Home » کے 2 سر کرنیکا مشن،خراب موسم آڑے آگیا

کے 2 سر کرنیکا مشن،خراب موسم آڑے آگیا

by ONENEWS

محمد علی سد پارہ کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تصویر

 دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سر کرنے کا مشن پاکستانی کوہ پیماہ طے شدہ پروگرام کے تحت مکمل نہ کرسکے۔ سخت موسم کے باعث چڑھائی کی مہم 29 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

پاکستانی کوہ پیماؤں کے مشن کے ٹو کی راہ میں خراب موسم آڑے آگیا۔ طوفانی برفیلی ہواؤں نے کوہ پیماؤں کا رستہ روک دیا۔

خراب موسم میں پیش قدمی کی کوشش کی وجہ سے مہم میں شامل کوہ پیما کی طبیعت خراب ہوگئی۔ کوہ پیما کو بعد ازاں پاکستان آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بیس کیمپ منتقل کیا گیا۔

سما سے گفتگو میں الپائن کلب کے سیکریٹری کرار حیدر کا کا کہنا تھا کہ دیگر ممبران اس وقت کیمپ3 پر موجود ہیں۔ محمد علی سدپارہ اور ساجد سمیت کوہ پیماؤں کی بیس کیمپ واپسی کا امکان ہے۔ سخت موسمی حالات کے باعث کوہ پیما مزید پیش قدمی کرنے سے قاصر ہیں۔

کلب کے مطابق موسم کی خرابی کے باعث مہم 29 جنوری تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ کا لائحہ عمل موسمی صورت حال دیکھ کر کیا جائے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کے ٹو سر کرنے کا مشن پچھلے 2 روز سے جاری تھا۔ توقع تھی کہ ٹیم آج کے ٹو سر کرلے گی، تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ کوہ پیماؤں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسم نے ساتھ دیا تو دوبارہ جلد مہم جوئی شروع کریں گے۔

واضح رہے کہ نیپالی ٹیم کے بعد 2 پاکستانی کوہ پیما اور آئیس لینڈ کے مایہ ناز کوہ پیما کی جانب سے بھی کے ٹو کو سر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اس سے قبل محمد علی سدپارہ اور ان کے بیٹے کی جانب سے مہم کے دوران مختلف مقامات پر لی گئی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی گئی تھیں۔

شیئر کی گئی ویڈیوز میں کے ٹو کی چڑھائی کے دوران موسم کی سختی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

ایک شیئر کی گئی ویڈیو میں کے ٹو کے رات کے مناظر موجود ہیں، جس میں صاف آسمان اور اس پر چمکتے تارے کسی اور ہی دنیا کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

کے 2

پاکستان کا شمالی پہاڑی علاقہ 3 پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے ملاپ کی جگہ بھی ہے۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے تین اسی علاقے میں واقع ہیں۔ کے ٹو ان میں سے ایک ہے، جس کی بلندی 8611 میٹر( 28251 فٹ) ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی بلندی 8611 میٹر/28251 فٹ ہے۔ اسے ماؤنٹ گڈون آسٹن اور شاہگوری بھی کہتے ہیں۔

کے 2 کی دریافت

تاریخ پر نظر دوڑائے تو کچھ رپورٹ میں اس چوٹی سے متعلق درج ہے کہ یہ چوٹی سال 1856 میں اس وقت دریافت ہوئی، جب پہلی بار گڈون آسٹن نے یہاں کا سروے کیا۔ اس موقع پر تھامس ماؤنٹ گمری بھی اس کے ہمراہ تھے۔

اس وجہ سے یہ چوٹی ان کے نام سے منسوب کردی گئی۔ یہ چوٹی سلسلہ کوہ قراقرم کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ اس چوٹی کے خط تقریباً عمودی ہیں، جس کی وجہ سے یہ خطرناک اور قاتل ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق 80 سے زائد کوہ پیما اسے سر کرنے کی خواہش میں اپنی جانوں سے گئے۔ ان چڑھائیوں میں ‘بوٹل نیک’ وہ خطرناک ترین مقام ہے جہاں کئی کوہ پیما ہلاک ہوئے۔

کے ٹو کو ماؤنٹ ایورسٹ کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ کے ٹو پر اب تک ایک اندازے کے مطابق 246 افراد چڑھ چکے ہیں۔ کے 2 اپنی خطرناک چڑھائیوں ڈھلانوں کی وجہ سے وحشی یا ظالم پہاڑی چوٹی بھی کہلائی جاتی ہے۔

اشرف امان وہ ہہلے پاکستانی ہیں، جو اس چوٹی پر چڑھے۔ یہ چوٹی پاکستان اور چین کی سرحد کے قریب گلگت بلتستان میں واقع ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ ہے۔

سر کرنے کیلئے بہترین موسم

کے ٹو کو سر کرنے کیلئے جون تا اگست بہترین مہینے ہیں باقی سال یہاں کا موسم کوہ پیمائی کیلئے انتہائی نامناسب ہوتا ہے۔ مقامی روایت کے مطابق روایت کے مطابق ہر 4 برس بعد اس چوٹی کی جانب بڑھنے والوں میں سے کوئی 1 ہلاک ہو جاتا ہے۔ 6 ہزار میٹر تک تو اس پہاڑ پر چٹانیں ہیں اور اس کے بعد برف کا ایک سمندر ہے۔

بہترین روٹ

اس چوٹی کو سر کرنے کیلئے زیادہ تر ابروزی روٹ اختیار کیا جاتا ہے، جو کٹھن اور خطرناک ہونے کے باوجود تکنیکی بنیادوں پر استعمال کیا جانے والا راستہ ہے۔ بہت سے پاکستانی اس بات سے لاعلم ہوں گے کہ’کے ٹو 2014 پاکستان مہم‘ کے ارکان کوہ پیما پاکستان کے مضبوط ترین افراد میں شامل ہیں، ان میں اکثر افراد بطور گائیڈ، کوہ پیما اور بلندی پر سامان لے جانے کا کام کرتے ہیں، ان میں اکثر افراد 7000 اور 8000 میٹر کے بلند پہاڑوں کا قابل فخر کام کر چکے ہیں۔

پاکستان کا اعزاز

نذیر صابر پاکستان کا وہ سرمایہ افتخار ہیں، جنہوں نے کے 2 کو مغربی چڑھائی کی طرف سے سر کرکے تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا۔ سال 1981ء میں کی جانے والی اس کوہ پیمائی میں نذیر صابر کے ساتھ جاپانی کوہ پیما شامل تھے، جب کہ مہربان شاہ، رجب شاہ اور حسن سدپارہ بھی کے ٹو کی بلندیوں کو چھو چکے ہیں۔ سال 2014 میں پہلی بار پاکستانی کوہ پیما اور گائیڈز پر مشتمل ٹیم نے اطالوی کوہ پیماؤں کے ساتھ کے ٹو کی چوٹی پر قدم رکھ کر اسے سر کرنے کے 60 سال پورے ہونے کا جشن منایا۔ اس ٹیم میں شامل کوہ پیما کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقوں سدپارہ، شگر اور ہوشے سے تھا۔

ڈرون بھی نہ پہنچ سکا

کے 2 کی عکس بندی ڈرون کے ذریعے پہلی بار سال 2016ء میں کی گئی، تاہم یہ 6 ہزار میٹر تک ہی ممکن ہو سکا۔ اس کے بعد کے 2 کے نگہبان موسم نے ڈرون کو پرواز کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

سفر نامے

پاکستان کے نامور مصنف اور سفر نامہ نگار مستنصر حسین تارڑ نے بھی اس قاتل چوٹی پر کتابیں لکھیں۔

ہالی ووڈ فلم

ہالی ووڈ کی جانب سے بھی کے2 پر ورٹیکل لمٹ سمیت متعدد کامیاب فلموں کو فلمایا گیا۔

دنیا کے بلند ترین پہاڑ پاکستان میں

پاکستان میں دنیا کے 8000 میٹر بلند 14 پہاڑوں میں سے 5 موجود ہیں جن میں کے ٹو، گشرم برم ون، گشرم برم ٹو، بورڈ پیک اور نانگا پربت شامل ہیں، اس کے علاوہ 6000 میٹر سے 7000 میٹر کے سر نہ کیے جانے والے کئی بلند پہاڑ بھی ہیں۔

براڈ پیک

کے 2 کی ہمسایہ چوٹی براڈ پیک بھی 8 ہزار سے بلند پہاڑی چوٹیوں میں سے ایک ہے، جو پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع ہے۔ بلتی زبان میں اسے فَلچن کنگری پکارا جاتا ہے۔ یہ کوہ قراقرم کی بلند ترین چوٹی ہے۔ اس کو سر کرنے والے ایرانی کوہ پیما رامین شجاعی بھی یہاں آئے تھے۔

You may also like

Leave a Comment