0

کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومن اسی طرح

کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومن اسی طرح

ضمیر اختر سے ہماری نوک جھونک پرانی ہے کبھی ہم اس کی بات سے متفق نہیں ہوتے کبھی وہ ہم سے اتفاق نہیں کرتاکبھی کسی بات پر ہمارا اتفاق ہو بھی جاتا ہے تاہم اس بار ہماری تکرار طوالت پکڑتی جاتی ہے میں اسے کہتا ہوں میں تمہاری آوا ز پہ کان کیوں دھروں ضمیر کی آواز سنتا ہی کون ہے اسکا کہنا ہے کہ میں کسی اور کا نہیں تمہارا اپنا ضمیر ہوں ’ضمیر اختر‘ اور تم میرے ندیم ہو ’ندیم اختر‘ لہذا کوئی میری آوازپہ رکتا ہے کہ نہیں تم تو رکو تم ٹھہرو میں اسے کہتا ہوں د یکھویہ حالات و معاملات ایسے ہی چلے آ رہے ہیں اور ابھی ایسے ہی چلیں گے اس لئے زیادہ رنجیدہ اور سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں کیا ہوا اگر عوام 26روز سستے پٹرول سے مستفید نہیں ہو سکے اور کیا ہوا اگر تمام رولز کو روند کر اچانک پٹرول کی قیمتوں میں گراں قدر اضافہ کر دیا گیا دیکھوناں 26روز سستا پٹرول کسی کو میسر بھی تو نہیں ہوا اور اب مہنگا پٹرول ہر ایک کو دستیاب بھی تو ہے ضرورت کے وقت کسی کو کوئی شے مہنگے داموں بھی مل جائے غنیمت ہے ضمیر اختر مجھ سے لڑتا ہے جھگڑتا ہے وہ مجھے عوامی استحصال کا بتاتا ہے کہ کس طرح عوام کو لوٹا گیا ہے وہ مجھے آٹے کی قلت چینی گھی ادویات اور دیگر اشیاء کی گرانی کی تفصیل بتاتا ہے لیکن میں ضمیر اختر کی بات سننے کو تیار ہی نہیں نہ میں اس کی کسی دلیل کو مانتا ہوں میں کہتا ہوں ابھی وہ حکمران وہ رہنما اور حاکم نہیں جو واقعی ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو چلائیں اور جناب سرکار حضرت عمر فاروق ؓ کے طرز حکمرانی پر عمل پیرا ہوں ابھی جیسے ہم ہیں ویسے حکمران ہیں لہذا ابھی مغموم نہ ہوں میں اس بحث کو ختم کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی بے روزگاری ناانصافیوں کا ذکر کرتا ہوں ضمیر اختر یہاں بھی مجھ سے جھگڑتا ہے میری بے وقوفیوں پہ کڑھتا ہے کہ جب تک تم جیسے مصلحت پسند مجرمانہ خاموشیاں اختیار کریں گے تو ایسے ہی ہوگا ضمیر اختر کہتا ہے کہ ندیم اخترتم حضرت عمر فاروق ؓ کے دور حکومت کی بات کرتے ہوتو سید ناعمرؓ ہر وقت اپنی قوم کی فکر میں رہتے خلافت کے ابتداء میں جب اقتصادی حالت بہترنہیں تھی تو ان کا رنگ سفید ہونے کے باوجود سیاہ ہوگیا۔سید ناعمر ؓ کی زندگی اور خلافت امت کے لئے امن وسکون اورکامیابی کا زینہ تھی۔۔سیدنا عمرؓ کا دور مسلمانوں کا سنہری دو رہے اور تاقیامت دنیابھر کے مسلم وغیرمسلم کے لئے قابل رشک دور حکومت رہے گا۔ جس کی تمنا آج بھی سبھی کرتے ہیں کہ”اے اللہ ہمیں سیدناعمرفاروقؓ جیسا حکمران عطا فرما‘۔ سیدناعمررضی اللہ عنہ کے دور کی مثالیں آج کے غیرمسلم بھی دیتے ہیں اور ان کے نظام کو اپنے لئے مشعل راہ بنا کرترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔عمر رضی اللہ تعالی عنہ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے اسلامی اصولوں پر حکومت و سلطنت کا وسیع ترین باقاعدہ نظام قائم کیا حتیٰ کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے اصول مرتب کئے۔خلیفہ کی حیثیت سے حضرت عمررضی اللہ عنہ 10سال خلافت کے منصب پر فائز رہے اور آپؐ کے فرمان عالیشان ”قوم کا سردار ان کا خادم ہوتاہے“ کے مصداق ٹھہرے۔سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رعایاسے کہاکرتے تھے: ”تمہارے حقوق مجھ پر ہیں اور میرے حقوق آپ پر ہیں،تم اپنے حقوق کے بارے میں مجھ سے محاسبہ کرو“

رعایا میں سے ہر فرد بات کرنے کا حق رکھتا تھا۔اسلام کامرکز مدینہ النبی ﷺ تھا اور خلیفۃ المسلمین یہاں رونق افروز ہوتے تھے۔جب کوئی کسی علاقے کا ذمہ دار بنا کر بھیجا جاتا تو وہ اپنے اثاثے ظاہر کرتا۔ اس کے مال واسباب کی فہرست تیار کی جاتی اور دوران خلافت ان میں اضافہ کی صورت میں محاسبہ کیاجاتا۔آپ سب سے پہلے خود عدل پسند بنے اور مثال بن کر دکھایا، پھر اپنے عمال اور رعایا میں عدل و انصاف قائم کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نظامِ عدل میں اصولِ مساوات کا لحاظ رکھتے اور کسی قسم کا امتیاز روا نہ رکھتے ایک مرتبہ حضرت اُبی بن کعب کے ساتھ آپ کا تنازع ہوا، حضرت زید بن ثابت کے ہاں مقدمہ پیش ہوا۔ جب آپ ان کے پاس گئے تو انہوں نے تعظیم کے لیے جگہ خالی کردی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے اس مقدمے میں یہ پہلی ناانصافی کی ہے۔ یہ کہہ کر آپ فریقِ مخالف کے برابر بیٹھ گئے۔جبلہ بن ایہم غسانی شام کا بادشاہ تھا، مسلمان ہوگیا تھا، کعبہ کے طواف کے دوران اس کی چادر کا گوشہ ایک شخص کے پاؤں کے نیچے آگیا، جبلہ نے اسکے منہ پر تھپڑ مارا، اس شخص نے بھی جواباً تھپڑ دے مارا۔ وہ غصے سے بیتاب ہوکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: تم نے جو کچھ کیا اس کی سزا پائی۔

اس کو سخت حیرت ہوئی اور اسلام چھوڑ کر مرتد ہوگیا مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رئیس زادے کی خاطر قانونِ مساوات کو نہ بدلا۔حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ گورنر مصر کے بیٹے عبداللہ نے ایک شخص کو بے وجہ مارا تھا۔ آپ نے اسی شخص کے ہاتھوں عمرو بن العاص کے سامنے ان کے بیٹے عبداللہ کو کوڑے لگوائے۔فاتح ایران حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں معمولی سی شکایت ملی تو آپ نے مشکل حالات کے باوجود انہیں دربار حاضر کیا۔آپ نے سلطنت کی وسعت اور گورنرز کی کثرت کے پیش نظر گورنرز کے احتساب کا اور ان کے بارے میں موصول ہونے والی شکایات کی تحقیقات کے لیے ایک خاص عہدہ قائم کیا جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معتمد صحابی حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کو مامور کیا۔ جب کسی گورنر کے بارے میں شکایت ملتی تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ موقع پر جاکر کھلی کچہری لگاتے اور لوگوں کی رائے لیتے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ (گورنر بصرہ) کے متعلق شکایت موصول ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خود مستغیث کا بیان قلمبند کیا اور ابو موسیٰ اشعری کو بلوا کر خود تحقیق کی۔جس گورنر کی نسبت آپ کو معلوم ہوتا کہ بیمار کی عیادت نہیں کرتا یا کمزور اس کے دربار میں پہنچ نہیں پاتا تو اسے فوراً عہدے سے ہٹادیا جاتا۔ ایک بار آپ کو خبر ہوئی کہ عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ (عاملِ مصر) باریک قیمتی کپڑے پہنتا ہے اور اس کے دروازے پر دربان مقرر ہے۔ آپ نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: عیاض کو جس حالت میں پاؤ اپنے ساتھ لے آؤ۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے پہنچ کر دیکھا کہ واقعی دروازے پر دربان ہے اور عیاض باریک کپڑے کا کرتہ زیب تن کئے ہوئے ہیں۔ عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ کو اسی حالت میں مدینہ لایا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا وہ کرتہ اتروا کر کھردرے کپڑے کا کرتہ پہنایا اور بکریوں کا ریوڑ دیا کہ اسے چراؤ۔حضرتِ عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی طرزِ زندگی میں سادگی تھی مگر شاہانِ وقت آپ سے ڈرتے تھے۔ دوسری طرف آپ اپنی رعایا کی داد رسی کے لیے ہر ممکن کاوشیں بروئے کار لاتے امام غزالی فضائح الباطنیۃ میں بیان کرتے ہیں کہ یزد گرد شہریار شہنشاہِ فارس نے اپنا ایک قاصد بھیجا اور حکم دیا کہ اس شخص کے حالات معلوم کرکے آؤ جس کے رعب سے بادشاہ بھی ڈرتے ہیں۔ جب یزد گرد کا قاصد مدینہ پہنچا تو لوگوں سے پوچھا کہ آپ کا بادشاہ کہاں ہے؟ جواب ملا، ہمارے ہاں بادشاہ نہیں ہوتے بلکہ امیر ہوتا ہے۔ ایک شخص اس قاصد کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا۔

وہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ شخص جس سے دنیا ڈرتی ہے، وہ اپنا عصا سرہانے رکھے زمین پر سو رہا ہے اور آپ کے پسینے سے زمین بھی تر تھی۔ یہ دیکھ کر شہنشاہِ فارس کا قاصد حیران رہ گیا یہ ہے وہ شخص جس کے رعب سے پوری دنیا ڈرتی ہے۔آپ رضی اللہ عنہ کی کوشش ہوتی تھی کہ رعایا کے حالات زیادہ سے زیادہ خود معلوم کریں۔ ایک دفعہ سفرِ شام سے واپسی کے دوران راستے میں ایک خیمہ دیکھا، سواری سے اترے، ایک بوڑھی عورت نظر آئی، اس سے پوچھا عمر کا کچھ حال معلوم ہے؟ کہنے لگی: شام سے روانہ ہوچکا ہے مگر خدا اسے پوچھے، مجھے اس کی طرف سے آج تک ایک جبہ بھی نہیں ملا۔ آپ نے کہا: عمر کو اتنی دور کا حال کیسے معلوم ہوسکتا ہے؟ بولی: اگر عمر کو رعایا کے حالات معلوم نہیں تو خلافت کیوں کرتا ہے؟ اس جواب پر آپ پر رقت طاری ہوگئی اور رونے لگے۔ پھر اس عورت کو ضروریات زندگی کی اشیاء بہم پہنچائیں ایک بار ایک قافلہ مدینہ منورہ آیا، شہر کے باہر پڑاؤ ڈالا، آپ رضی اللہ عنہ اُس قافلے کی خبر گیری اور حفاظت کے لیے خود تشریف لے گئے۔ پہرہ دیتے ہوئے ایک طرف سے رونے کی آواز آئی، دیکھا تو ایک شیر خوار بچہ ماں کی گود میں رو رہا ہے۔ وجہ دریافت کرنے پر بچے کی ماں نے بتایا کہ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے کہ جب تک بچے دودھ نہ چھوڑ دیں، اس وقت تک بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر نہیں ہوگا۔ میں نے اس غرض سے بچے کا دودھ چھڑا دیا ہے اور اب وہ دودھ کے لیے روتا ہے۔ آپ نے سنا تو کہنے لگے: ہائے عمر! تو نے کتنے بچوں کا حق مارا ہے۔ اسی دن سے منادی کرادی کہ بچہ جس دن پیدا ہو، اسی دن سے اس کا وظیفہ مقرر کردیا جائے۔ جس سال عرب میں قحط پڑا، آپ نے قسم کھائی کہ وہ بھی گوشت یا کوئی اور لذیذ چیز نہیں کھائیں گے، یہاں تک کہ قحط ختم ہوگیا اور خوشحالی آگئی۔ مگر آپ نے پھر بھی ان مذکورہ اشیاء کو نہ کھایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں تو کھاؤں اور میری رعایا میں سے کسی کو یہ نصیب ہی نہ ہوں۔

میں ضمیر اختر کی باتیں اس انہماک سے سن رہا تھا کہ اسکی باتیں سننے کے بعد مجھ سے کچھ کہا نہ گیا میں سوچتا ہوں ہمارے حکمران کیسے کیسے وعدے کرکے کیسی کیسی قسمیں کھا کر اقتدار میں آتے ہیں اور پھر اپنی باتوں سے ایسے پھرتے ہیں جیسے وہ باتیں کبھی انہوں نے کی ہی نہ ہوں اور عوام جس کرب میں زندگی بسر کررہے ہیں حکمرانوں کو اس سے کچھ غرض بھی نہیں اور خود شاہانہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ضمیر اختر مجھ سے سوال کرتا ہے

کیا سب جہاں میں جیتے ہیں مومنؔ اسی طرح

مزید :

رائےکالم





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں