Home » گلگت بلتستان:پی ٹی آئی کی برتری،غیرسرکاری،غیرحتمی نتائج

گلگت بلتستان:پی ٹی آئی کی برتری،غیرسرکاری،غیرحتمی نتائج

by ONENEWS

گلگت بلتستان: ویڈیو سے لیا گیا عکس

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ 2 حلقوں کے سرکاری نتائج موصول ہوگئے ہیں۔

علاقے کے 23 میں سے 9 حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف نے برتری حاصل کرلی، جب کہ مجلس وحدت مسلمین نے بھی ایک سیٹ حاصل کی ہے۔ پيپلز پارٹی 3 اور ن ليگ کی 2 حلقوں ميں برتری سامنے آئی ہے۔ 16 نومبر کی صبح 10 بجے تک موصول ہونے والے نتائج کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں۔

گلگت بلتستان اليکشن میں آزاد اميدواروں کو 7 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ پہلا غير حتمی مکمل نتيجہ سماء نے حاصل کرلیا۔ اسکردو 1 کی نشست سے راجہ زکريا جيت گئے۔

پاکستان پپيلز پارٹی اور مسلم ليگ ن کے دونوں سابق وزرائے اعلیٰ مہدی شاہ اور حافظ حفيظ الرحمان ہار گئے ہیں۔ اسپیکر جی بی اسمبلی فدا حسین ناشاد شکست کے حلقے میں ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔

پچھلے انتخابات ميں سب سے زيادہ ووٹ لينے والے ابراہيم ثنائی بھی اس بار الیکشن جيت نہ سکے۔ پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہ ملنے والے 4 اميدوار آزاد حيثيت ميں اليکشن جيت گئے۔

غير سرکاری اور غير حتمی مکمل نتائج کا اعلان آج پوسٹل بيلٹ کی گنتی کے بعد کيا جائے گا۔ پوسٹل بيلٹ کئی حلقوں ميں بازی پلٹ سکتا ہے۔

ایل اے 1 گلگت

تحریک انصاف: جوہر علی

مسلم لیگ ن: جعفراللہ خان

پیپلز پارٹی: امجد حسین

ایل اے: 2 گلگت

تحریک انصاف: فتح اللہ خان

مسلم لیگ ن: حفیظ الرحمان، سابق وزیراعلیٰ

پیپلز پارٹی: جمیل احمد

ایل اے: 3، گلگت، انتخاب ملتوی

تحریک انصاف:

مسلم لیگ ن:

پیپلز پارٹی:

ایل اے: 4 نگر

تحریک انصاف: ذوالفقار علی

مسلم لیگ ن: عارف حسین

پیپلز پارٹی: جاوید حسین

ایل اے: 5 نگر

تحریک انصاف:

مسلم لیگ ن: سجاد حسین

پیپلز پارٹی: مرزا حسین

مجلس وحدت المسلین: رضوان علی ( تحریک انصاف)

ایل اے: 6 ہنزہ

تحریک انصاف: عبداللہ بیگ

مسلم لیگ ن: ریحان شاہ

پیپلز پارٹی: ظہور کریم

ایل اے: 7 اسکردو

تحریک انصاف: راجہ محمد ذکریا خان- 5290

مسلم لیگ ن: محمد اکبر خان

پیپلز پارٹی: سید مہدی شاہ- 4114

ایل اے: 8 اسکردو مکمل نتائج کے مطابق

تحریک انصاف:

مسلم لیگ ن: محمد سعید:1835

پیپلز پارٹی: سید محمد علی شاہ- 6904

مجلس وحدت المسلمین: محمد کاظم- 7842

ایل اے: 9 اسکردو

تحریک انصاف: فدا محمد ناشاد- 4445

مسلم لیگ ن:

پیپلز پارٹی: وزیر وقار علی

آزاد امیدوار:  وزیر سلیم- 5903

ایل اے: 10 اسکردو مکمل نتائج کے مطابق

تحریک انصاف: وزیر حسین 3439

مسلم لیگ ن: غلام عباس695

پیپلز پارٹی: محمد وزیر خان2206

آزاد امیدوار: ناصر علی خان 4811

ایل اے: 11 خرمنگ

تحریک انصاف: سید امجد علی شاہ

مسلم لیگ ن: شبیر حسین

پیپلز پارٹی: نیاز علی

ایل اے: 12 شگر

تحریک انصاف: راجہ محمد اعظم خان- 1736

مسلم لیگ ن: محمد طاہر شگری- 673

پیپلز پارٹی: عمران ندیم- 837

ایل اے: 13 استور

تحریک انصاف: خالد خورشید خان- 136

مسلم لیگ ن: رانا فرمان علی- 136

پیپلز پارٹی: عبدالحمید خان- 185

ایل اے: 14 استور

تحریک انصاف: شمس الحق لون- 3580

مسلم لیگ ن: رانا محمد فاروق- 1890

پیپلز پارٹی: مظفر علی- 2282

ایل اے: 15 دیامر

تحریک انصاف: نوشاد عالم

مسلم لیگ ن: عبدالواحد

پیپلز پارٹی: بشیر احمد

ایل اے: 16 دیامر

تحریک انصاف: عتیق اللہ

مسلم لیگ ن: محمد انور

پیپلز پارٹی: دلبر خان

ایل اے: 17 دیامر

تحریک انصاف: حیدر خان

مسلم لیگ ن: صدر عالم

پیپلز پارٹی: غفار خان

ایل اے: 18 دیامر

تحریک انصاف: گلبر خان

مسلم لیگ ن:

پیپلز پارٹی: سعدیہ دانش

ایل اے: 19 غذر

تحریک انصاف: ظفر محمد

مسلم لیگ ن: عاطف سلمان

پیپلز پارٹی: سید جلال علی شاہ – 2984

بلوارستان نیشنل فرنٹ: نوازخان ناجی- 4135

ایل اے: 20 غذر

تحریک انصاف: نذیر احمد

مسلم لیگ ن: محمد نذر خان

پیپلز پارٹی: علی مدد شیر

ایل اے: 21 غذر

تحریک انصاف: جہانزیب

مسلم لیگ ن: غلام محمد

پیپلز پارٹی: محمد ایوب شاہ

ایل اے: 22 گھانچے

تحریک انصاف: محمد ابراہیم ثنائی- 4945

مسلم لیگ ن: رزاق الحق

پیپلز پارٹی: محمد جعفر

آزاد اميدوار مشتاق حسين- 6051

ایل اے: 23 گھانچے

تحریک انصاف: امینہ بی بی

مسلم لیگ ن: غلام حسین

پیپلز پارٹی: غلام علی حیدری

ایل اے: 24 گھانچے

تحریک انصاف: سید شمس الدین- 5361

مسلم لیگ ن: منطور حسین

پیپلز پارٹی: محمد اسماعیل- 6206

نوٹ: حتمی اور سرکاری نتائج آنے تک یہ نتائج مسلسل اپ ڈیٹ ہوتے رہیں گے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے یہ تیسرے انتخابات ہیں، جس کیلئے ووٹنگ 15 نومبر بروز اتوار کو ہوئی۔ ووٹنگ کیلئے صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ انتخابات میں 24 میں سے23 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ 1ک حلقے میں امیداوار کے انتقال کے باعث انتخاب 23 نومبر کو ہوگا۔ اس سال ہونے والے انتخابات میں 4 خواتین بھی میدان میں اتری ہیں۔

انتخابات میں 7 لاکھ سے زائد افراد نے ووٹ ڈالا۔ جن میں سے سوا لاکھ سے زیادہ افراد نے پہلی بار ووٹ ڈالا۔ علاقے میں 4 لاکھ 5 ہزار 350 مرد اور 3 لاکھ 39 ہزار 992 خواتین شامل ہیں۔ گلگت بلتستان بھر میں ایک ہزار 160 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے، جس میں 311 حساس اور 428 انتہائی حساس قرار دیئے گئے تھے۔

سخت موسم کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے نکلے اور اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال کیا۔  محکمہ موسمیات کی جانب سے پہلے ہی ہفتہ اور اتوار کے روز بارش اور برف باری کی پیش گوئی کردی گئی تھی۔ انتخابات کے دن صبح سے شمالی علاقہ جات میں برفباری کا سلسلہ جاری رہا اور بیشتر مقامات پر 2 فٹ سے زیادہ برف پڑی۔

You may also like

Leave a Comment