردگی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رافیل نڈال نے گزشتہ دنوں ہونے والے پیرس ماسٹرز ٹینس ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ میں ہم وطن فلیسیانو لوپز کو شکست دے کر اے ٹی پی ٹور میں اپنی 1000 ویں فتح حاصل کی اس طرح وہ ہزار میچز جیتنے والے دنیا کے چوتھے ٹینس اسٹار بن گئے۔ یہ ٹورنامنٹ اس رولینڈ گیروس اسٹیڈیم سے 13 میل کے فاصلے پر کھیلا گیا جہاں رافیل نڈال نے ایک ماہ قبل فرنچ اوپن ٹائٹل جیتا تھا اور وہ  20 گرینڈ سلام اعزازات کے ساتھ راجر فیڈرر کے ہم پلہ ہو گئے تھے۔

ٹینس کورٹ میں ہزارویں کامیابی پر رافیل نڈال شیشے کو ٹرافی دی گئی جس پر سنہری ہندسوں میں 1000  کندہ تھا۔ رافیل نڈال نے سن 2001 میں پروفیشنل ٹیس کا آغاز کیا تھا اور وہ 20  سال کی طویل مدت میں مختلف مراحل طے کرتے ہوئے اس منزل تک پہنچے۔ اس دوران انہیں کئی بار انجریز اور فٹنس مسائل  کا بھی سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ ٹینس کورٹ سے بھی دور رہے۔ امریکی اسٹار ٹینس لیجنڈ  جمی کونرز ایک ہزار 274 فتوحات کے ساتھ سرفہرست ہیں جبکہ سوئزرلینڈ کے اسٹار راجر فیڈرر ایک ہزار 242 کامیابیوں کے ساتھ دوسرے اور چیکوسلواکیہ کے ایوان لینڈل ایک ہزار 68 کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

واچ: رافیل نڈال کی ایک ہزار ویں جیت ، جھلکیاں ، اے ٹی پی کو خراج تحسین پیش کرنے کی جھلکیاں

ارجنٹینا کے گولیرمو ولاس نے 951، سربیا کے نواک جوکووچ 932، رومانیہ کے ایلی نستیسی نے 905، امریکہ کے جان میکنرو نے 883  اور برطانیہ کے اینڈی مرے نے 676 اے ٹی پی میچز جیتے ہیں۔ رافیل نڈال نے سن 2001 میں 14 سال کی عمر میں  پروفیشنل ٹینس کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے سن 2002  میں 15 برس کی عمر میں پروفیشنل ٹینس میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کی تھی جب انہوں نے پیراگوئے کے  رومن ڈلگلاڈو کو ملورکا اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے پہلے راؤنڈ میں زیر کیا تھا۔

اس سنگ میل کو عبور کرنے کے دوران رافیل نڈال نے سب سے زیادہ مرتبہ اپنے روایتی حریف اور عالمی نمبر ایک نواک جوکووچ کو 27  میچز میں شکست دی ہے جبکہ جوکووچ نے نڈال کو 29 میچوں میں زیر کیا۔  اس طرح جوکووچ کو دو میچوں کی برتری حاصل ہے۔ نڈال نے ہموطن ڈیوڈ فیرر کو 26، راجر فیڈرر کو، 24  برڈچ 20، سٹان واورنکا کو 19، اینڈی مرے کو 17، ورڈیسکو کو 17 اور رچرڈ گیسکوئٹ کو 16  میچز میں شکست سے دو چار کیا۔ کلے کورٹ رافیل نڈال کی فیورٹ  ہے جس پر انہوں نے 485  میچوں میں سے 445  میں کامیابیاں سمیٹیں۔ ہارڈ کورٹ پر 617  میچز میں سے  482 ، گراس کورٹ پر 71  اور کارپٹ کورٹ پر جو اب متروک ہو چکی ہے پر دو کامیابیاں حاصل کیں۔

پیرس ماسٹرز اوپن کے سیمی فائنل میں رافیل نڈال کو جرمنی کے الیگزینڈر ریوریف نے سخت مقابلے کے بعد شکست دے کر ان کا پیرس ماسٹرز  ٹائٹل پہلی بار جیتنے کا خواب چکنا چور کر دیا کیونکہ  جوکووچ کی غیر حاضری کی وجہ سے رافیل نڈال کو ٹاپ سیڈ قرار دیا گیا تھا۔ یہ  ٹائٹل دنیائے ٹینس کے ان کچھ ٹائٹلز میں سے ایک ہے جو رافیل نڈال کے ڈرائنگ روم کی زینت نہیں بن سکا۔ نڈال نے پیرس ماسٹرز میں 8 مرتبہ شرکت کی اور ہر بار وہ کم از کم کوارٹر فائنل میں ضرور پہنچے۔ وہ  صرف ایک بار سن 2007 میں  پیرس ماسٹرز کے  فائنل میں پہنچے تھے لیکن انہیں ارجنٹینا کے ڈیوڈ نلبینڈیان نے 4 سیٹ کے مقابلے میں شکست دے دی تھی۔

رواں سال  فرنچ اوپن کے فائنل میں جب انہوں نے جوکووچ کو ہرایا تھا تو وہ رولینڈ گیروس کلے کورٹ پر 100  میچ جیتنے کا کارنامہ انجام دینے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن گئے تھے۔ رافیل نڈال نے سال 2020 میں  کرونا وائرس کی وبا شروع ہونے سے قبل آسٹریلین اوپن میں حصہ لیا تھا جہاں انہیں کوارٹر فائنل میں ڈومینک تھیم نے 4 سیٹ کے سخت مقابلے میں زیر کر لیا تھا۔ تاہم اس کے بعد  انہوں نے اکاپولکو میں اپنا تیسرا ٹائٹل جیتا ۔ اس کے بعد کورونا کی وجہ سے 5 ماہ تک ٹینس کی سرگرمیاں معطل رہی تھیں۔ نڈال نے کوویڈ 19 کے خطرات کی وجہ سے یو ایس اوپن میں شرکت نہیں کی تھی۔ وہ فرنچ اوپن کی تیاری کے سلسلے میں اٹالین اوپن  میں شریک ہوئے لیکن ان کی پیش قدمی کو کوارٹر فائنل میں ڈیاگو شوارٹزمان نے 6-2 7-5 سے شکست دے کرروک دیا تھا۔

رافیل نڈال نے عالمی رینکنگ میں سب سے زیادہ ہفتے مسلسل ٹاپ 10 میں  شامل رہنے والے کھلاڑی کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا اور  جمی کونرز کو پیچھے چھوڑ دیا۔ رافیل نڈال سن 2005 سے سن 2020 تک سب سے زیادہ مسلسل 790 ہفتے ٹاپ 10 میں  شامل  رہے۔ وہ مسلسل 15 سال سے اس فہرست میں شامل ہیں۔

نڈال کے بعد امریکہ کے جمی کونرز سن 1973 سے سن 1988 تک 789 ہفتے، سوئس ماسٹر راجر فیڈرر سن 2003 سے 2016 تک 734 ہفتے،  چیکوسلواکیہ کے ایوان لینڈل سن 1980 سے سن 1992 تک 619 ہفتے اور امریکہ کے پیٹ سمپراس سن 1990 سے سن 2001 تک 565 ہفتے مسلسل ٹاپ 10 کھلاڑیوں میں شامل رہے ہیں۔ نڈال عالمی رینکنگ میں  800 ہفتوں تک ٹاپ 50  میں رہنے والے کھلاڑیوں کی صف میں  شامل ہو گئے۔ اس فہرست میں ان سے قبل  امریکہ کے جان میکنرو، چیکوسلواکیہ کے ایوان لینڈل اور سوئس ماسٹر راجر فیڈرر شامل تھے۔ رافیل نڈال پہلی مرتبہ اگست 2003  میں ٹاپ 50 کی  فہرست میں آئے تھے۔

انہوں نے اپنے کیریئر میں 86 اے ٹی پی ٹائٹلز جیتے ہیں۔ انہوں نے  بیشتر اعزازات آؤٹ ڈور کورٹس پر  حاصل کیے  اور صرف 2 ٹائٹل انڈور کورٹ پر  اپنے نام کر پائے۔ وہ انڈور کورٹ پر کھیلنے کو زیادہ پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے گزشتہ 15 برسوں سے ان ڈور کورٹ میں کوئی ٹائٹل نہیں جیتا۔ نڈال نے آخری مرتبہ سن 2005 میں  میڈرڈ میں انڈور کورٹ پر ٹرافی جیتی تھی جب انہوں نے ایوان لوبچچ کو فائنل میں زیر کیا تھا۔ اس کے بعد سے انہوں نے پیرس ماسٹرز، اے ٹی پی فائنلز، باسل اور روٹرڈیم کی انڈور کورٹس پر زور آزمائی کی لیکن قسمت کی دیوی ان پر مہربان نہ ہو سکی ۔

نڈال ایک ہی سرفیس پر کم از کم 60 اے ٹی پی ٹرافیاں جیتنے والے کھلاڑیوں کے کلب کا حصہ بھی بن گئے ہیں۔  فرنچ اوپن میں فتح کے ساتھ وہ کلے کورٹ پر 60 اے ٹی پی ٹائٹل جیتنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی ہیں۔  انہوں نے اپنا پہلا  اے ٹی پی ٹائٹل سن 2004 میں جیتا تھا جب ان کی عمر 18 سال تھی۔ انہیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ مسلسل 17 سیزن میں فیورٹ کلے کورٹ پر کم از کم ایک اے ٹی پی ٹرافی جیتنے میں کامیاب رہے۔ نڈال بھی راڈ لیور، جمی کونرز، ایلی نستیسی، بیجورن بورگ، راجر فیڈرر،  نواک جوکووچ  کے ساتھ  کھلاڑیوں کے  اس ایلیٹ کلب میں شامل ہو گئے جنہوں نے  60 یا اس سے زائد اے ٹی پی ٹائٹلز جیتے ہیں۔  راجر فیڈرر نے ہارڈ کورٹ پر 71، نواک جوکووچ نے ہارڈ کورٹ پر 60  اور رافیل نڈال نے کلے کورٹ پر  60  اے ٹی پی ٹرافیاں  اپنے نام کی  ہیں۔

رافیل نڈال کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ  انہوں نے 4 گرینڈ سلام ٹورنامنٹ کوئی سیٹ ڈراپ کیے  بغیر جیتے ہیں۔ انہوں نے چاروں مرتبہ یہ کارنامہ اپنے فیورٹ ایونٹ فرنچ اوپن میں انجام دیا جب ان کے حریف ان سے کوئی ایک سیٹ بھی نہیں جیت پائے تھے۔ انہوں نے سن 2008، 2010، 2017  اور 2020 کے فرنچ اوپن میں یہ کارنامہ انجام دیا جبکہ ایک اور کلے کورٹ ماہر سویڈن کے بیجورن بورگ کو سن 1976 کے ومبلڈن اور سن 1978 اور سن 1980 کے فرنچ  اوپن ٹورنامنٹس میں  کوئی حریف ایک سیٹ میں بھی زیر نہیں کر سکا تھا۔  سویس لیجنڈ راجر فیڈرر نے آسٹریلین اوپن 2007 اور ومبلڈن 2017 کے ایونٹس میں اپنے کسی حریف کو ایک سیٹ بھی نہیں جیتنے دیا۔ رومانیہ کے ایلی نستیسی کو سن 1973 کے فرنچ اوپن اور آسٹریلیا کے کین روز ویل کو آسٹریلین اوپن 1971 میں ان کا کوئی حریف کسی ایک سیٹ میں بھی نہیں ہرا پایا تھا۔

نڈال گزشتہ 16 برسوں سے اے ٹی پی فائنلز مینز ٹینس ٹورنامنٹ کیلئے کوالیفائی کر رہے ہیں لیکن وہ یہ ٹائٹل جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس ایونٹ میں ان کی بہترین کارکردگی  رنرز اپ ہے۔ وہ سن 2010 اور سن 2013  میں فائنل میں شکست سے دو چار ہوئے تھے۔ اس مرتبہ بھی اے ٹی پی فائنلز 2020 میں انہیں 5مرتبہ کے اے ٹی پی چیمپئن  نواک جوکووچ، یو ایس اوپن چیمپیئن ڈومینک تھیم اور دفاعی چیمپئن اسٹیفانوس سیسپاس سمیت مضبوط مخالفین کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اپنے حریفوں کو متنبہ کیا کہ وہ پیرس میں الیگزینڈر زیوریف سے ہارنے کے باوجود  اے ٹی پی فائنلز ایونٹ  کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ اے ٹی پی فائنلز سیزن کا اختتامی ایونٹ ہوتا ہے جو انڈور ہارڈ کورٹ پر کھیلا جاتا ہے اور اس مرتبہ 15 نومبر سے 22 نومبر تک لندن اس کی میزبانی کررہا ہے۔  یہ ٹورنامنٹ کا 51 واں ایڈیشن ہے۔ اس ایونٹ میں 8 ٹاپ کھلاڑی شرکت کرتے ہیں جن کو2 گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ عالمی نمبر ایک جوکووچ،  نڈال، ڈومینک تھیم، ڈینیل میڈیڈیف، الیگزینڈر ریوریف‘ اینڈی روبلیف اور ڈیاگو شوارٹزمان کے علاوہ راجرفیڈرر نے کوالیفائی کیا تھا لیکن راجر فیڈرر نے کورونا وائرس کے خدشات کی وجہ سے ٹورنامنٹ  سے اپنا نام واپس لے لیا اور ان کی جگہ  ایک اور کھلاڑی کو شامل کیا جائے گا۔  یونان کے سیسپاس نے سن 2019 میں اے ٹی پی فائنلز کا ٹائٹل  جیتا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے  کہ رافیل نڈال لندن انڈور کورٹ  پر اے ٹی پی فائنلز جیت کر اپنے 15 سالہ خواب کو حقیقت  کا روپ دینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

.

You may also like

Leave a Comment