Home » گفتار کے غازی

گفتار کے غازی

by ONENEWS

غالباً2002ء کی بات ہے سرحدوں پر کشیدگی بڑھی تو قومی سلامتی کیلئے پرائیویٹ ٹرکوں اور ٹینکروں کا بند و بست کرنے کا ٹاسک ہمیں ملا۔میں اُس وقت ٹریفک میں تھاہم نے مطلوبہ تعداد گفت و شنید سے اور کچھ سڑکوں سے پکڑ کر پوری کر لی۔ ٹرکوں اور ٹینکروں کے مالکان کو بتا دیا کہ روزانہ کی بنیاد پر اُن کو معقول معاوضہ دیا جائے گا۔حالات کی نوعیت دیکھ کر لوگوں نے حسب توقع اپنی گاڑیاں چھڑوانے کے لئے سفارشیں کروانا شروع کردیں۔ دفتر میں کافی مالکان اور سفارشیوں کی موجودگی میں میں نے کہا کہ ہم سب خو ش قسمت ہیں کہ ہماری زندگی میں ملک کی خدمت کا موقع ملاہے ہم اس کو اپنے لیے اعزار سمجھیں اور خوش دلی اور جذبے سے بڑھ چڑھ کر اس سعادت کو سمیٹیں مگر وہ سارے ” ہوں ” ہاں ” کرتے رہے پاس بیٹھا ایک دوست جذباتی ہو کر بولا کہ سا تھیو! جو شخص ضرورت کے اس لمحے میں آگے بڑھ کر ملک کیلئے لبیک نہیں کہتا وہ مسلمان ہے اور نہ پاکستانی۔بلکہ وہ ایک قابل نفرت اور بیکار انسان ہے۔

ہم ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ ٹرک اور ٹینکر تو کیا ہم اپنا تن من دھن بھی پاکستان پر قربان کر دیں گے۔میری طرف مخاطب ہو کر کہنے لگا سر! آپ ہمیں لعنتی قرار دے دیں اگر ہم دوبارہ ٹرکوں اور ٹینکروں کو چھڑوانے کی بات کریں۔ماحول بڑا جذباتی ہو گیا اور سب لوگ اٹھ کر جانے لگے تو اُسی دوست نے  “پاکستان زند ہ باد “کا نعرہ بھی لگوایااور وہ لوگ خاموشی سے چلے گئے۔ کمرہ خالی ہو ا تو وہ دوست میری طرف فاتحانہ انداز میں دیکھ کر بولے کیوں کیسا رہا؟ میں نے کہا کہ آپ نے تو کما ل کیاتوقہقہہ لگا کر میرے ہاتھ پہ ہاتھ مار ا اورکہا کہ” اچھا فیرمیر اٹینکر تے ہن چھڈ دئیو”  یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی نفسیات ہے ہمارے پاس جتنا مفید علم، اخلاقیات،سنہر ے اصول او ر قوانین ہیں وہ صرف دوسر وں کو بتانے اور اپنے آپ کو ایک پڑ ا لکھا ذمہ دار انسان منوانے کیلئے ہوتے ہیں۔خود پر اُن کو لاگو کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا تی بلکہ خود کو اس سے مبرا سمجھتے ہیں۔ ہم ہر وقت دوسروں کو بتا تے ہیں کہ اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے۔اسلام سے زیادہ امن،بھائی چارہ،

ہمددردی،بے لوث خدمت اور حقوق و فرائض کی تلقین کسی مذہب نے نہیں کی۔اس پر ہم بجا طور پر فخر کر تے ہیں کہ اسلام نے پوری دنیا کو ایک پر امن، پر سکون اور کامیاب زند گی گزارنے کا ضابطہ دیا ہے۔مگر خرابی تب پید ا ہو تی ہے جب مسلمان کا عمل اسلام کے مطابق نہیں ہوتا۔ ہم اُسے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کر کے متنازعہ بنا دیتے ہیں۔اکثر مذہبی زعماء کی تقریروں، تحریروں، طرز عمل کا جائز لیں تو اس میں تفاخر اور جذباتیت کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔جس سے اختلاف اور نفرتوں کو مزید ہوا ملنے کا اند یشہ رہتا ہے۔یہودو نصاریٰ کی سازشوں کے قصے، مخالف فرقے کی تضحیک اور اپنی بد عملیوں اور بد اعمالیوں کا غیر مسلموں کو موردالزام ٹھہرا کر نفر ت اور فاصلوں کو بڑھایاجا تا ہے۔کفر کے فتو ے تقسیم ہوتے ہیں جبکہ بقول امام ابن رُشد ” اسلام کا سب سے بڑ ا دشمن وہ جاہل ہے جو لوگوں پر کفر کے فتوے لگاتا پھرے” ہمارے ہاں ایک فیشن سا بن گیا ہے کہ اپنی بداعمالیوں،بد عملیوں اور کوتاہیوں کا الزام مخالف فرقے یا غیر مسلموں پر لگا کر خود پاک صاف اور بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔

ہم اسلام کے پیرو کارہیں۔ قرآن اور شریعت کے مطابق زند گی گزارنے کا عہد اور دعویٰ کرتے ہیں۔ ہمیں شیطان کو انسان کا کھلا دشمن بتا کر اس کے شر سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ہم زبانی کلامی شیطان کو ملعون بھی کہتے ہیں۔ اُس سے پنا ہ بھی مانگتے ہیں اور اُسے منفی کردار کے طور پر پیش بھی کرتے ہیں مگر عملی طور پر اُس کی تقلید اور فرما برداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ وہ جو حکم،ترغیب یا تحریص دے فور اً تعمیل کے لیے تیار ہو جا تے ہیں۔ صرف شیطان کی پیرو کاری پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اُس کے حوار ی اور سپورٹربن کر اُس کے پیغام اور مشن کو عام کرنے کیلئے تشہیر اور تلقین بھی کرتے ہیں۔ہمارے رویوں، تقریروں اور تحریر وں سے لگتا ہے کہ ہم “میں “نامی اُس بیماری میں مبتلاہیں جو معاشروں اور قوموں کو مفلوج کر دیتی ہے۔اس بیماری میں مبتلا قومیں ڈینگیں مارنے اور زبانی دعوے کرنے کے علاوہ دنیا میں کچھ نہیں کر سکتیں۔ترقی کی منزلیں ڈینگیں مارنے اور بلند بانگ دعوے کرنے سے طے نہیں ہوتیں۔

خوش فہمی میں مبتلا بے عمل قوموں کو فطرت پیچھے دھکیل دیتی ہے اُ ن کو آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں دیتی۔بقول احمد جا وید”بے عمل قوموں کے امید یں مایوسی سے زیادہ مہلک ہو تی ہیں“۔اخلاق اور ایمانداری میں اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا رہنے سے دنیا پر ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ ہم واقعی ایماندار اور با اخلاق ہیں۔گلے پھاڑ کر تقریں اور دعوے کرنے، ٹین بجا کر مجمع لگانے اور دوسروں کی تضحیک کرکے اپنے حق میں دعویٰ کرنے سے کچھ نہیں ہو تا۔عمل کر کے دکھانا ہوتا ہے دنیا سنتی نہیں بس دیکھتی ہے۔صرف دیکھ کراپنی رائے قائم کرتی ہے۔ بل گیٹس نے یونیورسٹی چھوڑ دی تھی پھر اُسی یو نیو رسٹی نے اُسے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری دی اور اُس کے لیکچر ہوئے۔

اُس نے طلبا کو دیکھ کر کہا ”دیکھو میں واپس آگیا ہوں میں نے ثا بت کر دیا کہ آپ بولنے کی بجائے کرکے دکھاتے ہیں تو دنیا خود ہی اعتراف کر تی ہے“۔ ملک میں لاکھوں مدارس، مساجد، کالج اور یو نیور سٹیو ں کے کروڑوں ٹیچرز، پروفیسرز،علما ء اکرام اور سوشل ورکر ہیں جو اشرف المخلوقات کو مزیدRefine کرنے کیلئے دن رات کو شاں ہیں۔ اپنی اور دوسروں کی اخلاقی، سماجی اورروحانی تربیت کیلئے لاکھوں لوگ تبلیغی اجتماعات میں جاتے ہیں۔ لاکھوں لوگ بیت اللہ شریف حج اور عمرہ کیلئے جا تے ہیں لاکھوں محافل میلاد،دروس قر آن ہوتے ہیں عاشورہ محرم پر لاکھوں کروڑوں لوگ غم حسین میں عزاداری کرکے ایمان تازہ کر تے ہیں۔جمعہ کے اجتماعات میں اصلاح کا عمل جاری وساری ہے مگر اس کے باوجود ملک ایمانداری میں 160ویں نمبر پر ہے۔دوسری طرف جاپان جہاں یہ سب کچھ بالکل نہیں ہو رہا وہ ایمانداری میں پہلے نمبر پر ہے۔تو ہماری عبادات اور ریاضتوں کانتیجہ اور روح کدھر گئی؟۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment