Home » گلگت بلتستان انتخابات

گلگت بلتستان انتخابات

by ONENEWS

گلگت بلتستان انتخابات

گلگت بلتستان میں انتخابات رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو ہونے جا رہے ہیں، انتخابی مہم کا وقت ختم ہو چکا ہے، تمام سیاسی جماعتیں ایڑی چوٹی کا زور لگا چکی ہیں اورعوام کی حمایت حاصل کرنے کی بھرپور کوشش بھی کر چکی ہیں۔ ان انتخابات میں مجموعی طور سپر تین سو تیس امیدوار حصہ لے رہے ہیں جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے۔ گلگت بلتستان میں تیسری قانون ساز اسمبلی بنانے کے لئے 23 حلقوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے، جبکہ ایک نشست پر امیدوار کے انتقال کے باعث انتخاب نہیں ہو سکے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابات ہو تو بلتستان میں رہے ہیں لیکن پورے پاکستان کی عوام کی نظریں ان انتخابات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ وہاں اسمبلی کی میعاد اس سال جولائی میں ختم ہو گئی تھی، لیکن کورونا کی وبا کی وجہ سے انتخابات نہیں ہو سکے تھے۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پہلے بھی گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی بر سر اقتدار رہی اور اب بھی پیپلز پارٹی کو امید ہے کہ وہ ہی گلگت بلتستان کا انتخابی معرکہ جیتے گی شائد اسی لئے بلاول بھٹو ایک ماہ سے وہیں قیام پذیر ہیں اور مختلف علاقوں میں جلسے کر رہے ہیں۔ تین بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) اورپاکستان پیپلز پارٹی گلگت، بلتستان میں جلسے کر چکی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے تو بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کا وعدہ بھی کر لیا، جس پر بھارت چیخ اٹھا۔ بلاول بھٹو اور مریم نواز نے بھی عوام سے حسب روایت بہت سے وعدے کئے اور امیدیں بھی دلایئں۔ دونوں رہنماوں نے وہاں ون ٹو ون میٹنگ بھی کی۔قصہ مختصر تما م جماعتیں ہی وہاں پر برتری لے جانے کی خواہشش مند ہیں اور پر امید بھی ہیں کہ عوام ان کے حق میں ہی فیصلہ دیں گے بہر حال اب یہ تو انتخابات کے تنائج سے ہی معلوم ہو گا کہ بلتستان کی عوام نے فتح کا تاج کس جماعت کے سر پر سجایا ہے۔ساتھ ہی ساتھ سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان میں ششفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے، یہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے،ویسے تو ہمارے ہاں ہارنے والی جماعت ہمیشہ ہی دھاندلی کا نعرہ بلند کر دیتی ہے۔بہر حال خواہش تو یہی ہے کہ انتخابات شفاف اور آزادانہ ماحول میں ہوں اور ایسی حکومت قائم ہو جو صحیح معنوں میں گلگت بلتستان کے لوگوں کے مسائل کو حل کرے، لیکن ہزاروں خواہشیں ایسی۔۔۔۔۔۔ بہرحال اب مجھے اجازت دیں اللہ نگھبان رب راکھا

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment