Home » کیا تخلیقِ پاکستان کے مقاصد حاصل ہو گئے؟

کیا تخلیقِ پاکستان کے مقاصد حاصل ہو گئے؟

by ONENEWS


کیا تخلیقِ پاکستان کے مقاصد حاصل ہو گئے؟

جس خطّے کو ہم پاکستان کہتے ہیں، 1947 والا پاکستان نہیں، یہ خطّہ تمام برِصغیر میں تعلیم کے لحاظ سے سب سے زیادہ پسماندہ تھا۔ یہاں تعلیم سے میری مُراد وہ خواندگی نہیں جو مغلوں کے زمانے سے مدرسوں اور خانقا ہوں میں رائج تھی۔ بلکہ وہ تعلیم ہے جو منظم طریقے سے انگریز کے بنائے ہوئے سکولوں سے حاصل ہوتی تھی۔ انگریزی نظام تعلیم میں آج ہم جتنی مرضی بُرائیاں نکال دیں لیکن اس کا خیال رہے کہ انگریزی سکولوں اور کالجوں سے فارغ التحصیل افراد نے ہی پاکستان کی بنیاد ڈالی تھی اور اُن لوگوں ہی نے پاکستان کی اِبتدائی دہائیوں میں جدید ترقیاتی اِدارے، بینک، ہسپتال اور یونیورسٹیاں بنا کر دیئے تھے۔ اِن ہی ”انگریزی زدہ“ ماہرین نے ہماری ریلوے، عسکری اِدارے، نہری نظام، صوبائی اور ضلعی نظم و نسق اور ملکی چھوٹی، بڑی عدالتوں کو سنبھالا تھا۔ اگر ہماری اعلیٰ عدالتوں پر اُنگلیاں اُٹھتی ہیں تو اِن ہی عدالتوں نے ہمیں جسٹس عبدالرشید، جسٹس کارلینیس، جسٹس ایم۔آر کیانی، جسٹس دراب پٹیل اور جسٹس بھگوان داس جیسے پیکرِ دیانت اور انصاف پرورجج بھی دیئے تھے۔ انگریز کے تعلیمی نظام کی اِبتداء برِصغیر کے جنوب مشرق سے ہوئی تھی یعنی مدراس، کلکتہ وغیرہ سے جوں جوں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کے شمال اور شمال مغربی حصوں پر قابض ہوتی گئی جدید طریقہِ تعلیم وہاں بھی رائج ہوتا گیا۔ برِصغیر کے شمال مغربی حصہ میں پنجاب کے صرف5 اضلاع ایسے تھے جہاں مسیحی مشنریوں نے انگریزی سکول بنائے۔ اِن ہی سکولوں کے پڑھے ہوئے مسلمان خوشحال گھرانوں کی اولادوں نے انگریزی راج کے مزے بھی لوٹے اور تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے تمام شعبوں پر بشمول سیاست قبضہ بھی جمالیا۔ خطہِ پاکستان کی آبادی کی اکثریت نادار اور جدید علوم سے عاری ہی رہی۔ اس علاقے پر مغلوں کے زمانے سے ہی جاگیریں اور چھوٹی بڑی 1500 سے زیادہ خانقا ہیں قائم تھیں۔ جس میں سے 550 درگاہیں اوقاف کے زیرِ ا،نتظام ہیں۔سکھِوں کے راج میں پنجاب کا عام مسلمان مزید غُربت کا شکار ہو چکا تھا۔ نہری نظام کے آنے سے مسلمان آباد کاروں کو رقبے ملِے تو وہ بھی خوشحال ہوئے اور یوں مسلمانوں کا چھوٹا سا طبقہ مِڈل کلاس میں تبدیل ہوا۔ لیکن پاکستان کی سیاسی طاقت جاگیرداروں اور سجادہ نشینوں کے ہاتھ میں ہی رہی۔ بلکہ اِن جاگیرداروں اور خانقاہی مجاوروں کو پاکستان کی تخلیق یوں بھی راس آئی کہ اِن میں سے اکثریت ہندو ساھو کاروں اور ٹھاکروں کے مقروض تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد اِن مقروض جاگیرداروں نے فرقہ وارانہ فسادات کی سرپرستی کی اور یوں ہندو اور سکِھ بنیئے اپنی زمینیں اور شہری اثاثے چھوڑ کر ہندوستان چلے گئے۔ ہندو ؤں اور سکھِوں کے متروکہ رقبوں پر مہاجروں نے کلیموں کے ذریعے قبضہ کر لیا۔عام لوکل مسلمان یوں ہی مفلسی کاشکار رہا۔ خواہ وہ پنجابی تھا، سندھی یا بلوچی تھا۔ زیادہ بندر بانٹ سندھ اور پنجاب کے شہری علاقوں کی ہوئی۔ حصول پاکستان کے 72 سالوں میں، سیاسی طاقت جاگیرداروں یا اُن کے گماشتوں کے ہاتھ میں رہی یا فوجی چھاپا ماروں کی واریاں لگتی رہیں۔ جاگیرداروں، مخدوموں اور فوجیوں کی حکومت میں مولویوں کا طبقہ بھی اپنا ”لُچ“تلتا رہا۔ کبھی قرار دادِ مقاصد کا نام لے کر، کبھی پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ کا نعرہ لگا کر، کبھی نظامِ مصُطفےٰ کا سبز باغ دِکھا کر اور کبھی عشقِ رسول کا ولولہ پیدا کر کے مولوی کو حصہ بقدرِ جثہ ہر حکومت دیتی رہی اور غریب عوام جمہوریت کے ٹرک کی لال بتی کے پیچھے ابھی تک یوں ہی دوڑتے چلے جارہے ہیں۔ اِن 72 سالوں میں ہماری آبادی ساڑھے 3کروڑ سے بڑھ کر 22 کروڑ ہو گئی۔یعنی غریب اور اَن پڑھ عوام کی تعداد بڑھتی رہی جس کا مطلب یہ بھی ہو اکہ نام نہاد جمہوریت کو چلانے کے لئے ووٹروں کی لسٹیں لمبی ہوتی چلی گئیں۔

پاکستان کی اِبتداء میں ہمارے سیاسی لیڈر کرپٹ تو اِتنے نہیں تھے لیکن ناتجربہ کار تھے۔ مشرقی پاکستان کے لیڈر البتہ مڈل کلاس کے پڑھے لکھے لوگ تھے اِدھرمغربی پاکستان کے سیاستدانوں کا مزاج جاگیردارانہ تھا۔ یہ طبقہ انگریز حکمرانوں کی کاسہ لیسی کے ذریعے وجود میں آیا تھا۔ اِن کی جبلّت اب بھی یہ ہے کہ اپنے سے طاقتور کے پاؤں پکڑ لو اور کمزور کے اُوپر سواری کر لو۔ مغربی پاکستان کے عوام مغلوں، سکھِوں اور انگریزوں کی حکمرانی کی وجہ سے اپنی عزتِ نفس کا احساس کھو چکے تھے۔ پاکستان کے قیام کے بعد، عوام کے اس غلامانہ روّیئے میں کوئی تبدیلی نہ آ سکی۔ ایک ملک ہونے کے باوجود، مشرقی پاکستانی عوام جاگیردارنہ اور خانقاھی نظام کے عادی نہ تھے۔ اُن کی سیاسی سوچ زیادہ پختہ تھی جبکہ اِدھر کے عوام اپنے چوہدری، اپنے پیر اور مخدوم کی سوچ کے غلام تھے۔ پاکستان کے دونوں حصوں کے عوام کے سیاسی روّیوں میں زمین آسمان کا فرق ہونے کی وجہ سے ہماری جمہوریت بھی غیر متناسب اور لولی لنگڑی رہی۔ مشرقی پاکستانیوں کی علیحدگی پسندی کی بڑی وجہ وہاں کے عوام کی سیاسی بالغ نظری تھی۔ موجودہ پاکستان کے عوام تو آج بھی اپنے سائیں کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر ووٹ ڈالتے ہیں۔

دراصل تخلیقِ پاکستان غلط مفروضوں اور بنیادوں پر ہوئی۔ مشرقی بنگال والے کبھی بھی بقول قائد mouth eaten پاکستان کا حصہ بننا نہیں چاہتے تھے۔ باؤنڈری کمشن کے جسٹس منیر نے جب مجوزہ پاکستان کا نقشہ قائد اعظم کو دکھایا تو اُنہوں نے Mouth eatenکے الفاظ استعمال کئے تھے۔ 1940 کی قراردادِ لاہور میں پتہ نہیں کس نے شرارت کر دی کہ راتوں رات لفظ Statesکو State میں تبدیل کر کے جب 24 مارچ کو یہ قرارداد پیش ہوئی(قراردادِ لاہور 23 مارچ کو پیش نہیں ہوئی تھی) تو ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ایک Single ریاست کا تصور پیش کر دیا گیا۔ حالانکہ نہ ہی علامہ اقبال کا اس قسم کا تصور پاکستان تھا اور نہ ہی چوہدری رحمت علی نے جب لفظ پاکستان 1927 میں تشکیل دیا تھا تو اس مین بنگال کا ”ب“شامل نہ تھا۔بنگالیوں کی تاریخ پڑھیں تو اُنہوں نے مملوک سلطانوں، پٹھا نوں اور مغلوں کے زمانے میں بھی اپنی Autonomy برقرار رکھی۔ اُنہوں نے تو انگریز سے بھی لڑ کر 1905 میں متحدہ بنگال کی تقسیم کروا کر مشرقی بنگال صوبہ یا مسلم بنگال کا صوبہ بنوالیا تھا۔ بنگال اور آسام میں اسلام نبی کریم ؐ کے زمانے میں ہی عرب تاجروں کے ذریعے بحری راستوں سے آچکا تھا۔ وہ کسی بھی صورت پاکستان کے مغربی حصے میں رائج مسلکوں سے متفق نہیں تھے۔ اُن پر فارسی بولنے والے مسلمان حکمرانوں نے حکومت ضرور کی لیکن بنگالیوں نے صرف عرب کلچر کو قبول کیا۔ ائیر فورس میں اپنی ملازمت کے دوران میں مشرقی پاکستان میں رہا ہوں۔ اُس وقت میں تعلیمی لحاظ سے اتنا Mature نہیں تھا لیکن میَں تھوڑی بہت مشاہدے کی شُدھ بُدھ رکھتا تھا۔میَں حیران ہوں کہ ہمارے بڑے لیڈروں نے بنگالی ذہن کو کیوں نہیں سمجھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ 1906 میں صوبہ بنگال کے لیڈروں نے بنائی تھی۔ اُن کے ذہن میں آزادی کا تصور یہ نہیں تھا کہ آنے والے دِنوں میں وہ پاکستان کا محض ایک صوبہ بن کر رہ جائیں گے۔ آج کا بنگلہ دیش1905 کے صوبہ مشرقی بنگال کی حدُود میں قائم ہے۔ یہ سب پراپیگنڈا ہے کہ ہندؤں نے مشرقی پاکستان کو الگ کیا۔میَں اپنے بنگالی دوستوں کے ذہن کو سمجھ گیا تھا۔اُن دِنوں بنگا لی نوجوان آزاد مشرقی پاکستان کا تصور رکھتا تھا۔بنگالی ثقافتی لحاظ سے ہم مغربی پاکستانیوں سے بالکل مختلف تھے۔ بنگالی مسلمانوں کے نام 100 فیصد عربی مصادر سے اَخذہوتے تھے۔ اُنکا لباس چار خانے والی لُنگی اور کرتہ یمنی عربوں سے ٹرانسفر ہوا تھا۔ بلکہ ہندوستان کے تمام ساحلی علاقوں میں جہاں عربوں کے ذریعے اسلام پھیلا وہاں لُنگی اور کرتہ گیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ بنگلہ دیش اور ساؤتھ اِنڈیا میں Genuine مزارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ البتہ پیشہ ورمجاوروں نے اپنی پرائیویٹ زمینوں پر گمنام ولیوں کے مزار کمائی کے لئے بنائے ہوئے ہیں۔ میری یہ خوش قسمتی رہی کہ مجھے اپنے UAE بینک کی ملازمت کے سلسلے میں ہندوستان15 سال تک کافی آنا جانا رہا۔ میرے سفر کرنے پر کوئی پابندی نہیں تھی سوائے مقبوضہ کشمیر کے میَں ہندوستان میں کہیں بھی جا سکتا تھا۔ میَں نے بنگلور، کلکتہ، مدراس، بمبئی، ٹراونڈرم(کیرالہ)Visit کیے اور جیسے کہ میَں نے لکھا ہے کہ یہ تمام علاقے مسلکی لحاظ سے ہم پاکستانیوں سے میل نہیں کھاتے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے بڑے لیڈریہ نہ سمجھ سکے کہ مشرقی بنگال ہم مغربی پاکستانیوں کے ساتھ کبھی بھی نہیں رہ سکتا۔ اب ہمارے خود ساختہ دانشور اور تاریخ دان جو مرضی تاویلیں دیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی لیکن مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ علامہ اقبال کا مسلم خود مختار ریاستوں کا تصوّر بہت دور اندیشانہ تھا اور مسلمانوں کی بھلائی کے لئے تھا۔ بنگلہ دیش کی بنیاد تفرتوں پر نہ پڑتی۔ اِبتداء ہی سے وہ آزاد ملک ہوتا اور ہمارا بازو ہوتا۔جس مقصد کے لئے پاکستان کے حصول کے لئے جدو جہد کی تھی وہ تو ابھی بھی پورا نہیں ہوا۔ چند اِدارے بن جانے سے، کچھ کارخانے بن جانے سے اسلام آباد کے کرّ و فر سے، کچھ گھرانوں کے امیر ہوجانے سے، مسجدوں اور حاجیوں کی بہتات سے، نام نہاد شریعت کے نفاذ سے پاکستانیوں کو محض ایک قوم کہہ دینے سے، موٹی تازی فوج کے قیام سے، اَن گِنت یونیورسٹوں کے بن جانے سے اور غربت کی لکیر کے ذرا نیچے ہو جانے سے، تخلیقِ پاکستان کے مقاصد توکیا حاصل ہونے تھے، ہمارے اس علاقے کے لوگوں میں اِخلاقی اور معاشرتی گِراوٹ مزید آ گئی ہے۔ دھوکا بازی، ذخیرہ اندوزی، چور بازاری، دو نمبری، ملاوٹ، بدنظمی، جھوٹ، غیبت، لالچ، مسلکی نفرتیں اور تکفیری نعرے، ہمہ گیر عروج پر ہیں۔ جس عوام کو ہم سادہ یا محنت کش کہتے ہیں۔وہ بھی، جذباتیت، بد نظمی اور فوری اِشتعا ل میں مبتلا ہیں۔ کام چور ہیں۔ بنگلہ دیشی مزدور کے مقابلے میں کم Productive ہیں۔ کہاں ہے وہ پاکستان جس کا خواب علامہ اقبال اور قائد اعظم نے دیکھا تھا۔ ہر 14 اِگست کو اخباری ضمیمے نکالنے سے تجدیدِ عہد تو نہیں ہوتی البتہ اخباروں کو اشتہار مل جاتے ہیں۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment