Home » گلگت بلتستان میں انتخابی قوانین کی خلاف ورزیاں

گلگت بلتستان میں انتخابی قوانین کی خلاف ورزیاں

by ONENEWS

گلگت بلتستان میں انتخابی قوانین کی خلاف ورزیاں

وطن عزیز میں ماضی کی یہ بہت افسوس ناک اور تلخ حقیقت ہے۔ جولائی 2018ء میں منعقدہ عام انتخابات میں انتخابی قوانین اور ضوابط کو کھلے عام پامال کر کے  جن نتائج کا اعلان کیا گیا، ان میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر دھونس، دھاندلی کی بنا پر آج تک عدم اعتماد اور احتجاج کیا جا رہا ہے، لہٰذا آئندہ اجتناب کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے یکم نومبر بروز اتوار کو گلگت بلتستان کا دورہ کیا۔ وہاں 15نومبر کو قانون ساز اسمبلی کے انتخاب ہو رہے ہیں۔وزیراعظم نے اس علاقے کو ملک کا پانچواں صوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے، جسے فی الحال عبوری کہا گیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم، راجہ فاروق حیدر نے اس کارروائی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک افسوسناک اقدام ہے۔

اس وقت ملک کے وزیراعظم کو ایسا بیان جاری نہیں کرنا چاہئے تھا، یعنی قانونی طور پر یہ کارکردگی درست نہیں ہے، جبکہ صوبہ بننے سے اس علاقے کے لوگوں کو ٹیکس دینا ضروری ہو جائے گا۔ راجہ فاروق حیدر نے اس اعلان کو متعلقہ انتخابی قوانین کی بھی خلاف ورزی قرار دیا، کیونکہ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم پاکستان کی وہاں آمد اور اعلان متعلقہ انتخابی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سابق صدر آصف علی زرداری، سینٹر مولا بخش چانڈیو،  پیپلزپارٹی کی نائب صدر اور سینٹر شیری رحمان، پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سید نیرّ حسین بخاری نے وزیراعظم عمران خان پر گلگت بلتستان کا دورہ کرنے اور وہاں انتخابی مہم چلانے کو، الیکشن قواعد و ضوابط کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے الگ الگ قومی بیانات میں اس کارروائی کو انتخابی دھاندلی کا واضح ثبوت کہتے ہوئے الیکشن کمیشن کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے اور یہ مطالبہ کیا ہے کہ اسے فوری طور پر روکا جائے۔ انہوں نے زور دار الفاظ میں اس غیر قانونی کارروائی کے تسلسل پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی حکومتی وزراء کی اس غیر قانونی کارروائی پر الیکشن کمیشن کو نوٹس لے کر ان کو بلا تاخیر اس حرکت سے باز رکھنے کی گزارش کی ہے۔ چند روز قبل چودھری پرویز الٰہی رہنما  مسلم لیگ (ق) نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ گلگت بلتستان الیکشن میں بعض لوگ ووٹوں پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔انہوں نے یہ الزام کن لوگوں پر عائد کیا ہے، اس کی وضاحت وہ خود ہی کر دیں یا قارئین کرام ہی موجودہ انتخابی حالات کو دیکھ کر اندازہ لگائیں کہ ان کا اشارہ کس فریق یا پارٹی کی طرف ہے؟ بہرحال الیکشن کا آزادانہ اور منصفانہ کرایا جانا اشد ضروری ہے۔ کسی طاقتور فریق یا گروپ کو دھونس اور دھاندلی کرنے کی اجازت اور کھلی چھٹی نہیں دی جانی چاہئے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment