Home » کیا ارتغرل ڈرامہ ہماری ثقافت کے لیے خطرہ ہے؟

کیا ارتغرل ڈرامہ ہماری ثقافت کے لیے خطرہ ہے؟

by ONENEWS

کیا ارتغرل ڈرامہ ہماری ثقافت کے لیے خطرہ ہے؟

برصغیر پر قدرت کی خاصی مہربانی یہ ہے کہ یہ خطہ ہمیشہ سے فنون لطیفہ کے ضمن میں انتہائی زرخیز رہاہے۔ یہاں بسنے والی قدیمی تہذیبیں ہڑپہ، موہنجو ڈارو سے گندھارا تہذیب تک آرٹ کے معاملے میں دیگر تمام تہذیبوں سے کہیں آگے تھیں۔ یہاں تک کہ بعد میں یہاں بسنے والی آریا یا ہندو طرز تہذیب جو باقی دنیا سے بہت الگ اور منفرد تھی میں جب عربوں اور افغان تہذیبوں کے اثرات شامل ہوئے تو جو حسین امتزاج ابھر کر سامنے آیا وہ پورے دنیا میں منفرد نظر آیا۔ اس پر مغربی اقوام کی دو سو سالہ حکومت نے جو اثرات چھوڑے، یہ فراخ دل خطہ ہر طرح کی ثقافت اور طرزِ معاشرت کو اپنے اندر اس خوبصورتی سے سموتا چلا گیا کہ آج رنگوں سے مزین اور مختلف لہجوں کی لذت، متنوع طرزِ لباس اور منفرد بودوباش سے بھرپور کلچر موجودہ شکل میں وجود میں آیا۔

ان مثبت اثرات کے ساتھ ساتھ منفی اثرات بھی شدت سے مرتب ہوئے جس میں دو سو سال کی غلامی کے بعد ایک شدید احساس ِ کمتری یا غلامانہ ذہینیت کی چھاپ سرفہرست ہے۔ گھر کی مرغی دال برابر کے مصداق، اس ننوع سے بھرپور کلچر کے بلمقابل خشک ترین مغربیت سے متاثر ہونے کا ایک دائمی بخار ہے جس نے ایک بڑے طبقے کو اپنے زیرِ اثر رکھا ہے۔

اس ساری تمہید کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آج ایک طرف ایک بڑا طبقہ جہاں اس ارتقائی عمل کے آگے بندھ باندھنے کے لیے تیار بیٹھا ہے، وہاں ایک اور طبقہ اسے کسی اور مادر پدر آزاد تہذیب کی سمت لے جانے کے در پہ ہے۔ یہ دونوں انتہائی رویے اپنی جگہ قابل بحث ہیں۔

سارا دن ھالی ووڈ کے وائی کنگ، روم، گیم آف تھرونز، سپارٹیکس جیسے جھوٹی تاریخ پر مبنی اخلاق باختہ ڈرامے دیکھ دیکھ کر سردھننے والوں کی “ارتغرل” کی مقبولیت پر حالت انتہائی قابلِ رحم ہے۔

ہمارے کء فنکاروں کے تحفظات اپنی جگہ مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے بالی ووڈ سے متاثر ہو کر، ایک طبقہ خود اپنی عروج پر پہنچی ہوئی ڈرامہ نگاری کو اس نہج پر لے آیا ہے کہ ایک ہی لگے بندھے طرز پر بنتے ڈرامے، لوگوں کو دوسرے ممالک کے انٹرٹینمنٹ انڈسٹریز کی طرف مائل کرنے پر مجبور کر رہیہیں۔ ایسے میں ارتغرل کی کامیابی کوء انہونی بات نہیں مگر اسے اپنی تہذیب پر حملہ قرار دینا بھی محض خام خیالی ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ہمیں اپنی پاک و ہند کی تاریخ اور ثقافت اتنے زور کی یاد آنے لگی ہے تو بھی ارتفرل کو ہی دعا دیں کہ یہ شعور کبھی سالوں سے ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کو دیکھ کر تو نہیں جاگا۔

دوسری طرف ارتغرل کے کرداروں کی ذاتی زندگی کا کا پوسٹ مارٹم کرنے والوں کے لیے یہ بھی کافی نہیں ہے کہ کم از کم ڈرامے کی حد تک ہی سہی ترکوں کو ان کی اپنی تاریخ، لباس، تہذیب اور ان کے عروج کے قصے تو یاد کروائے گئے۔

اگر ہم میں سے کئی سارا دن نیٹ فلیکس کے مزے لوٹ سکتے ہیں تو پی ٹی وی دیکھنے والی غریب عوام کو اردو میں کچھ اچھا کانٹنٹ دیکھ لینے دیں۔گو کہ ہالی ووڈ طرز پر ہر ایسے ڈراموں کے لیے ناظرین کی عمر کی حد کی پیشگی وارننگ دی جا سکتی ہے تاکہ اگر خون خرابے یا پرتشدد مناظر کو پیش کیا جانا ناگزیر ہو تو چھوٹے بچوں کے لیے ناموزوں مواد کا تعین کیا جاسکے۔ انہی ناقدین میں سے کئی ایک لٹریچر، ڈرامہ نگاری، ویڈیو گرافی کے ماہر ہیں تو کس نے منع کیا ہے ہے کہ ساس بہو کی کی محاذ آرائیوں پر مبنی ڈراموں سے فارغ ہوکر کر یہ کام بھی کر گزریں یا یہ کام بھی آئی ایس پی آر نے کی کرنا ہے؟ اگر ہم ایسا نہیں کر پائے تو کم از کم ہالی ووڈ کی میڈیا گردی کا جواب دینے والوں کو داد دینے کا حوصلہ پیدا تو کریں۔ کمرشلزم کا زمانہ ہے، یہ ٹرینڈ چل نکلا تو کیا معلوم پاکستانی ڈرامہ نویس اپنی تاریخ پر اس سے بھی اچھا کچھ بنا ڈالیں۔

ویسے بھی بالی ووڈ کے کیسریا، پدوامتی، جودھا اکبر اور پانی پت جیسی تاریخ کو مسخ کرنے والی اور مسلمانوں کو جنگلی لٹیروں کے روپ میں دکھانے والی کہانیوں اور پروپیگنڈا فلموں کا راستہ روکنا وقت کی ضرورت ہے۔ مگر پھر بھی اگر کسی کو راجہ داہر پر اتنا پیار آ رہا ہے، تو اس دن سے ڈرنا چاہیے جب عرب ابوجہل اور ابولہب کو اپنا جرنیل مانیں یا مصری فرعون کے مذہب کو سرکاری مذہب قرار دے دیں اور ایران والے خسرو پرویز کو اپنا آئیڈیل گرداننے لگیں۔

دوسری طرف ایک اور انتہائی رویہ بھی قابل غور ہے۔اسلام میں حرام کی گئی، کئی چیزوں کی جو حکمت میری ناقص عقل میں سمائی ہے وہ تو یہ ہے کہ خدا نے انسان کو بیش بہا نعمتوں سے نواز کر ان سے لطف اٹھانے کا بھرپور اختیار دیا مگر دوسری طرف کچھ لذتوں کو دوبارہ آنے والی زندگی کے لیے رکھ چھوڑا ہے اسی لیے اس دنیا کو امتحان کی جگہ قرار دیا ہے۔

چونکہ انسان میں تجسس کا مادہ اتنا شدید ہے کہ فطرتاََ وہ اس چیز کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے جس سے منع کیا جائے۔ شجر ممنوع سے لے کر آج تک یہ رویہ قدم قدم پر ہمارے پیشِ نظر ہے، مگر دوسری طرف اس تگ و دو میں ہم آدھے تیتر آدھے بٹیر بنتے جا رہے ہیں۔ جب لاوڈ سپیکر آیا تو حرام قرار پایا، بعد میں لاو?ڈسپیکر پر پابندی ناقابل قبول ٹہری۔ پہلے تصویر حرام تھی پھر اخباروں کے پہلے صفحے پر تصویر چھپوانے کی دوڑیں لگ گئیں۔ پہلے کیمرہ حرام تھا بعد میں ٹاک ٹائم اور پرائم ٹائم کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ پہلے یو ٹیوب حرام تھی پھر زیادہ لائیک اور شیئر کی دوڑ میں دشنام طرازی اور فرقہ واریت سے بھرپور بیانات کی ترویج عام ہو گئی۔ غرض ایسی کئی مثالیں ہیں جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں؟ مگر میرا ایک معصومانہ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام جیسا آفاقی مذہب، جو تمام عالم کے لیے ہے، ایک خطے کی تہذیب کو برداشت کرنے یا بنیادی اسلامی شعائد سے متصادم کیے بغیر اپنے اندر سمونے کی صلاحیت سے قاصر ہے۔

جب بھی آرٹ کے آگے، دلیل کے بجائے فتووں سے راستہ روکا جائے گا کوئی نیا منٹو سامنے آئے گا۔ کوئی عصمت چغتائی کی طرح آپ کے ننگے سچ آپ کے آگے کھول کر رکھ دے گا، کوئی فیض، کوئی فراز یا کوئی جالب زندان میں بیٹھ کر بھی آپ کے دماغ کی چولیں ہلاتا رہے گا۔ جب تک ممبر پر اور مکتب سے نفرت اور فرقہ واریت سکھانے کی بجائے، معاملات، عبادات اور اخلاقیات کا درس نہیں دیا جائے گا اس خلاء کو مغربی ایجنڈا پر چلنے والی تنظیمیں پْر کرتی چلی جائیں گی۔ اور کوئی نہ کوئی الحاد کے راستے چلتا چلا جائے گا اور زمہ دار کہیں نہ کہیں ہم سب ہوں گے۔

اس لیے ہر جرم، بے قاعدگی، بداخلاقی، کو معاشرے کے کھاتے میں ڈالنے کے بجائے، اعتدال، اپنی روایات سے محبت اور اپنی جڑوں سے پیار ہی اس بوڑھے برگد کے پیڑ جیسی شفیق ثقافت کو مزید توانا کرے گا اور تنوع اور ارتقاء کی راہ میں روڑے اٹکانے کی بجائے اپنے مذہب اور ثقافت میں دیے گئے اچھے حقوق اورضابطے اجاگر کر کے لوگوں کے ابہام کو پیار سے رفع کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا کے اس دور میں حکمت اور بصیرت سے اپنا موقف دنیا کے آگے پیش کرنے اور پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بقول شاعر، دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا ہے۔۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment