Home » کیل اور تابوت کا کھیل

کیل اور تابوت کا کھیل

by ONENEWS

پھر اسی تابوت اور کیل کا ذکر جاری ہے، جو ہماری سیاست پر ہمیشہ چھایا رہا ہے۔ ان دونوں کا ذکر ہماری سیاسی تاریخ میں اس قدر زیادہ ہوا ہے کہ پاکستانی سیاست اور یہ دونوں لازم و ملزوم ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین تابوت اور کیل کا تذکرہ 13دسمبر کو لاہور میں ہونے والے جلسے کے تناظر میں کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن توقع لگائے بیٹھی ہے کہ یہ جلسہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ اہلِ زبان نے یہ محاورہ تونجانے کن معنوں اور کس مقصد کے لئے ایجاد کیا تھا، تاہم پاکستان میں یہ صرف حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں کہ مولانا فضل الرحمن اس محاورے کے ذریعے حکومت کی چھٹی  کرانے کے درپے ہیں، بلکہ تقریباً چالیس سال پہلے ان کے والد مولانا مفتی محمود بھی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک میں اس محاورے کی گردان کرتے تھے۔ آمروں کے خلاف بھی تحریکوں میں اسی تابوت اور کیل کا ذکر ہوا اور جمہوری حکمرانوں کو بھی اپنے تابوتوں میں کیلیں ٹھکوانے کی وارننگ دی جاتی رہی۔ کل تک عمران خان اپنے دھرنے میں کہتے تھے کہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کا وقت آ گیا ہے اور آج ان کی حکومت کو کیل اور تابوت کے اس کھیل کا سامنا ہے۔ ہمارے ہاں تو محاورے بھی زندہ علامتوں کے نہیں ملتے۔ مثلاً ہم یہ نہیں کہتے کہ حکومت کی رخصتی کا وقت آ گیا ہے، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں اس کی لاش دفنانی ہے، تابوت میں کیل ٹھوکنے کی ضرورت ہے۔

کل میں دیکھ رہا تھا کہ لاہور سے ساؤنڈ فیم ڈی جے بٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ گویا حکومت نے بھی اپوزیشن کے جلسے کو ناکام بنانے کے لئے اپنے تئیں اس کے تابوت میں کیل ٹھوک دی ہے۔ نومن تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ حکومت یہ دیکھ چکی ہے کہ ملتان میں ساؤنڈ سسٹم موجود نہیں تھا تو تقریریں بھی پھیکی پھیکی لگیں اور آدھے لوگوں تک تو آواز ہی نہ پہنچ سکی۔ اب اگر مینار پاکستان گراؤنڈ میں بھی ساؤنڈ سسٹم نصب نہ ہوا تو جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا، جیسا سماں پیدا ہو جائے گا، اس لئے ڈی جے بٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ کہاں یہی ڈی جے بٹ تھا، جسے اسلام آباد دھرنے کے اسٹیج پر بلا کر عمران خان سینے سے لگاتے اور تھپکیاں دیتے تھے، کہاں آج وہ پولیس حوالات میں موجود تبدیلی کے مزے لے رہا ہے، وہ تو یہی سوچ رہا ہوگا کہ اپوزیشن حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، میری تو پیٹھ میں چُھرا گھونپ دیا گیا۔ ساؤنڈ سسٹم بھی قبضے میں اور وہ خود بھی حوالات میں، ان اچھے دنوں کو یاد کرتا ہو گا جب نوازشریف کی حکمرانی تھی اور وہ آزادانہ دھرنے میں ساؤنڈ سسٹم لگا کر لاکھوں روپے وصول کرتا تھا۔ گرفتاری سے پہلے جب وہ گڑ گڑا کر پولیس والوں سے اپنا قصور پوچھ رہا تھا۔ تو مجھے لگا کر  وہ سیاست سے نا بلد ہے جس طرح سیاسی وفاداری تبدیل کرنے والے کو ہر سیاسی جماعت نشانِ عبرت بنانا چاہتی ہے اسی طرح اسے بھی سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔ اس کا کام تو صرف تحریک انصاف کے جلسوں کو ”جب آئے گا عمران“ کے نغموں سے سجانا تھا، اب اگر وہ ووٹ کو عزت دو، جیسے نغمے چلائے گا تو پھر پکڑ تو ہو گی۔

ہماری جمہوریت اور نظامِ انتخابات میں نجانے کیا ازلی و ابدلی خرابی ہے کہ بات تخت سے زیادہ تختے کی طرف چلی جاتی ہے کرسی کی جگہ تابوت کا ذکر آتا ہے اور ہمیشہ پورا سسٹم ہچکولے کھانے لگتا ہے۔ آج وزیر اعظم عمران خان یہ کہہ رہے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ بہترین فورم پارلیمینٹ ہے یہ بات اس وقت ہی کیوں کی جاتی ہے، جب تابوت اور کیل کا ذکر زوروں پر ہوتا ہے پہلے کیوں نہیں سوچا جاتا کہ معاملات کو آخری حد تک لے جانے سے پہلے کوئی راہ نکالی جائے۔ تابوت کی پہلی کیل بھی تو کبھی استعمال ہوتی ہو گی۔ اسی کیل کو دیکھ کر اگر صورتحال کو سنبھالا دینے کی کوشش کی جائے تو شاید آخری کیل ٹھوکنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ مگر تاریخ کے اس سبق کو کس نے سیکھا ہے ہر حکمران یہی سمجھتا ہے کہ اس کی کرسی مضبوط ہے اور جو باہر کھڑے ہیں وہ خواہ مخواہ واویلا مچا رہے ہیں بھٹو جیسا زیرک سیاستدان بھی اس بات کو نہیں سمجھ سکا تھا کہ گھیرا کیسے تنگ ہو رہا ہے۔ وہ بھی اپنی کرسی کے ہتھے پر مکا مار کر اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گیا تھا کہ اپوزیشن کا ٹولہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جس طرح آج ڈی جے کو ایک عجیب صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے اور جس حکومت کے بنانے میں اس کا اہم کردار رہا ہے وہی اسے نشان عبرت بنا رہی ہے، اسی طرح جس مخلوق کا نام اسٹیبلشمنٹ ہے، وہ بھی آنکھیں پھیرنے میں دیر نہیں لگاتی۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ تابوت کی آخری کیل وہی فراہم کرتی ہے یہ بات کوئی افسانہ نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے، جسے ہماری تاریخ بار بار دیکھ چکی ہے۔

لاہور کا جلسہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا ہے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا البتہ یہ امر ایک حقیقت ہے کہ اپوزیشن تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے لئے اپنی کوششوں سے باز نہیں آئے گی۔ وقت اپوزیشن کے ہاتھ سے نہیں حکومت کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے جناب مجیب الرحمن شامی نے اپنے ٹی وی پروگرام میں بہت درست کہا ہے کہ اپوزیشن کو پوائنٹ آف نوریٹرن تک جانے سے روکنا اور مذاکرات کی میز پر لانا بھی مگر ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہوتا ہے۔ آخر وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم اپنی اس صلاحیت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر رہی، یا یہ صلاحیت ان میں ہے ہی نہیں یہ درست ہے کہ اپوزیشن نے حکومت سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو مذاکرات کی باضابطہ دعوت دی ہی کب گئی ہے اپوزیشن اگر تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کی باتیں کرتی ہے تو حکومتی حلقے بھی تو سوائے چور، لٹیرے، عوام دشمن، ملک دشمن کہہ کر جلتی پر تیل ڈال رہے ہیں تو پھر یہ کھیل کیسے رکے گا اور بے یقینی کیسے ختم ہو گی۔؟

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment