Home » گھرسےکام کرنےوالےورکرزکی معاشرتی اورقانونی تحفظ کی تگ دو

گھرسےکام کرنےوالےورکرزکی معاشرتی اورقانونی تحفظ کی تگ دو

by ONENEWS


ضلع مظفرگڑھ 8250 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔حالیہ مردم شماری کےمطابق اس ضلع کی آبادی 41 لاکھ ہے۔ مظفرگڑھ کے ایک جانب دریائے سندھ اور دوسری جانب دریائے چناب بہتے ہیں۔ دریائی علاقوں میں رہائش پذیر افراد تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں، روزگار کا حصول ان افراد کےلئے انتہائی کٹھن ہے، غربت اور پسماندگی کی جنگ کئی دہائیوں سے چلی آرہی ہے۔ ذکر کرتے ہیں دریائے چناب کے کنارے جھنگ اور مظفرگڑھ کے درمیان قائم ایک بستی چک فرازی کی رہائشی باہمت بیوہ خاتون تسلیم مائی کا جو حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے گھر میں ایک کریانہ اسٹورکی دوکان چلا رہی ہے ۔

تسلیم مائی کے مطابق سیلاب 2010 میں خاوند انتقال کرگیا،روزگار کا حصول مشکل ہوگیا تھا، سماجی تنظیم ہینڈز نے ان کےعلاقے کا دورہ کیا اور اسے گھر میں کریانہ کی دوکان بنوادی۔ وہ اب اس دوکان سے اپنا گھرچلانے کے ساتھ ساتھ  4 بچوں کو بھی پڑھا رہی ہے، تسلیم مائی کا کہنا ہےکہ سب اچھا چل رہا ہے مگردریائی علاقہ ہونے کی وجہ سے وہ ہول سیل مارکیٹ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتےاسی وجہ سے وہ اشیاء مہنگےداموں خریدنے اور کم منافع پرفروخت کرنےپرمجبور ہیں،روزانہ 3سے 4 ہزارروپےکی دکانداری سے اس کا گزر بسر اچھا ہورہا ہے ۔

قصبہ گجرات کی رہائشی عمرانہ ریاض سلائی کڑاہی کے کام موتیا ،کھڈی ،تار کشی اور ٹانکا جانتی ہے۔ملتان کے ایک بڑے بوتیک کی مالکن آرڈر پر عمرانہ سے کپڑے تیار کراتی ہیں لیکن عمرانہ کہتی ہیں کہ موجودہ حالات میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے 5 روپے میں فروخت ہونے والی نلکی اب  10 روہے کی خریدرہے ہیں جو لیس 50 روپے میٹر تھی اسکی قیمت اب 120 سے 150 تک پہنچ چکی ہے ایک سوٹ کی تیاری میں بڑی مشکل سے 200 روہے اجرت ملتی ہے اگر وسائل ہوں تو گھریلوسطح پر اپنا سنٹر قائم کرکے اچھا روزگار کمایا جاسکتا ہے۔ سماجی تنظیم ہینڈ کی مس سعدیہ نواز نے بتایا کہ غریب خاندانوں کو مالی طورپر مستحکم کرنے کے لیے ہینڈز نے گھروں میں کاروبار کے لئے مالی معاونت سکیم کے تحت 160 خاندانوں کو روزگار فراہم کیا ، زراعت سے وابستہ خواتین کو فصلات اور کچن کارڈننگ  کے لئے کھاد بیج مفت فراہم کئے تاکہ وہ مالی طور پر مستحکم ہوسکیں، گھریلوخواتین کی بڑی تعداد نے بطور گھریلو ورکر کاروبارسے باعزت روزگار حاصل کیا،

گھریلوملازمین پاکستان کی معیشت میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں، لیکن انکے کام کواہمیت نہیں دی جاتی اورانہیں قانونی تحفظ بھی فراہم نہیں کیا جارہا۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کےمطابق پاکستانی کی معیشت کے لئے غیررسمی شعبے میں کام کرنے والوں کی تعداد 80 فیصد ہے اوران میں 50 فیصد خواتین ہیں ، غیررسمی شعبے میں 80 فیصد گھریلوملازمین ہیں جو معیشت کا بڑا تناسب ہے۔ گھریلو ملازمین عام طورپرغریب، انتہائی کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ گھریلو ملازمین ملک کی معاشی ترقی میں حصہ ڈالتے ہیں پاکستان دنیا میں فٹ بال کی تیاری سے تقریبا 50 ملین ڈالر کی زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے گزشتہ سال 19 مارچ 2019 کو گھریلو ملازمین بالخصوص خواتین اور بچوں کو معاشرتی اور قانونی تحفظ دینے کےلئے ڈومیسٹک ورکرز بل متعارف کرایا گیا ہے۔ اس بل میں کم عمر ملازمین پر پابندی اور ڈومیسٹک ورکرز کےبنیادی حقوق کی فراہمی  کیلیے قانون سازی کی گئی اس پرسختی سےعملدرآمد کرانے کا حکم دیا یہ بل سٹینڈنگ کمیٹی میں منظور کے لئے گیا ہوا ہے ۔ گھروں میں کام کرنے والے نوکر نہیں گھریلو ورکر کہاجائے گا پنجاب اسمبلی نےمسودہ قانون گھریلوملازمین پنجاب 2018 منظورکیا تھا، بل کے مطابق گھریلو ورکر کی مرضی کے بغیر کوئی اضافی کام نہیں لیا جائےگا، گھریلوملازم کو کسی بھی قسم کے تعصب کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا،بیماری یا کسی بھی مسئلے کی صورت میں کفالت کا ذمہ دارگھر کا سربراہ ہوگا، گھریلوورکر رکھنے کے لئے تحریری معاہدہ لیبرانسپکٹر کو جمع کرانا ہوگا۔ معاہدے میں تحریرشدہ کاموں کے سواکسی بھی قسم کی مشقت لینے پر پابندی ہوگی، مرد اورعورت کوبرابر تنخواہ ملے گی اضافی کام کے پیسے دینے ہونگے۔ ایک ماہ کے پیشگی نوٹس کے بغیرورکر کو برخاست نہیں کیا جاسکے گا کسی جھگڑے کی صورت میں مصالحت کےلئےہرضلع میں کمیٹیاں موجود ہونگی۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر5ہزار سے 10 ہزار جرمانہ اداکرنا ہوگا،گھریلوملازم سےروزانہ 8 گھنٹوں سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا اور ایک ہفتہ میں ورکرسے 48 گھنٹے سے زیادہ کام نہیں لیا جائے گا۔ 15 سال سے کم عمر کے بچوں کوملازم رکھنے پرجرمانہ ہوگا.مالک کو ایک ماہ تک قید بھی ہوسکتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے دوران خاتون ورکرکو6 ہفتے چھٹی کی اجازت ہوگی ملازم ہفتہ وار چھٹی کا حقدار ہوگا۔  ہوم بیسڈ ورکرز بل کے تحت رجسٹریشن کے بعد سوشل سیکورٹی کارڈ فراہم کئے جانے تھا، کیونکہ ابھی تک رجسٹریشن کامرحلہ مکمل نا ہوسکا اسکی وجہ سے پاکستان میں ہوم بیسڈ ورکرزاحساس پروگرام کی امدادی رقوم سے بھی محروم رہے ۔

ورکرز کا استحصال پاکستان میں عام سی بات ہےغریب ورکرزکو انکی ضرورت کے پیش نظرکچھ  رقم یا مراعات دی جاتی ہیں جسےعام طورپرپیشگی ( ایڈوانس ) کےنام سےجاناجاتاہے رقم پوری ہونے تک وہ ورکر پابند رہتاہے نا اپنی اجرت بڑھانے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ 1992 میں قانون پاس کرکے ایڈوانس رقم دینا منع کردی گئی تھی مگر آج تک اس قانون کے تحت کسی فرد کو سزا نا ہوسکی، گلوبل سیلری انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق176 ممالک کے سروے میں پاکستان 6ویں نمبر پرہے ان میں زیادہ تر مزدور زراعت ،بھٹہ جات ، چمڑا سازی ،قالین بانی ،چوڑی سازی  اور گھریلوملازمین ہیں۔

ہوم بیسڈ ورکرز کے حوالے سے غلام شبیر ڈسٹرکٹ لیبر آفیسر مظفرگڑھ کا کہنا ہے کہ تحصیل جتوئی  اور تحصیل علی پور میں خواتین کی بڑی تعداد بطور ہوم بیسڈ ورکر کام کررہی ہیں تاہم  ہوم بیسڈ ورکر کے ساتھ تشدد بارے کوئی شکایت درج نہیں ہوئی۔ حکومت پنجاب کی ہدایات پر لیبر قوانین پرعملدرآمد کیا جارہا ہے ہوم بیسڈ ورکرز بارے قانون ابھی نافذالعمل نہیں ہوسکا۔ جبکہ ہوم بیسڈ ورکرز کی رجسڑیشن کا کام روزمرہ کی بنیاد پر جاری اس کا تمام ترریکارڈ ہیڈ آفس کے مین سسٹم میں اکٹھا ہورہا ہے۔

سماجی تنظیم سائیکوپ کی چئیرپرسن میڈیم ام کلثوم سیال کہتی ہیں کہ گھریلو ورکرز سلائی کڑاہی ،پارلر ،گھروں میں چھوٹی چھوٹی دوکانیں بنا کر، کجھور کے پتوں سے اشیاء تیار کرکے یا کچن گارڈننگ کرکے روزگار کمارہی ہیں مظفرگڑھ میں اج تک مکمل سروے نہیں ہوسکا اس لئے درست ڈیٹا سامنے نہیں آسکا گھریلوملازمین کو درپیش مسائل کو اگر دیکھا جائے تو انہیں کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ ستم تویہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں انہیں بغیرتنخواہ ادا کئے غیرمعینہ مدت کے لئے رخصت پر بھیج دیا گیا انکا کوئی پرسان حال نہیں ۔ مختلف این جی اوز اور حکومتی سطح پر ہوم بیسڈ ورکرز پر کام توہوتا ہے مگراب ضروری ہے کہ ضلع بھرمیں موثراندازسے ڈیٹا اکٹھا کیا جائےکیونکہ جب تک ڈیٹا نہیں ہوگا انکے لئے بہترین کام کی منصوبہ بندی اور معاشرہ میں انکے کردارکوکارآمد نہیں بنایا جاسکتا انہیں معاشی طورپرسپورٹ نہیں کیاجاسکتا۔ گھریلو دستکاریوں اورسمال انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں لوگ بے روز گار ہوچکے ہیں ،چھوٹے تاجروں کے چلتے کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں اوران میں کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی سکت ہے نہ سرمایہ۔ ان حالات میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس طبقے کو بچانے اور انہیں دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کرے اور ان کے نقصانات کا تخمینہ لگا اس کا ازالہ کیا جائے۔ حکومت نے اب تک ان تاجروں کی خبر لی نہ ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنا ضروری سمجھا ۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہم بیسڈ ورکرز کے لئے ٹیکنالوجی سے متعلقہ شعبوں کی راہیں کھل چکی ہیں حکومت پاکستان کی جانب ٹیکنکل انسٹیویٹ میں الیکٹرونک، موبائل رپئیرنگ، فری لانسنگ جیسی تربیت دی جارہی ہےمظفرگڑھ کے راشد محمود گزشتہ 4سال سے گھرمیں آن لائن ورک کررہے ہیں راشد محمود کے مطابق دنیا میں اس وقت  گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ  اور کنٹینٹ رائٹنگ کے کاموں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے آن لائن ورک کےزریعے گھر بیٹھے معقول آمدنی مل جاتی ہے نوجوان نسل آن لائن کی سکلز حاصل کرکے ناصرف اچھا روزگار کماسکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کے لئے بھی مفید ثابت ہوگا۔ گھریلو ملازمین کو تحفظ فراہم کرنے کے قانون تو پاس ہوگیا مگر اس پرعملدرآمد کیسے ہوگا۔ حکومت پاکستان کو موثراندازمیں گھریلوملازمین کا استحصال روکنا ہوگا، ورکرز کی رجسٹریشن، اولڈ ایج بینیفٹ اور سوشل سیکورٹی سہولیات کی فراہمی سے گھریلوملازمین کا حق ہے۔

ورکرز ہماری اقتصادی سرگرمیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں انکے مسائل کا حل کرنا قومی مفاد میں انتہائی ضروری ہے۔

.



Source link

You may also like

Leave a Comment