Home » کیا امریکہ لداخ میں اتر سکتا ہے؟

کیا امریکہ لداخ میں اتر سکتا ہے؟

by ONENEWS


کیا امریکہ لداخ میں اتر سکتا ہے؟

پچھلے دنوں میں نے تین اقساط پر مشتمل ایک آرٹیکل لکھا جس کا عنوان تھا: ”انڈو پیسیفک ریجن میں چہارگانہ اتحاد“۔ اس پر بہت سے دوستوں نے نہائت مثبت تبصرے کئے لیکن بعض نے اسے دور کی کوڑی قرار دیا اور کہا کہ لداخ میں امریکی فضائی اور زمینی بیسز (Bases) کے قیام کی اجازت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کیسے دے سکتی ہے؟ یہ بھی فرمایا گیا کہ بھارت کی گزشتہ پون صدی کی تاریخ اس ’بے سروپا‘ اندیشے کو سپورٹ نہیں کرتی۔ کیا ماضی میں کبھی ایسا ہوا ہے کہ انڈیا نے امریکہ سے یہ درخواست کی ہو کہ اپنی افواج انڈیا میں بھیجو وغیرہ وغیرہ …… میں اپنے ان دوستوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ وہ 1962ء کی انڈو۔ چائنا وار کا مطالعہ کریں۔ اس میں بھارتی وزیراعظم نہرو نے اس وقت کے امریکی صدر سے التجا کی تھی کہ بھگوان کے لئے انڈیا کو بچا لو۔ چینی فوج کلکتہ تک آ گئی ہے اور دہلی دور نہیں۔ نہرو نے امریکہ میں اس وقت کے اپنے بھارتی سفیر کو تاکید کی تھی کہ واشنگٹن جاؤ اور صدر کو اپنے حالِ زار سے مطلع کرو اور انہیں کہو کہ وہ جتنی جلد ہو سکے امریکی ائر فورس انڈیا بھیجنے کا بندوبست کریں۔ اس میں نہ صرف امریکی لڑاکا طیاروں کے سکواڈرنوں کی تعداد کا ذکر کیا تھا بلکہ یہ درخواست بھی کی تھی کہ ان جنگی طیاروں کے پائلٹ اور ان کا زمینی عملہ بھی ساتھ بھیجیں کیونکہ انڈین ائر فورس میں ان کو چینی ائر فورس کے خلاف آپریٹ کرنے کی تکنیکی صلاحیت مفقود ہے…… اگر کسی قاری کو شک ہو تو وہ اس وقت کی ان بھارتی دستاویزات کو نیٹ پر جا کر دیکھ سکتا ہے جو اب پبلک کے لئے اوپن کر دی گئی ہیں!

1962ء کے چین اور آج کے چین میں جو فرق ہے اس کو نگاہ میں رکھیں اور موازنہ کریں کہ لداخ میں 15جون 2020ء کو چینی فوج نے ایک دن میں بھارتی فوجیوں کا جو حشر نشر کیا وہ 20اکتوبر 1962ء کی ایک دن کی ضائعات سے کہیں زیادہ تھا۔ آج چین ساری وادیء گلوان پر قابض ہے اور بھارتی عسکری اور سیاسی سیانے یہ سوچ رہے ہیں کہ کاش یہ چہارگانہ اتحاد (امریکہ، آسٹریلیا، انڈیا اور جاپان پر مشتمل) مودی کے پہلے دورِ حکومت میں پروان چڑھ گیا ہوتا، امریکی بیسز لداخ میں بن گئی ہوتیں اور لیہ۔ دولت بیگ اولدی 300 کلومیٹر روڈ چینی فورسز کے عتاب کے زد میں نہ ہوتیں!!…… اور ہم پاکستانی ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھیں کہ جب نو گیارہ کے بعد امریکی صدر جارج بش نے افغانستان پر چڑھائی کر دی تھی تو کیا امریکہ نے پاکستانی قیادت سے یہ سوال نہیں پوچھا تھا کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ کیا ہم نے جیکب آباد، شکار پور اور شمسی بیس امریکی ائر فورس کے تصرف میں نہیں دے دی تھیں؟ یہ تو جب افغانستان میں امریکی اور ناٹو فورسز کو مار پڑی اور پاکستانی عوام نے جنرل مشرف کی بلنڈر کے بخیئے ادھیڑنے شروع کئے تو پاکستان نے ’ہرچہ بادا باد‘ کا نعرہ لگایا اور امریکہ کو یہ پاکستانی بیسز خالی کرنی پڑیں۔ علاوہ ازیں جب CPEC کا آغاز ہوا تو چین کی فوجی قوت اس قابل ہو چکی تھی کہ وہ پاکستان میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکے۔

مشرق وسطیٰ میں بھی امریکیوں کا بُرا حال تھا اور افغانستان میں بھی ناٹو نے ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے۔ یعنی جب اس خطے میں جیوملٹری اور جیوسٹرٹیجک توازن امریکہ اور اس کے حواریوں کے ہاتھ سے نکلنے لگا تو اس نے افغانستان خالی کرنے کا عندیہ دے دیا۔ آج افغانستان میں پاکستان، چین، روس اور وسط ایشیائی ریاستوں کے مفادات ہمارے سامنے ہیں۔ اگر کورونا حائل نہ ہوتا تو CPEC بہت آگے بڑھ چکا ہوتا۔ ہمیں افواجِ پاکستان کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے آج کی داخلی سیاسی صورت حال، کورونا کی اقتصادی یلغار اور ایل او سی پر گزشتہ برس (26،27فروری) کھلی انڈو پاک وار کے خطرات کے باوجود پاکستان کو کسی سٹرٹیجک الجھاوے میں گرفتار ہونے سے بچائے رکھا۔ یہ درست ہے کہ آج ٹیکٹیکل محاذ پر داخلی طور پر پاکستان کو بہت سی ناکامیوں کا سامنا ہے لیکن ان سے بچ کر رہنا اور اپنے آپ کو کسی آنے والے روشن مستقبل کی امیدوں میں ’مبتلا‘ رکھنا پاک فوج کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے……

ہم لداخ میں امریکی بیسز کے قیام یا عدم قیام پر تبصرہ کر رہے تھے۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق امریکہ لداخ میں اترنے یا نہ اترنے کی آپشنز پر بڑی سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ برسلز (بلجیم) میں ناٹو کا ہیڈکوارٹر ہے جس میں ’جرمن مارشل فنڈ‘ کے موضوع پر ایک ورچوئل فورم میں امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا: ”امریکہ، چین کی پیپلزلبریشن آرمی کے اس بڑھتے ہوئے خطرے کا توڑ کرنے کی سبیلیں کر رہا ہے جو اس وقت کئی ایشیائی ممالک کو لاحق ہے۔ ان ملکوں میں انڈیا، ملیشیا، انڈونیشیا اور فلپائن شامل ہیں۔ امریکہ اپنی فورسز کی گلوبل صف بندی (Deployment)کو ایک نئی شکل دینا چاہتا ہے“۔

.

اس سے پہلے کہ آگے بڑھا جائے، قارئین جاننا چاہیں گے کہ آج امریکی فورسز دنیا میں کہاں کہاں موجود ہیں اور ان کا حجم کیا ہے۔آج دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں جس میں امریکی افواج صف بند نہ ہوں۔ لیکن ان کی تعداد کی تفصیل وغیرہ ایک الگ آرٹیکل کی متقاضی ہے اور یہی وہ خوف ہے جو مجھے دامنگیر رہتا ہے کہ اردو زبان میں اگر ان موضوعات کی تفاصیل بتانی شروع کر دی جائیں تو میڈیا خواہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک، خشک اور بوریت زدہ ہو جاتا ہے۔ میں عموماً اوسط علمی اور مالی وسائل کے حامل اپنے قارئین کو ہمیشہ نگاہ میں رکھتا ہوں اور حتی الوسع زیادہ بھاری بھرکم پیشہ ورانہ عسکری اصطلاحات و تراکیب سے تحریر کو بوجھل بنانے سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جن قارئین کے پاس انٹرنیٹ کی سہولیات نہیں اور ان کے پاس سمارٹ موبائل بھی نہیں تو ان کو عسکری امور کی ابتدائی جانکاری بہم پہنچانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ مثال کے طور پر اگر یہ بتانا ہو کہ امریکہ کی چاروں فورسز (آرمی، نیوی،ائر فورس، میرین) کی گلوبل صف بندی کیا ہے تو نیٹ پر تو یہ سب کچھ موجود ہے۔ جن کے پاس وسائل ہیں اور ان موضوعات کو سمجھنے کی اہلیت بھی ہے تو ان سے گزارش ہے کہ وہ سب سے پہلے امریکی گلوبل ڈیپلائے منٹ پر ایک نظر ڈال لیں۔ لیکن جن کے پاس یہ وسائل نہیں ان کو کیسے سمجھایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کل کلاں لداخ میں آنے کی پلاننگ کر رہا ہے تو اس کی پروفیشنل جزئیات کیا ہیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکہ کو کن طاقتوں سے خطرہ ہے اور وہ طاقتیں امریکی مفادات پر کہاں کہاں ضرب لگا سکتی ہیں۔ میں برسلز میں پومپیو کی تقریر کے بارے میں آپ کو بتا رہا تھا۔ اس تقریر کا خلاصہ پومپیو کی زبان ہی سے سنیئے:

”PLA کی طرف سے ہمیں جو خطرات ہیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم اپنی فورسز کی لوکیشنز تبدیل کر رہے ہیں۔ ہمارے لئے آج یہی سب سے بڑا چیلنج ہے اور ہم اپنے تمام وسائل اس چیلنج سے نمٹنے پر لگا رہے ہیں۔ ہم سب سے پہلے جرمنی میں اپنی فوج کی تعداد 52000سے گھٹا کر 25000کر رہے ہیں۔ اپنی عسکری قوت کی یہ تقلیل و تکثیر، پیش آمدہ خطرات (Threats) کی وجہ سے ہے۔نئے پلان کے مطابق بعض مقامات پر ہمارے ٹروپس کی موجودگی کم ہو گی اور بعض پر زیادہ۔ انڈیا، ویت نام، ملائیشیا، انڈونیشیا، ساؤتھ چائنا سمندر اور فلپائن کا ذکر میں نے ابھی ابھی کیا ہے۔ ان مقامات پر ہماری فوجی موجودگی زیادہ ظاہر وباہر ہو گی“۔

دوسرے لفظوں میں امریکی وزیر خارجہ یہ بتا رہے ہیں کہ انڈیا کو PLA سے چونکہ زیادہ خطرہ ہے اس لئے ہم اپنے عسکری وسائل کو از سر نو پوزیشن کرنے پر مجبور ہیں۔ (یہ یاد رہے کہ پومپیو کھل کر نہیں بتانا چاہ رہے کہ لداخ میں PLA کے ہاتھوں انڈین آرمی کو جو مار پڑ رہی ہے اس کا توڑ کرنے کے لئے امریکی فورسز لداخ (یا کشمیر) میں کس کس جگہ جانے کا ارادہ رکھتی ہیں)۔

امریکہ نے جرمنی میں 52000ٹروپس رکھے ہوئے ہیں۔ ایک ڈویژن میں 10سے 12ہزار ٹروپس ہوتے ہیں۔اس حساب سے جرمنی میں امریکہ کے پانچ ڈویژن فوجی موجود ہیں جن کی تعداد گھٹا کر دو ڈویژن (25000) کرنے کا پروگرام ہے اور یہ فوجی خالی ہاتھ تو نہیں جاتے۔ ان کا اسلحہ، بارود، راشن پانی، رہائشی ضروریات، ائر کور (Air Cover)، ٹیکنیکل اور میڈیکل دیکھ بھال، ٹرانسپورٹ اور اس طرح کے درجنوں بکھیڑے اور ہوں گے جو امریکہ کے ان تین ڈویژنوں کو جرمنی سے اٹھا کر کسی اور جگہ پوزیشن یا Placeیا صف بند کرنے کے لئے اٹھانے پڑیں گے۔ لیکن انڈین حکومت، چین کا ہّوا دکھا کر امریکہ پر زور دے رہی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی فورسز کی از سر نو صف بندی پر عمل کرے (یعنی چین کے خلاف لداخ میں اترے…… لیکن کیوں اترے، اس پر ہم گزشتہ کالموں میں بڑی تفصیل سے بحث کر چکے ہیں)

اسی ورچوئل کانفرنس میں ایک صحافی نے یہ سوال بھی کیا کہ اگرجرمنی سے تین ڈویژن فوج بمعہ ساز و سامان نکال لی جائے گی تو روس کی طرف سے کسی امکانی حملے کا کیا بنے گا تو اس سوال کے جواب میں پومپیو نے کہا: ”ہم نے روس کا مقابلہ کرنے کا بندوبست کیا ہوا ہے۔ لیکن اب نئے خطرات سامنے آ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں وزیر دفاع مارک ایسپر (Esper) سے بھی تفصیلی بات چیت کی ہے۔ ہم آئے روز چین کی طرف سے انڈیا، ہانگ کانگ اور ساؤتھ چائنا سمندر میں اس کی زیادتیاں دیکھ رہے ہیں۔چین انڈو۔ پیسیفک ریجن میں اپنا فوجی اور اقتصادی اثر و رسوخ بڑھاتا چلا جا رہا ہے، اس کا علاج تو آخر کرنا ہے!“

قارئین گرامی! دنیا ایک شطرنج ہے اور اس پر فریقین اپنے اپنے مہروں کو نہائت سوچ سمجھ کر آگے بڑھاتے ہیں۔چین نے 15جون کو جو مہرے آگے بڑھائے ہیں ان کے جواب میں امریکہ اپنے مہروں کی اگلی Move کی فکر کررہا ہے اور پومپیو کی یہ کانفرنس اسی فکر کو برسرِعام کرنے کے لئے منعقد کی گئی تھی۔ لہٰذا بعض دوستوں کا یہ سمجھنا کہ لداخ میں امریکی ٹروپس کی آمد ایک واہمہ ہے، غلط ہے۔ پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اگلی امریکی چال اور اگلا امریکی مہرہ کس خانے میں جا گرتا ہے اور اس کا جواب ہمارے پاس کیا ہوگا۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment