Home » گورا چٹّا قدہرنی ورگی اکھ

گورا چٹّا قدہرنی ورگی اکھ

by ONENEWS

گورا چٹّا قد،ہرنی ورگی اکھ

بھائی جان اس حمام میں سارے الف ننگے ہیں،بہتر یہی ہے کہ پوری سیاسی جماعتوں کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے،بے شک جو گاجریں کھاتے ہیں ان کے ڈھڈ بھی پِیڑ ہوتے ہیں۔لیکن اگرواقعی فارن فنڈنگ کیس کی اوپن سماعت ہو گئی تو سب کے چہرے عیاں بلکہ عْریاں ہو جائیں گے،ویسے تو یہ ایسا اوپن سکرپٹ ہے جسے باغ تو سارا جانتا ہی ہے احتیاطاً گْل بھی جانتا ہے۔کون کہتا ہے کہ عمران خان سیاست دان نہیں،میں تو یہی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپوزیشن کو وسا وسا کے مار رہے ہیں،اب اگر فارن فنڈنگ کیس کھل کر سامنے آیا تو کسی کے پلّے ککھ نہیں رہے گا۔میری پھر بھی درخواست ہے کہ چودھری برادران مارکہ”اسپغول تے کج نا پھول“والا فارمولہ استعمال کر لیا جائے،اب آپ ہی بتائیں جب ہمارے سیاّں پان کھائیں گے تو ریشم کے کرتے پر لال لال پیک تو پڑے گی۔

ڈاکٹر سنتا سنگھ سرباندھے جا رہا تھا،بنتا نے پوچھا،تو بولا یار بیمار ہوں ڈاکٹر کے جا رہا ہوں،بنتا بولا تم تو خود ڈاکٹر ہو،سنتا سنگھ بولا میری فیس زیادہ ہے کسی سستے ڈاکٹر نوں دکھاواں گا۔میرے جنگل کے ببر شیروسیاسی جماعتیں کون سا دودھ کی دھلی ہو ں گی۔جیسا منہ ویسی چپیڑ،جیسی قوم ویسے لیڈر۔ہاں یہ ضرورہے کہ سیاسی جماعتوں سے ان کے لیڈروں کی فیس زیادہ ہے،اس لئے ان جماعتوں کو ملنے والی بھیک پر شکر ادا کر لیا جائے تو بہتر ہے۔”چن میرے مکھنا“یہ وہ مالٹے ہیں جو شرطیہ مٹھے ہوتے ہیں،الیکشن کمیشن اوپن سماعت کر کے ہمارے اندھے اعتقاد کو کوئی ”نوا چن“نہیں چڑھائے گا۔جس قوم کی تقدیر کے فیصلے ورلڈ بنک،آئی ایم ایف،پینٹا گون کر رہے ہوں وہاں سیاسی جماعتیں غیر ممالک سے پیسے نہیں وٹّیں گی تو اور کیا کریں گی۔بھّیا سعودی عرب جب چاہے کہے چھو منتر اور ہمارے مجرموں کی ہتھکڑیاں کھل جائیں توڑ کے پنجرہ پنچھی”میں اْڈی اْڈی جاواں ہوا دے نال“گاتا نکل جائے۔ریمن ڈیوس وحشی ہو جائے،بندے پھڑکادے،جیل جاوے اور امریکہ بہادر کہہ دے کھل جا سم سم اور ریمن ڈیوس ”ہو ا میں اْڑتا جائے میرا لال دوپٹہ مَل مَل کا“بن جائے دوسر طرف ہماری بیٹیاں امریکہ اٹھا لے جائے اور پھر بھی ہم خود کو محمد بن قاسم جونیئر قرار دیں۔اس لئے ”اسپغول تے کج نا پھول“۔جہاں حکومتوں کی کوئی اوقات نا ہو وہاں بیچاری سیاسی جماعتیں کون سے جمہوری سنگھاڑے بیچتی پھرتی ہیں۔

مسزسنتا سنگھ نے اپنے بیٹے سے پوچھا،بتا? میری مٹھی میں کیا ہے؟۔معصوم لٹل بنتا سنگھ بولا تہاڈی مٹھی وچ ابّا جی نے۔تو میرے بھّیا یہ حکومتیں،اس کے فیصلے ہمیشہ غیر ملکی آقا?ں کی مٹھی میں رہے۔جو دْوروں،دْوروں اکھیاں مارتے ہیں ہمارے نار پٹولے ورگے لیڈریہاں سے وارے قربان ہو جاتے ہیں۔معین قریشی سے شوکت عزیز تک ہماری اوقات دکھانے اور بتانے کے لئے کافی ہیں ”تسی بادشاہ لوک او“جو سیاسی پاٹے خانوں کی جیبیں پھرول رہے ہو۔کبھی مذہب کے نام پر ”دے جا سخیا“کہنے والے”لارنس آف عریبیہ“کی منجھیوں تھلے ڈانگ پھیر کے دیکھیں،جنہوں نے اِدھر اْدھر سے ڈالروں،یورواور ریالوں کے ‘تھبنچو’ پکڑ کے قوم کو شیعہ،سْنّی،وہابی،دیو بندی،بریلویوں میں تقسیم کیا۔ویسے اگر آپ دودھ کا دودھ کرنا چاہیں گے تو پہلے کہے دیتا ہوں صرف پانی ہی پانی ملے گا۔اس لئے وزیر اعظم اور الیکشن کمیشن قوم کومعافی دے دیں تو ہی اچھا ہے۔

سو میرے بجلی کے بلوں،مہنگائی،بے روز گاری کے ہاتھوں تھا ں تھاں ‘پٹوسیاں ‘ مارنے والے شناختی کارڈ ہولڈرو،دڑ وٹ کے بیٹھے رہو،۔تالیاں مارو ساڈے تے چولہوں میں گیس نہیں نکلتی اور ان کے غیر ملکی اکا?نٹس سے اربوں ڈالر نکل رہے ہیں۔ سنتا سنگھ گم گئے ان کی بیگم رپٹ کرانے تھانے پہنچیں اور حلیہ لکھوایا،سنتا جی چھ فٹ قد،گورے چٹّے،ہرنی ورگی اکھ،گلاب جیسے ہونٹ،چوڑا سینہ،ان کی سہیلی بولیں،باجی سنتا تو بہت بد صورت،ٹھگنا اور رج کے کوجا ہے،مسز سنتا بولیں  ماضی میں جو غلطی ہونی تھی ہو گئی ہن تے کوئی چنگا شوہر لبھنا چاہیے۔یہ مسز سنتا ہی سوچ سکتی ہیں ہم تو وہ قوم ہیں جو ایساسوچنے کی عیاشی بھی نہیں کر سکتے۔اس لئے ہمیشہ بونے،ٹھگنے،کوجے ہماری قسمت میں رہتے ہیں۔ہمارے گوہر ایوب سہی کہتے ہیں نواز شریف اور ق لیگ کے وزیروں کی غلط حکمت ِعملیوں کے سبب قوم کومہنگی بجلی کا سامنا ہے۔کوئی ہمارے گوہر ِنایاب سے پوچھے ان حکومتوں میں آپ کیا سِٹّے بیچتے تھے،یا اپنی وزارت چھوڑ کر لوٹا تھام کر چلّے پر نکلے ہوئے تھے۔بہر حال جو بھی ہے ہمیں اپنے گوہرِ نایاب کی بات پر یقین کرنا ہے کیونکہ اب وہ نواز شریف،چودھری شجاعت کے بعد عمران خان کے وزیر بجلی ہیں۔

دھن حوصلہ ہے ہمارا ہر پرانی فلم کو ہم نئے پرنٹ کے نام پر مہنگی ٹکٹ خرید کر ضرور دیکھتے ہیں چلیں زیادہ ”دیوداس“نہ بنیں اورمایوس نہ ہوں،انقلاب ہمارے دروازے پر کھڑا ہے،چار وزرائے  اعظم،تین وزر ائے اعلیٰ بھگتانے والے پچھلے تیس سالوں سے مسلسل کھڑکی توڑ رش لینے والے مغل اعظم، وزارتوں پر بیٹھ کر ”چل چھیاں چھیاں“گانے والے اعظم سواتی نے فرما دیا ہے کہ وہ وہ جلد وزارت پٹرولیم میں انقلاب کے بعد ریلوے میں بھی انقلاب لے آئیں گے اور ماضی کے کرپٹ سیاستدانوں کے ہاتھوں تباہ نظام کو صاف شفاف بنا دیں گے۔او ظالمو ہر بات پر ٹسوے بہانے والو،میتّیں اٹھانے والو،بے روز گا ری سے تنگ آکر جنس بدلنے والو،بھوک سے اکتا کر خود کشیاں کرنے والے،جشن منا? عمر ایوب،اعظم سواتی،فردوس عاشق اعوان ہمارے پاس ہیں اب انقلاب کا رستہ کارل مارکس،ما?زے تنگ،چی گویرا،نیلسن منڈیلا بھی نہیں روک سکتے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment