Home » گلگت۔بلتستان: چندتاثرات

گلگت۔بلتستان: چندتاثرات

by ONENEWS

گلگت۔بلتستان: چندتاثرات

مارچ 1973ء میں میری پوسٹنگ قلات سکاؤٹس خضدار سے گلگت سکاؤٹس، گلگت میں ہوگئی۔ جب1970ء کے وسط میں میری پوسٹنگ جیری کَس (نزد میرپور، آزادکشمیر) سے خضدار میں ہوئی تھی تو مجھے خضدار کا کچھ تصور ہی نہ تھا کہ اس کا حدود اربعہ کیا ہے اور فوج کی اور کون کون سی یونٹ وہاں ہے۔ صرف نام سنا ہوا تھا اور خیال تھا کہ خضدار ایک دور دراز علاقہ ہے جو  بلوچستان میں کہیں واقع ہے……اور تین سال بعد جب گلگت میں پوسٹ ہوا تو اس وقت بھی کچھ خبر نہ تھی کہ جس خطے میں یہ شہر واقع ہے وہ شمالی علاقہ جات تو کہلاتا ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی دوسرے شہر بھی ہیں جو اس کے قرب و جوار اور نزدیک و دور کہیں واقع ہیں۔ میں زمانہ ء طالب علمی میں جغرافیے کے مضمون میں اتنا گھامڑ نہیں تھا کہ جتنا ان دونوں پوسٹنگز کے نام سن کر خود کو محسوس کرنے لگا تھا…… پاک فوج میں یہی باتیں ہیں جن کو قابلِ رشک کہا جاتا ہے۔ فوج ایسے ایسے علاقے دکھاتی ہے جو غالب کے اس شعر کا مفہوم بنتے ہیں:

اگر بہ دل نہ خَلد ہرچہ از نظر گزرد

خوشا روانیء  عمرے کہ در سفر گزرد

(اگر ہر وہ چیز جو نظر سے گزرتی ہے دل میں کھب کے نہ رہ جاتی تو میں ساری عمر سفر میں گزارنے پر خوش ہوتا)

خضدار اور گلگت اگرچہ دونوں میرے لئے اجنبی ا ور غیر مانوس نام تھے لیکن فوج کی 29برس کی ملازمت میں جن علاقوں کے ساتھ حسین ترین یادیں وابستہ ہیں وہ یہی دو شہر اور ان کے نواحی علاقے ہیں!

گلگت سکاؤٹس کے آفیسرز میس میں وارد ہوا تو میس کا ایک ویٹر میرے انتظار میں تھا۔ شام ہونے کو تھی۔ اس نے ایک کمرے کا دروازہ کھول کر کہا: ”بسم اللہ سر!“…… میں اس نوجوان سپاہی کی خوش خلقی پر بہت خوش ہوا۔ راولپنڈی سے جب جہاز میں بیٹھا تھا تو صرف قمیض پتلون میں تھا لیکن گلگت کی ڈھلتی سہ پہر میں جب کمرے میں داخل ہوا تو پہلا جملہ جو ویٹر کو کہا، یہ تھا: ”سردی کچھ زیادہ نہیں؟“…… وہ مسکرایا اور بستر کی طرف اشارہ کیا جو کھلا ہوا تھا اور خوبصورت غلاف لئے ایک لحاف بھی پائنتی کی طرف پڑا تھا۔ میرے اشارے کے بغیر وہ باہر چلا گیا۔ میں نے کِٹ بیگ کھولا، کپڑے تبدیل کئے اور کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر بستر میں گھس گیا۔ اگلے ہی لمحے وہ ویٹر دروازہ کھول کر اندر آ گیا۔ ہاتھ میں ایک ہیٹر تھا۔ اس نے پوچھا: ”سر! ہیٹر لگا دوں؟“…… میں کھسیاناسا ہو گیا۔ اس نے میری گھبراہٹ شاید محسوس کر لی تھی۔ کہنے لگا: ”سر! پنجاب سے جو مہمان آتا ہے اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ مارچ میں یہاں گلگت میں کافی سردی ہوتی ہے“……”لیکن تم نے تو صرف شلوارقمیض پہن رکھی ہے۔ تمہیں سردی نہیں لگتی؟“…… ”سر! ہمارے بچے آج کل سکردو میں جھیلوں میں نہاتے اور خوش ہوتے ہیں۔ میرا یہ شہر یہاں سے 100میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں زیادہ سردی ہوتا ہے“۔

میں نے لحاف اپنے اردگرد لپیٹا اور دلدار حسین(ویٹر کا نام) کو کہا: ”ہیٹر کا دوسرا راڈ بھی آن کر دو“…… گلگت کا یہ تعارف میرے لئے عجیب سا تھا۔

اس کے بعد کی سٹوری بھی میرے لئے بہت عجیب اور معلومات افزا تھی۔ میں نے یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر سے درخواست کی کہ مجھے جلد از جلد وہ تمام پوسٹیں وزٹ کروا دیں جن پر افسروں اور ٹروپس کا اکثر آنا جانا رہتا ہے۔ چنانچہ دو دن کے بعد مجھے سارے شمالی علاقہ جات کی ’سیر‘ کا پروگرام تھما دیا گیا…… سکردو گلگت سے بڑا شہر ہے بلکہ آج بھی جی بی (GB) کا سب سے بڑا شہر سکردو ہی ہے۔ قراقرم ہائی وے (KKH) ان ایام میں زیر تعمیر تھی۔ یہ شائد 1960ء میں شروع ہوئی اور 1980ء میں پایہ ء تکمیل کو پہنچی۔ لیکن گلگت۔ سکردو روڈ کا ایک بڑا حصہ کچا تھا۔ بازار بھی زیادہ پُرونق نہیں تھے۔ آبادیاں خال خال تھیں۔ مکانات پتھروں کی سِلوں سے تعمیر کئے ہوئے تھے یا کچے تھے۔ ٹرانسپورٹ پرانی جیپوں اور بسوں پر مشتمل تھی۔ کاریں اکا دکا نظر آتی تھیں۔ مکانوں کی چھتوں پر خوبانیوں کے ڈھیر سکھائے جا رہے تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کسی نے چھتوں پر سوکھی خوبانیوں کی بارش کر دی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ لوگ خوبانیاں کھاتے بھی ہیں اور ان کی گِریوں (مغز) کا تیل نکال کر بطور گھی استعمال کرتے ہیں اور انہی مغزوں کو ’مزید‘ سکھا کر ان کا آٹا بناتے اور بطور نان استعمال کرتے ہیں۔

ان علاقوں میں سیب اور انگور بھی بکثرت دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لوگوں کی دو نسلیں پہلے ان انگوروں کو پتھر سے بنائے گئے چھوٹے چھوٹے حوضوں میں اپنے پاؤں سے مَسل کر ان کا گودا بناتے اور اس ملیدے کو چھان کر شراب کشید کیا کرتی تھیں۔ یہ پریکٹس اب تقریباً معدوم ہو چکی ہے اور جب سے ان علاقوں کی Connectivity مین سٹریم پاکستانی علاقوں سے ہوئی ہے، انگور، اخروٹ، سیب اور خوبانی یہاں کی مشہور ’ایکسپورٹ‘ گردانی جاتی ہیں۔ شمالی علاقہ جات کا سب سے معروف پیشہ بیرونی ملکوں سے آئے ہوئے کوہ پیماؤں کی لاجسٹکس کا بوجھ اٹھانا تھا۔ چونکہ علاقے زمین بند (Land Locked) تھے اس لئے یہاں کے لوگ یا تو قلیوں کا کام کرتے تھے یا باغبانی اور محدود پیمانے کی کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ تعلیم و تعلم کا فقدان تھا، صحت کی سہولیات برائے نام تھیں۔ لوگ کثیر الاولاد تھے اور غربت کا دور دورہ تھا۔ دنیا میں فطری حسن سے مالامال اور جیب و دامن کے حوالے سے مفلوک الحال خطہ کوئی دوسرا شاذ ہی ہوگا!

اب تو زمانہ یہاں اتنی تیزی سے بدل رہا ہے کہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری بار مجھے 1980ء میں یہاں آنے کا اتفاق ہوا۔ شاہراہ قراقرم مکمل ہو چکی تھی۔ میں ایبٹ آباد میں تھا کہ دوستوں سے مل کر گلگت جانے کا پروگرام بنایا۔ ایبٹ آباد سے چلے تو مانسہرہ، شنکیاری، بشام، پٹن، چلاس اور جگلوٹ ہوتے ہوئے گلگت پہنچے۔ سفر طویل تھا لیکن قراقرم ہائی وے نے اسے یادگار بنا دیا تھا۔ راستے میں جن جن مقامات پر ٹھہرے اور جو جو کچھ دیکھا اس پر کالم نہیں کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ جگلوٹ میں ایک جگہ ایسی بھی ہے جو دریائے گلگت اور دریائے سندھ کا سنگھم ہے۔ مشرق سے دریائے سندھ (بونجی کی طرف سے) پھنکارتا آتا ہے اور یہاں جگلوٹ میں آکر آہستہ خرام دریائے گلگت کو اپنی آغوش میں لیتا چلاس اور پھر تھاکوٹ (بشام اور پٹن کے نزدیک) سے ہوتا جنوب کی طرف اٹک کی جانب چلا جاتا ہے۔ اٹک میں خیرآباد کے مقام پر جب سندھ میں دریائے کابل آکر بغل گیر ہوتا ہے تو کابل کا گدلا اور مٹیالا پانی، سندھ کے سبز اور نیلگوں شفاف پانی سے ملتا ہے تو یہ منظر دیدنی ہوتا ہے۔ جی ٹی روڈ پر پشاور جانے اور وہاں سے پنجاب کی طرف آنے والی کاروں کے مسافر یہاں رک کر اس ’ملاپ‘ کا منظر دیکھتے اور خوش ہوتے ہیں۔

جگلوٹ میں برلبِ شاہراہِ قراقرم ایک بڑا سا بورڈ لگا ہوا ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں دنیا کے تین بڑے کوہستانی سلسلے آکر ملتے ہیں۔ ہم یہاں رُک کر تادیر کوہ ہندوکش، کوہ ہمالہ اور کوہ قراقرم کی وہ فلک بوس چوٹیاں دیکھتے رہے جو ہر راہگیر کو دعوتِ نظارا دیتی تھیں۔ بعد میں ہم آگے بڑھے اور گلگت پہنچے اور گلگت سکاؤٹس کی میس میں جا کر پرانی یادیں تازہ کیں۔ گلگت کوئی زیادہ بڑا شہر نہیں یہاں کے بازاروں میں زیرہ سیاہ کی بہتات ہے۔ باہر سے آنے والے لوگ یہ زیرہ ضرور خریدتے ہیں۔ دوسری بڑی مارکیٹ چینی پارچہ جات کی ہے۔ یہاں میرے ایک مرحوم دوست کرنل نور محمد خان خالد وٹو کے برادران نسبتی کی پارچہ جات کی دکانیں ہیں۔ ان سے بھی پرانی یاد اللہ تھی۔ دو گھوڑے کی بوسکی اورشنگھائی وغیرہ خریدیں اور اس کے علاوہ چین کا تیارہ کردہ بہت سا سامانِ آرائش و زیبائش اور ظروفِ خورد و نوش بھی خرید کئے۔میں نے تجویز پیش کی کہ ہنزہ اور نگر چلتے ہیں لیکن اب مزید شاپنگ کے لئے دوستوں کی جیبیں ہلکی ہو چکی تھیں اور ویسے بھی ایک ہفتے کی رخصت ختم ہونے کی تھی لہٰذا مارخوروں، شمالی جھیلوں اور سبز و سفید رنگوں کی میدانی اور آفاقی آمیزش کا وہ نظارہ نہ کر سکے جو نگر،گاکوچ، غذر اور گوپس وغیرہ سے نظر آتا ہے۔ میرے دل میں یہ ارمان بھی تھا کہ برسوں پہلے دیکھے ہوئے ان مقامات کا بارِ دگر نظارہ کروں جنہیں پریوں کا مسکن قرار دیا جاتا ہے اور وہاں کے باشندے آج بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ واقعی پریاں یہاں آتی اور اپنے ”پسندیدہ شہزادوں“ سے بغل گیر ہوتی ہیں۔

اس کے بعد 1990ء کے عشرے کے آخری برسوں میں بھی یہاں آنے کا اتفاق ہوا اور اس بارجنگِ آزادی (1947ء) کے مجاہدین سے انٹرویو کرنے اور اپنی کتاب ”ناردرن لائٹ انفنٹری……تاریخ کے جھروکوں سے“ مرتب کرنے کے دوران کئی تاریخی مقامات دیکھنے اور پرانے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جس کا ذکر پھر کبھی سہی!

فی الحال تو آپ جب یہ سطور پڑھیں گے تو الیکشن ہو چکے ہوں گے اور ہار جیت کا ”کَٹّی کَٹّا“ نکل چکا ہوگا…… اس کا ذکر انشاء اللہ کسی دوسرے کالم میں ……

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment