Home » کیا دروازے کے باہر بلائیں گھومتی ہیں؟

کیا دروازے کے باہر بلائیں گھومتی ہیں؟

by ONENEWS


پہلے کی خواتین لڑکیوں سے کہتی تھیں کہ رات کو باہر اکیلی نہ نکلا کرو، دروازے کے باہر بلائیں گھومتی ہیں اور وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ عورت قبر میں بھی محفوظ نہیں۔ اس وقت یہ باتیں بہت عجیب لگتی تھیں۔ لیکن اب حالات دیکھ کر ان کے یہ الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔ کیا پاکستان میں عورت محفوظ نہیں ہے؟اگر لاہور موٹر وے کے اندوہناک واقعہ کو دیکھا جائے یا قصور کی زینب کو دیکھا جائے تو لگتا ہے پاکستان عورتوں کے لئے بالکل محفوظ نہیں۔ لاہور موٹروے کے دلخراش واقعے کے بعد پورا ملک ہل گیا ہے اور عورت اور مرد اس خوفناک جرم کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے اور اور حکومت پر مسلسل زور ڈالا جارہا ہے کہ مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

ایسا ردعمل خواتین پر ہونے والے جرائم کے سلسلے میں پہلے نہیں دیکھا گیا۔ ممکن ہے کہ ان لاہور کے مجرموں کو دوسروں مجرموں کے لیے ایک عبرت کا نشان بنایا جائے، تاہم خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم جیسے سنگین مسئلے کا پہلا ورق بھی نہیں پلٹا گیا ہے۔ ابھی تو شروعات ہے ابھی تو بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان خواتین کے لئے غیرمحفوظ ملک ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم اورگھریلو تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور جب بھی آواز اٹھائی گئی، یہ بات کہیں اور نکل جاتی جیسا کہ خواتین کے عالمی دن پر دیکھا گیا کہ ساری توجہ ایک نعرے پر مرکوز تھی میراجسم میری مرضی اور بحث بجائے خواتین پر ہونے والے تشدد اور جرائم پر ہوتی اس ایک نعرے پر ہوئی اور لوگوں نے جن میں مردوں کی تعداد زیادہ تھی اس کو این جی اوز کا ایجینڈا کہہ کر ٹال دیا۔

تاہم اس رویے سے صرف نقصان ہوا۔ پاکستان کئی برسوں سے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جن کو خواتین کیلئے سب سے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔  اور کرونا کے بعد لاک ڈاون میں تو ان جرائم میں شدید اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ اسلام آباد کی ایک این جی او سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کی دوسری ٹریکنگ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین پر تشدد کے واقعات کی تعداد میں دو سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کہ مطابق اسلام آباد سمیت ملک بھر میں گزشتہ تین ماہ کے دوران خواتیں پر تشدد کے واقعات میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ اس عرصے میں ڈیٹا کے تجزیئے کے بعد مارچ کے بعد جب سے لاک ڈاون شروع ہوا۔ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جب کہ پنجاب میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں ۸۷ فیصد سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس رپورٹ میں صرف وہ واقعات ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عباس کہتے ہیں کہ یہ اعداد و شمار صرف وہ ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوئے ہیں، اصل میں یہ اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ عباس صاحب نے مزید کہا کہ پنجاب میں واقعات زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں جس کا ہرگز مطلب نہیں کہ باقی ملک میں یہ واقعات کم ہوتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ پنجاب کے لوگوں میں ان کے بارے میں زیادہ آگاہی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے آگاہی کی کمی یا خوف۔ تو بات آتی ہے کہ کیا کیا جائے کہ معاشرہ خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم کا مقابلہ کیسے کریں۔ کیا نئے قوانیں بنانے کی ضرورت ہے؟۔

انسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں پہلے سے خواتین کو تحفظ دینے کے لیے بہت سارے قوانین ہیں۔ طاہرہ خواتین کے حقوق کی لڑائی کئی دہائیوں سے لڑ رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ان قوانین کا جب تک کوئی فائدہ نہیں جب تک حکومت ان پر عمل درآمد نہیں کرائے۔ حکومت کو چاہیے کہ پولیس اور عدلیہ کے ساتھ ملکر مستحکم اقدامات اٹھائے اور یہ جب تک نہیں ہوگا، جب تک ان جرائم اور تشدد کے واقعات پر قابو پانا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ مظلوم پر جرم کی ذمہ داری ڈالدی جاتی ہے۔ اس رویہ کو ختم کرنے کے لیے ہم کو تعلیم میں تبدیلی لانی پرے گی۔ اساتذہ کو نئی سرے سے تربیت دینی پڑے گی اور والدین کو بہت اہم کردار ادا کرنا پڑے گا۔ سب سے پہلے گھروں میں دونوں لڑکوں اور لڑکیوں سے ایک جیسا سلوک ہونا چاہیے کسی کو کسی پر برتری نہیں دی جائے، تبھی معاشرے میں تبدیلی آئے گی۔ اگر معاشرے میں یہ بنیادی تبدیلی آگئی تو وہ وقت دور نہیں جب دروازے کے باہر بلائیں نہیں سکون اور امن پروان چڑھے گا۔

.

You may also like

Leave a Comment