Home » کیا عمران خان این آر او دینے کا اختیار رکھتے ہیں؟

کیا عمران خان این آر او دینے کا اختیار رکھتے ہیں؟

by ONENEWS

کیا عمران خان این آر او دینے کا اختیار رکھتے ہیں؟

اپنے پیارے کپتان سمیت تحریک انصاف کا ہر وزیر مشیر یہ جملہ تکیہ کلام کے طور پر استعمال کرتا ہے کہ ہم کسی صورت این آر او نہیں دیں گے۔ کپتان جی نے تو اب باقاعدہ یہ بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ کرسی چھوڑ دیں گے،این آر او نہیں دیں گے۔آج کل چونکہ پی ڈی ایم نے دباؤ بڑھایا ہوا ہے اِس لئے حکومت کی طرف سے مذاکرات کی آفر تو کی جا رہی ہے تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ این آر او کے سوا ہر موضوع پر بات ہو سکتی ہے۔ اُدھر مریم نواز یہ نئی کہانی سامنے لائی ہیں کہ پچھلے تین دِنوں سے عمران خان نواز شریف سے این آر او مانگ رہے ہیں۔ مریم نواز کی اِس بات میں فکشن زیادہ دکھائی دیتی ہے،کیونکہ وہ لاہور جلسے کے لئے لاہوریوں کے اندر جوش و جذبہ پیدا کرنے میں آج کل زیادہ مصروف ہیں، اس ساری صورتِ حال میں یہ سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ این آر او واقعی کوئی حقیقی وجود رکھتا ہے یا اسے صرف ایک سیاسی بیانیہ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی سے جڑا ایک سوال یہ بھی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کیا اس پوزیشن میں ہیں کہ کسی کو این آر او دے سکیں۔ کیا یہ اُن کا اختیار ہے بھی سہی یا نہیں۔ وہ خود بار بار یہ کہتے ہیں کہ آج اپوزیشن کو این آر او دے دیں، کل وہ گھر بیٹھ جائے گی۔اس سے اُن کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے کیسز ختم کر دیئے جائیں تو وہ حکومت گرانے کی مہم جوئی سے باز آ جائیں گے، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے حکومت جاتی ہے تو چلی جائے۔اپوزیشن کی طرف سے ہمیشہ اِس بات کی تردید کی گئی ہے کہ وہ وزیراعظم سے کوئی این آر او مانگ رہی ہے، بلکہ یہ تک کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے پاس این آر او دینے کا اختیار ہی نہیں، وہ صرف سیاسی بیان دیتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا این آر او سابق فوجی حکمران جنرل(ر) پرویز مشرف نے دیا تھا۔ تب سے یہ اصطلاح زیادہ استعمال ہونے لگی ہے۔ جنرل(ر) پرویز مشرف ایک مطلق العنان حکمران تھے، جنہوں نے آئین کی شقوں کو معطل کر رکھا تھا، جن کے پاس وہ اختیارات بھی تھے جو بادشاہ کو حاصل ہوتے ہیں اِس لئے انہوں نے کیسز ختم کرنے سے لے کر سزائیں معاف کرنے تک این آر او دے دیا، کیونکہ وہ دے سکتے تھے اور اُن کے اختیار کو عدالتوں میں چیلنج بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔پھر اُن پر عالمی دباؤ بھی تھا کہ وہ ملک میں سیاسی عمل کو بحال کریں اور جلا وطن رہنماؤں کو وطن وپس آنے دیں اُس دور اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ آج ریاستی ادارے مکمل طور پر بااختیار ہیں۔عدالتیں اپنا کام آزادانہ کر رہی ہیں، نیب کے اختیارات پر کوئی قدغن نہیں، احتسابی عمل رُک نہیں سکتا،وزیراعظم کسی انتظامی حکم کے ذریعے ایسا فرمان جاری کرنے کا مجاز نہیں کہ جو سب کو آزاد کر دے، پھر یہ کیونکر کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کسی صورت این آر او نہیں دیں گے۔ ایک اختیار جو موجود ہی نہیں، وزیراعظم اُسے کس طرح استعمال کر سکتے ہیں، پھر ایسا کرنے کی صورت میں وہ کیسے اپنے منصب پر فائز رہ سکیں گے،اُن کی کریڈیبلٹی تو صفر رہ جائے گی۔

اس وقت احتساب عدالتوں میں اپوزیشن کے بڑے رہنماؤں آصف علی زرداری، نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز، شاہد خاقان عباسی،احسن اقبال سمیت درجنوں کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں، جبکہ نیب اور ایف آئی اے اتنے ہی مزید مقدمات کی تفتیش کر رہی ہے، صرف یہی نہیں اپیلوں کی صورت میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سطح پر مقدمات کی سماعت بھی ہو رہی ہے۔ گویا یہ معاملہ حکومت کے ہاتھوں میں ہے ہی نہیں، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وزیراعظم ایک دن اپوزیشن سے ملاقات کریں اور سارے عمل کو روک دیں۔ وہ کیسے روک سکتے ہیں اور کس قانون کے تحت این آر او دے سکتے ہیں، کیا وہ اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں یہ ریفرنس دائر کریں گے کہ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کے سب کیسز ختم کر دیئے ہیں،اس لئے اُن کی سزائیں کالعدم قرار دی جائیں۔ کیا اُن کے اختیار میں یہ بھی ہے کہ  وہ نواز شریف اور مریم نواز کی سزائیں بھی ختم کر دیں۔ کیا ہم ایک بنانا ریاست میں رہ رہے ہیں کہ جہاں قوم کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان این آراو دے ہی نہیں سکتے،مگر دن رات وہ خود اور اُن کے ترجمان و مشیر یہ ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں کہ اپوزیشن جو مرضی کرے اُسے این آر او نہیں ملے گا۔ ایک طرف وزیراعظم کہتے ہیں کہ شہباز شریف کے خلاف ہزاروں صفحات پر مشتمل ثبوت مل چکے ہیں اور دوسری طرف کہتے ہیں مَیں این ار او نہیں دوں گا، ان ہزاروں صفحات پر مشتمل ثبوتوں کی موجودگی میں کوئی یہ کہہ بھی کیسے سکتا ہے کہ  مَیں این آر او نہیں دوں گا، کیا نیب وزیراعظم کے ماتحت ہے کہ جو اُن کے ایک اشارے پر کیسز بند کر دے گا۔وزیراعظم تو خود کہہ چکے ہیں کہ نیب ان کے ماتحت نہیں۔

شروع شروع میں یہ بات وزیراعظم عمران خان کے منہ پر بہت جچتی تھی کہ مَیں کسی کو این آر او نہیں دوں گا،لیکن پھر یہ بات کھلتی گئی کہ یہ اُن کا سیاسی تکیہ کلام ہے۔ حقیقت میں وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ بالفرض آج حکومت ختم ہو جاتی ہے تو کیا تمام احتسابی عمل بھی ختم ہو جائے گا۔اپوزیشن کو بھی یہ معلوم ہے کہ وزیراعظم عمران خان اُسے کوئی ریلیف نہیں دے سکتے۔وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہئے کہ اُن کی بری کارکردگی نے اپوزیشن کے حوصلے بلند کئے ہیں۔ اب اس بیانیہ سے عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکتا کہ اپوزیشن اپنی لوٹ مار بچانے کے لئے این آر او مانگ رہی ہے۔ اب کچھ کر کے دکھانے اور عوام کے حالات کو بہتر بنانے ہی سے بات بنے گی وگرنہ دگرگوں  ہوتے چلے جائیں گے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment