Home » گینگ ریپ:بھارتی اداکارائیں خاتون افسرکے بیان پرپھٹ پڑیں

گینگ ریپ:بھارتی اداکارائیں خاتون افسرکے بیان پرپھٹ پڑیں

by ONENEWS

کولاج:سماء ڈیجیٹل

بھارتی اداکارواں نے ریاست اُترپردیش میں 50 سالہ خاتون سے اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کے معاملے پرقومی کمیشن برائے خواتین کی ایک رُکن کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز 3 افراد نے خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد اسے قتل کردیا تھا۔ بیٹے کے بیان کے مطابق والدہ روزانہ عبادت کیلئے جاتی تھی اور اتوارکی شام بھی گھر سے نکلی تھیں جس کے بعد واپس نہ لوٹیں۔

معاملے پرنیشنل کمیشن فارویمن کی رُکن چندرمکھی دیوی کے بیان کو زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی خاتون کو موردالزام دینے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

چندرمکھی دیوی کے مطابق خاتون رات کو باہرنہ نکلتی تواجتماعی زیادتی اور قتل سے بچ سکتی تھی۔ انہوں نے کہا ” خواتین کو ایسے اوقات میں باہرنہیں جانا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر خاتون اپنے گھر سے اکیلے نہ نکلی ہوتی یا ان کے ساتھ مرد یا کوئی بچہ ہوتا تو یہ واقعہ پیش نہیں آتا”۔

خاتون رکن کے اس بیان پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، غم وغصے کا اظہارکرنے والوں میں اداکارہ پوجا بھٹ، ارمیلا ماٹونڈکر اور تاپسی پنو سمیت دیگرشامل ہیں۔

پوجا بھٹ نے چیئرپرسن این سی ڈبلیو ریکھا شرما کو ٹیگ کرتے ہوئے پوچھا ، ” کیا آپ اس معاملے میں خاتون رکن کے بیان کی حامی ہیں؟ برائے مہربانی واضح کریں کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ متاثرہ خاتون نے مندرجانے کیلئے غلط اوقات کا انتخاب کیا تھا ؟”۔

ریکھا شرما نے جواب میں لکھا “مجھے نہیں معلوم ہماری ممبر نےایسا کیوں کہا لیکن خواتین کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ جب اور جہاں چاہیں جاسکتی ہیں۔ خواتین کے لئے مقامات کو محفوظ بنانا معاشرے اور ریاست کا فرض ہے” ۔

اداکارہ نے فوری ردعمل پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کہ چندرمکھی فوری طور پر اپنا بیان واپس لیں گی۔

ارمیلا نے تبصرہ کیا “یہ ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے اور تب تک بہتری کی امید نہیں، عورتیں دوسری خواتین کومورد الزام کیسے ٹھہراسکتی ہیں”۔

اداکارہ تاپسی پنو نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ”اگر اس ملک میں ایسی سوچ رکھنے والے افراد وجود نہ رکھتے تو یہ واقعہ پیش نہ آتا”۔

خاتون کے اہل خانہ نے مندر کے پجاری اور ساتھیوں پرعصمت دری اور قتل کا الزام عائد کیاتھا۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور ان میں سے د کو منگل کی رات گرفتارکرلیا گیا تھا تاہم پجاری فی الحال مفرور ہے۔

دوسری جانب چندرمکھی دیوی نے اپنا بیان واپس لیتے ہوئے اس حوالے سے وضاحت پیش کی ہے۔

اس سے قبل پاکستان میں بھی لاہور موٹروے زیادتی کیس کے بعد سابق سی سی پی لاہورعمرشیخ پر بھی اسی قسم کا بیان دینے کے باعث شدید تنقید کی گئی تھی۔

نو ستمبر 2020کو لاہورسیالکوٹ موٹر وے پر خاتون کی گاڑی خراب ہونے 2 افراد شیشے توڑ کر زبردستی اسے جنگل میں لے گئے تھے جہاں بچوں کے سامنے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

واقعے کے بعد اس وقت کے سی سی پی اوعمر شیخ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ خاتون کو رات کے وقت سفرنہیں کرنا چاہیے تھا، اس بیان پر انہیں شدید تنقید کا سامناکرنا پڑا تھا۔

.

You may also like

Leave a Comment