0

گلیات میں تیندووں کی بہتات، انسانوں سے ٹکراؤ بڑھ گیا

آٹھ سالہ اظہر اپنے چچا رستم کے ساتھ نزدیکی گاؤں سے دو بیل ہانک کر لا رہا تھا۔ ایک گھنٹے کی مسافت کے دوران وہ جنگل عبور کر کے ضلع ایبٹ آباد میں واقع اپنے گاؤں مکول بالا کے بالکل نزدیک پہنچ چکے تھے لیکن دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ اس سنسان جگہ پر کوئی اور بھی تھا جو ان پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

جب کچھ دیر کیلئے اظہر کے چہکنے کی آواز نہ آئی تو آگے چلتے رستم نے مڑ کر دیکھا لیکن اسے اس کا بھتیجا بیلوں کے عقب میں کہیں نظر نہیں آیا۔ گھبراہٹ کے مارے اس نے اظہر کو آوازیں دینی شروع کیں اور پہاڑ کے ساتھ چلتے اس تنگ راستے کے بائیں جانب کھائی کی طرف جاتی ہوئی ڈھلوان پر اتر گیا۔ تھوڑی دور تک ہی اترا تو کچھ فاصلے پر اسے ایک تیندوا نظر آیا جو اسے اپنی جانب آتا دیکھ کر تیزی سے جھاڑیوں میں غائب ہوگیا۔ جب رستم اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ اظہر خون میں لت پت بیجان پڑا ہوا ہے۔ تیندوے نے اس کے گلے اور سینے کو بھنبھوڑ ڈالا تھا۔

اظہر کے والد ارشاد خان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ان کا بیٹا اسی جگہ پر دم توڑ چکا تھا اور لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اظہر کے گلے اور سینے پر پائے جانے والے نشانات تیندوے کے دانتوں اور پنجوں کے تھے اور ان ہی کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔

ارشاد خان نے کہا کہ تیندوے ان کے گاؤں میں گھس کر بکریاں اکثر اٹھا لے جاتے ہیں لیکن کسی انسان پر حملہ آور ہونے کا وہ پہلا واقعہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی اس تیندوے کو مارکر اظہر کا بدلہ چکانے کی خاطر 2 ماہ تک جنگل جاتے رہے لیکن وہ انہیں نہیں ملا۔

گزشتہ کچھ دہائیوں سے اس قسم کے اندوہناک واقعات ہر سال دو سال کے وقفے کے بعد رونماء ہوجاتے ہیں۔

ایبٹ آباد کے محکمہ جنگلی حیات کے سب ڈویژنل فاریسٹ افسر سردار محمد نواز نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ گلیات میں سن 1984 سے اب تک 12 افراد تیندووں کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں جبکہ اسی عرصے میں خاصی بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ایسے واقعات کے افسوسناک ہونے میں کوئی کلام نہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ایک امید افزاء پہلو یہ ہے کہ گلیات میں تیندووں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق یہ جانور جو گلیات میں 20 سال قبل معدوم ہی تھا اب ان علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔

سردار محمد نواز کا کہنا ہے کہ ان کے محکمے کی اس حوالے سے سائنسی بنیادوں پر کوئی تحقیق تو نہیں اور نہ ہی اس کے پاس ایسے کوئی آلات موجود ہیں لیکن  محکمے کے مشاہدات اور اندازوں کے مطابق گلیات ریجن میں تیندووں کے 40 جوڑے پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لحاظ سے تیندوے جو 20 سال پہلے تک بہت ہی کم تھے اب بکثرت ہیں۔

تیندووں کی تعداد میں اس خوشگوار اور حوصلہ افزاء اضافے کی اصل وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے محکمہ جنگلی حیات کے افسر نے بتایا کہ ایبٹ آباد میں واقع ایوبیہ نیشنل پارک جس کا رقبہ سن 1984 میں 4 ہزار ایکڑ تھا اسے سن 1999 میں گلیات کے ریزرو فاریسٹس کے مزید حصے شامل کرکے دوگنا یعنی 8 ہزار 184 ایکڑ کر دیا گیا جس کی وجہ سے ان شامل کئے گئے حصوں میں بھی اب نہ تو کھدائی ہوسکتی ہے اور نہ ہی درخت اور گھاس کاٹی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی جانور کو شکار یا ہلاک کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب اس علاقے میں کسی قسم کی کوئی انسانی مداخلت نہیں ہے لہذا اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں کا ماحولیاتی نظام برقرار ہے اور غذائی زنجیر میں بھی خاصی حد تک بہتری آئی ہے جس کے نتیجے میں تیندووں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر تیندوے کی ہوم رینج 40 مربع کلومیٹر ہوتی ہے لیکن گلیات میں یہ رینج  اب5  تا 20 مربع کلومیٹر رہ گئی ہے جس کا سبب ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہے۔

تیندوے کی موجودگی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے افسر نے کہا کہ ہمارے ماحولیاتی نظام میں اگر تیندوا نہیں ہوگا تو بہت سے جانور جو اس کی خوراک میں شامل ہیں غیر متوازن طور پر بڑھ جائیں گے جس سے انسان اور ان جانوروں کے مابین ایک تنازعہ کھڑا ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تیندوے کی ترجیحی خوراک بندر ہے جبکہ اس کے علاوہ جنگلی سور بھی اس کی خوراک میں شامل ہے جو سال میں دو مرتبہ بچے دیتا ہے جن کی تعداد ہر بار 6 سے 10 تک ہوتی ہے اب اگر وہ اسی تیز رفتاری سے بڑھتے رہے تو وہ انسانوں سے بھی زیادہ ہو جائیں گے لحاظہ تیندوے کا ریجن میں ہونا ضروری ہے۔

تیندووں کی تعداد بڑھ جانے اور ان کی ہوم رینج کم ہوجانے کے باعث یہ جانور اکثر انسانی بستیوں کا رخ کر لیتا ہے تاکہ وہاں موجود مویشی شکار کر کے اپنی خوراک کا انتظام کر سکے۔ اس دوران انسانوں سے مڈبھیڑ ہوجائے تو وہ انہیں نقصان بھی پہنچا دیتا ہے۔

لیکن بظاہر خونخوار اور ظالم دکھائی دینے والا یہ جانور ایک لحاظ سے مظلوم بھی ہے۔ جہاں کبھی کبھار انسان اس کے ہاتھوں جان گنوا دیتے ہیں وہیں جانی نقصان اس بے زبان کا بھی ہو رہا ہے جس کا تناسب تقریباً ایک کے مقابلے میں 10 کا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے اعداد و شمار کے مطابق سن 1984 سے اب تک جہاں 12 افراد تیندووں کا شکار بنے ہیں وہیں اسی عرصے کے دوران 110 تیندوے بھی ہلاک ہوئے۔ ان ہلاکتوں کی وجہ کچھ تو قدرتی بھی ہے لیکن بیشتر کے پیچھے انسانی ہاتھ کار فرما ہے اور یہ اس وقت ہوا جب تیندوے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر انسانی بستیوں میں داخل ہوئے اور لوگوں نے انہیں اپنے بچاؤ کی خاطر ہلاک کردیا۔

ایسا ہی کچھ اس کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ وہ خوراک کی تلاش میں جنگل سے ایک چھوٹی سی بستی بکوٹ نکل آئی تھی لیکن خود اور اپنے پیٹ میں پل رہے ڈیڑھ ماہ کے تین بچوں سمیت ایک دردناک موت کا شکار ہوگئی۔ گاؤں والوں نے اس مادہ تیندوے کو گھیر لیا اور اسے رسیوں سے جکڑنے میں کامیاب ہوگئے۔

وہ لوگ خطرے میں گھر کر بپھر جانے والی اس مادہ تیندوے سے اس قدر گھبرا گئے تھے کہ انہوں نے اسے گھسیٹ کر ادہ موا کردینے میں ہی عافیت جانی لیکن وہ اس بات کا احساس نہیں کر پائے کہ ان کی یہ حرکت اس جانور کیلئے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

گاؤں والوں نے تیندوے پر قابو پانے کے بعد پولیس کو فون کیا جو وہاں پہنچی اور تشدد کے باعث نڈھال اور بمشکل سانس لیتی اس مادہ تیندوے کو موبائل وین میں ڈال کر ایبٹ آباد کے ویٹرینری اسپتال لے گئی لیکن وہ وہاں پہنچنے سے قبل ہی مر چکی تھی، اور اس کے بچے بھی۔

ویٹرینری اسپتال میں کئے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق اس 3 تا 4 سالہ مادہ تیندوے کی موت آواز کی ہڈی اور سانس کی نالی ٹوٹ جانے کے باعث واقع ہوئی۔

اسپتال کے انچارج ڈاکٹر ابرارالحسن نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ انہوں نے مارچ 2019 میں چارج سنبھالا اور تب سے اب تک 3 تیندووں کا پوسٹ مارٹم کر چکے ہیں جبکہ ایک زخمی تیندوے کا علاج کر کے محکمہ جنگلی حیات کے حوالے کیا جو تندرست ہونے کے بعد ایسے تیندووں کو جنگل واپس چھوڑ دیتا ہے۔

محکمہ جنگلی حیات تیندووں کی ہلاکت پر جرمانہ بھی عائد کرتا ہے اور محکمے کے بقول معاملے کی تحقیقات کرکے اصل ذمہ داروں کا تعین کرلیا جاتا ہے۔

سردار نواز نے بتایا کہ کسی تیندوے کو ہلاک کرنے کے ذمہ داروں پر ایک لاکھ 10 ہزار روپے سے لے کر 2 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ اس میں سے اثاثے یعنی تیندوے کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے جبکہ اسے مارنے کا الگ سے جرمانہ 10 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک ہے۔

نتھیا گلی کے ایک گاؤں کے رہائشی مصر خان نے بتایا کہ گلیات میں تیندوے خاصی بڑی تعداد میں ہیں اور انہوں نے خود بھی جنگل میں کئی مرتبہ تیندووں کو دیکھا ہے تاہم دن کی روشنی میں اب تک ایسا اتفاق نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ تیندوے عموماً رات کی تاریکی میں جنگل کی قریبی آبادیوں کا رخ کرتے ہیں اور بکریوں، دیگر مویشیوں اور کتوں کو اپنا شکار بنا لیتے ہیں۔ ان کے گاؤں میں بھی تیندوے اکثر گھس آتے ہیں اور بکریاں اٹھا لے جاتے ہیں تاہم وہ عموماً انسانوں پر حملہ کرنے سے گریز ہی کرتے ہیں۔

ارشاد نے بھی اس بات کی تائید کی کہ گلیات میں تیندووں کا انسانی آبادیوں میں گھس آنا اور خصوصاً مویشوں کو اٹھا لے جانا معمول بن چکا ہے تاہم انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ ایسے واقعات سے لوگوں میں تیندووں کے خلاف بیزاری اور نفرت کا جزبہ در آیا ہے اس لئے جب ایسا کوئی تیندوا لوگوں کے نرغے میں آجائے تو وہ اسے اکثر مار ہی ڈالتے ہیں۔

گلیات میں انسانوں اور تیندووں کا آمنا سامنا ہونے کے واقعات بڑھنے کی ایک وجہ انسانی آبادی میں اضافہ بھی ہے۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ پاکستان کے منیجر کنزرویشن محمد وسیم نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کے دوران اس بات کی تائید کی کہ انسانی آبادی بڑھنے کے نتیجے میں تیندووں کے علاقوں کے نزدیک گھر بھی تعمیر ہوئے جس کے باعث انسانوں اور تیندووں کی مڈھ بھیڑبھی خاصی بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گلیات میں ہر سال 3 تا 5 تیندوے مارے جاتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔

تیندووں کے انسانی آبادی میں گھس آنے کے نتیجے میں انسانوں، خود اس  جانور اور مویشیوں کے نقصان کے تدارک کے حوالے سے محمد وسیم کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ لوگوں میں خود اپنے اور تیندوے کے بچاؤ کے لئے آگاہی بڑھائے اور مویشیوں کے نقصان کا ازالہ بھی کرے۔

ہمارے ماحولیاتی نظام کیلئے تیندوے بھی ضروری ہیں تاہم ان کی فطرت میں انسانوں سے سمجھوتہ یا ساتھ رہنا شامل نہیں اب یہ اشرف المخلوقات کا کام ہے کہ وہ اس بے زبان جانور کے ساتھ گزارہ کرنا سیکھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں