Home » کیا حکومت کو جانا چاہئے؟

کیا حکومت کو جانا چاہئے؟

by ONENEWS

کیا حکومت کو جانا چاہئے؟

پی ڈی ایم کی تحریک جو ں جوں اپنی ہیئت بدل رہی ہے توں توں یہ سوال اہم ہوتا جارہا ہے کہ کیا وقت آگیا ہے کہ حکومت کی چھٹی کردی جائے۔ پی ڈی ایم کے قائدین 20ستمبر کی اے پی سی کے بعد متحرک ہوئے تو بتارہے تھے کہ دسمبر میں حکومت نہیں رہے گی کیونکہ نون لیگ کی مریم نواز لاہور کے جلسے میں آر یا پار ہوتا دیکھ رہی تھیں، پھر دسمبر آیا تو بلاول بھٹو جلسوں میں حاضرین کو بتاتے پائے گئے کہ مجھ سے لکھوالو جنوری میں یہ حکومت نہیں رہے گی اور آج 31جنوری ہے اور پی ڈی ایم کی جانب سے وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کے لئے دی جانے والی مہلت ختم ہو گئی ہے اور لانگ مارچ کا دور دور تک امکان نہیں ہے۔ عوام کا ایک بڑا حصہ سمجھتا ہے کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ غیر ضروری طوالت اختیار کر سکتا ہے اور کم از کم اگلے بجٹ سے پہلے اس حکومت کے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس اعتبار سے لگتا ہے کہ 20ستمبر 2021میں بھی پی ڈی ایم ایک اور اے پی سی منعقد کر رہی ہو جس کی صدارت نواز شریف کر رہے ہوں جبکہ وہاں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کا دور دور تک اتاپتہ نہ مل رہا ہو۔

اس سے پہلے کہ پی ڈی ایم کا مزید تار تار ادھیڑا جائے، پہلے دیکھتے ہیں کہ کیا حکومت کو چلے جانا چاہئے کیونکہ ایک ایسے وقت میں جب ملکی برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ورکر ملنا مشکل ہو رہے ہیں، یورپ سمیت دنیا بھر سے آرڈر پر آرڈر مل رہے ہیں اور پاکستان ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھارت کو مات دینے کے قریب ہے کیا حکومت کو چلتا کرنا عقل مندی کی بات ہے۔ خالی یہی نہیں بلکہ جس طرح آئی ایم ایف کی مہربانی سے تعمیراتی شعبے کے لئے کالا دھن سفید کرنے کی ایمنسٹی سکیم کو 2021کے لئے دوام حاصل ہوا ہے اور کسی بھی اچھی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک کینال کے پلاٹ کی قیمت میں چالیس سے پچاس لاکھ کا اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی خریدوفروخت کے نتیجے میں حکومتی ریونیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے تو کیا ایسے میں اس حکومت کو گھر بھیجنا دانش مندی کی بات ہے۔ حکومت سے سٹیک ہولڈروں کو مسئلہ تو تب ہوتا جب وہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو قومی خزانے میں سے اربوں روپے کی سبسڈی دینے پر راضی نہ ہوتی اور عمران خان اپنے اعلانات کے مطابق کرپشن سے بنائے گئے کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے کسی بھی قسم کی ایمنسٹی سکیم پر راضی نہ ہوتے اور ریونیوبڑھانے کے لئے ایک نیا ایف بی آر کھڑا کرنے پر مصرہوتے۔ اس کے برعکس انہوں نے تو اپنے ہر اعلان سے یو ٹرن لے لیا ہے اور تبدیلی کا ایجنڈہ لپیٹ کر الماری میں رکھ دیا ہے جبکہ آئی ایم ایف علیحدہ سے حکومت پر مہربانیاں دکھا رہا ہے، اگر کہیں اس کا اصرار ہے تو بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر ہے تاکہ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کی نجکاری کی راہ ہموار ہو سکے اور دنیا بھر سے سرمایہ کار اونے پونے داموں ان کمپنیوں کو خرید کر مال بنا سکیں۔

یہاں پنجاب میں اگرچہ خواجہ داؤد سلیمانی نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف علم بغاوت بلند کرکے یار لوگوں کو تجزیہ کاری کا ایک موقع تو فراہم کیا ہے لیکن وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ انہیں عمران خان سے کوئی گلہ نہیں اور اگر کوئی لڑائی ہے تو سردار عثمان بزدار سے ہے جن سے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے سال پہلے بھی ان کی صلح کروائی تھی اور گارنٹر بنے تھے۔ اب اگر اس چنگاری کو سلگا کر کوئی سمجھتا ہے کہ جنگل کو جلا سکتا ہے تو اسے اس خام خیالی میں رہنے دیجئے۔ایک ذرا سینٹ کے انتخابات گزر جائیں، کچھ ترقیاتی فنڈ کے نام پر پی ٹی آئی کے ناراض گروپ کے وارے نیارے ہوجانے دیں، پھر دیکھئے گا کہ خواجہ صاحب اور ان کے ہمنوا بھی دوبارہ صلح کرلیں گے۔

ہمارے آپ کے سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ حکومت کے خلاف اچھی خاصی براڈ شیٹ کی چارج شیٹ کو جسٹس (ر) عظمت سعید کی سربراہی میں اپوزیشن کے خلاف تحقیقات میں تبدیل کردیا گیا ہے اور بیچاری سہمی ڈری اپوزیشن کو اگر اعتراض ہے تو اس بات پر ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات جسٹس عظمت سعید نہ کریں۔ کوئی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ کاوہ موسوی نے الزام تو شہزاد اکبر پر لگایا ہے، تحقیق نہیں بلکہ تفتیش تو ان سے ہونی چاہئے لیکن یہاں تو گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے۔ چنانچہ درج بالا حالات و واقعات اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ فی الحال حکومت جانے کے فوری امکانات معدوم ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت کے قائم رہنے کی ایک ہی شرط ہے کہ کسی بھی حکومت کو پانچ سال سے پہلے رخصت نہیں کیا جائے گا، زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کا ڈول ڈال لیا جائے اور جس طرح نواز شریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی آگئے تھے، اسی طرح عمران خان کی جگہ شاہ محمود قریشی آجائیں گے لیکن اگر کوئی سمجھتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں بلاول بھٹویاآصف زرداری اگلے اڑھائی برسوں کے لئے وزیر اعظم بن جائیں گے تو اس کو احمقوں کی جنت میں رہنے دیجئے اور دل لگا کر اپنے اپنے کام کیجئے کہ اس وقت حکومت نے آئی ایم ایف کی رضامندی سے عوام کو جس طرح کالا دھن بنانے کی اجازت دی ہے، دوبارہ حاصل نہیں ہو سکے گی۔شہزاد احمد شہزادیاد آتے ہیں کہ

اب اسے دل سے بھلا دینا ہے احساں کرنا

اب  اسے  یاد  نہ کرنا  ہی وفاداری ہے

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment