Home » کہیں دور جب دن ڈھل جائے (2)

کہیں دور جب دن ڈھل جائے (2)

by ONENEWS

کہیں دور جب دن ڈھل جائے (2)

یہ سن کر تو مجھے 100فیصد یقین ہو گیا کہ وہ اپنے تقاضے کے لئے کسی گوشہ ء خلوت کی تلاش میں ہے اور نہیں چاہتا کہ اپنی طلب کا اظہار علی الاعلان اس بیرک میں کرے۔ شاید پاس سے گزرتا کوئی کولیگ سن لے تو کیا ہو۔ میں چپکے سے اٹھا اور اس کے ساتھ کمرے سے باہر آ گیا۔ میرے ذہن میں یہ خیال رہ رہ کر کسمسانے لگا کہ اب یہ نیشنل کی جاپانی استری مانگے گا جو پاکستانی بازاروں میں دستیاب نہیں اور ہو بھی تو بہت مہنگی ہوتی ہے۔جو آرمی آفیسرز اس زمانے میں پشاور اور کوئٹہ میں پوسٹ تھے وہ جانتے ہوں گے کہ میں کس آئٹم کی بات کررہا ہوں۔ ایک تو عام نیشنل پیناسانک کی چھوٹی استری (Iron) ہوتی ہے اور ایک بڑے سائز کی ہوتی ہے جو پشاور اور کوئٹہ کے باڑوں میں بعد از تلاشِ بسیار ملتی تھی۔

میں انہی خیالوں میں کھویا ہوا اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ سامنے کنٹین تھی۔ ہم دونوں وہاں جا کر بیٹھ گئے اس نے چائے اور سموسے کا آرڈر دیا۔ ہم چائے کا آخری گھونٹ جب حلق سے اتار رہے تھے تو مجھے ایک خیال سوجھا کہ کیوں نہ اس ڈرامے کو مختصر کرنا چاہیے…… کیوں نہ میں کنٹین کا بل ادا کروں اور ”سستا چھوٹ جاؤں“۔

لیکن جب وقت آیا تو میں نے بل کی ادائیگی کی کوششیں کی لیکن وہ مجھ سے تیز نکلا۔ اس کی پتلون میں کوئی بیک پاکٹ نہیں تھی اور نہ ہی کوئی پرس اس کے پاس تھا۔ اس نے قمیص کی جیب سے دس دس اور پانچ پانچ روپے کے چند نوٹ نکالے اور بولا: ”آپ مہمان ہیں۔ اس لئے میرا فرض ہے کہ بل میں ادا کروں“۔ میں یہ سن کر چپکا ہو رہا۔ دل میں یہ سوال ابھرا کہ بھلا وہ کمبل کی جگہ چائے کے تھوڑے سے بل کا سودا کیوں کرے گا؟ لہٰذا اب میں ڈرامے کے ڈراپ سین کا انتظار کرنے لگا۔

ہم کینٹین سے باہر نکل آئے۔  بوندا باندی شروع ہو چکی تھی اور ہم ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ میں چونکہ اگلی بات سننے کا بے تابی سے منتظر تھا اس لئے تھوڑا نروس بھی ہو رہا تھا کہ دیکھوں اس کی ’فائنل‘ ڈیمانڈ کیا ہے۔ اچانک اس نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور کہا: ”بارش تیز ہو رہی ہے۔ آپ پلیز کار میں جا کر بیٹھیں …… اللہ حافظ!“…… یہ کہہ کر اس نے منہ پھیرا اور اپنے کمرے / بیرک کی طرف چل دیا…… اُف خدایا!…… میں کتنا غلط تھا…… میری سوچ کتنی پست تھی اور یہ نحیف و نزار ٹھگنے قد کا شخص کتنا بلند قامت تھا……!! مجھے استاد ابراہیم ذوق کا یہ شعر یاد آیا:

آدمیت سے ہے بالا آدمی کا مرتبہ

پست ہمت یہ نہ ہووے،پست قامت ہو تو ہو

میں وہاں ساکت و جامد کھڑا تھا اور وہ چلا جا رہا تھااور اس کا ہیولا بتدریج کم ہو رہا تھا۔ لیکن میرے خیالوں کے آنگن میں اس کا سراپا سروقدبن رہا تھا۔ اِدھر میں تھا کہ میرا قامت اس کے ہر اٹھتے قدم کے ساتھ چھوٹا ہو رہا تھا اور اُدھر وہ کتنا عظیم تھا اور کتنا رفیع الدرجات……میرے خیالات کتنے کم وقعت اور بے وزن!…… ایک جانب وہ تھا جس نے بغیر کسی لالچ اور طمع کے نہ صرف میری مدد کی، اپنا قیمتی وقت میرے کیس کوDig up کرنے اور مکمل کرنے پر صرف کیا بلکہ چائے سے مہمانداری بھی کی…… دوسری جانب میں کھڑا تھا…… آرمی کا ایک لیفٹیننٹ کرنل جس کو اس نے کلین بولڈ کر دیا تھا!

میں نجانے کتنی دیر تک وہاں کھڑا رہا۔ بارش زور پکڑنے لگی۔ میں بھیگتا رہا۔ میں شاید اپنے آپ کو سزادینا چاہتا تھا، اپنے خیالوں کی پستی کی۔ پھر کچھ دیر بعد میں نے کار کا رخ کیا۔ ان ایام میں میری کار میں کوئی ہیٹر نہ تھا۔ اور اگر ہوتا بھی تو میں اسے ’آن‘نہ کرتا۔ میرے تاسف کی حدّت اتنی زیادہ تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی ہیٹر کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔

وقت گزرتا گیا۔ میرے رینک اور حیثیت میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور جب میں ایک ایسے منصب پر جا پہنچا جہاں میرے پاس اتھارٹی تھی، تحکم تھا اور قوتِ فیصلہ کے ساتھ قوتِ نافذہ بھی تھی تو مجھے کسی اور عظیم اور معروف شخصیت کی نصیحت یا اس کے اقوالِ زریں کی ضرورت نہ تھی۔میں نے وتیرہ بنا لیا کہ: ”نہ صرف کسی حاجت مند کا کام کرنا ہے بلکہ اس کو چائے بھی پلانی ہے“۔ لیکن فرق یہ تھا کہ میں جب کسی کو چائے آفر کیا کرتا تھا تو میرا رینک بریگیڈیئر یا جنرل کا تھا، میری جیب بھاری تھی۔ لیکن اس عظیم انسان کے دس دس روپے کے چند کرنسی نوٹ تو میری جیب سے کہیں بھاری تھے…… کوئی مقابلہ نہ تھا میرے اور اس کے افعال و کردار کے مابین……

آج اس واقعہ کو 31برس بیت چکے ہیں۔میں اپنے گھر کے کشادہ لاؤنج میں بیٹھا اس واقعہ کو یاد کرتا ہوں تو باہر افق کے پار نگاہیں گڑ جاتی ہیں اور میں تادیر اپنے آپ سے گویا کٹ جاتا ہوں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک ایسے شخص کا ہیولیٰ افق کے پار جاتا نظر آتا ہے جس کا میں نام بھی نہیں جانتا۔ نہ ہی اس کی شکل یاد ہے۔یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ اب کہاں ہوگا لیکن اس کی خوشحالی کے لئے دعاگو رہتا ہوں اور خداوند کریم سے اس کی بلند اقبالی کی دعائیں مانگتا ہوں!

مجھے موسیقی سے بھی کچھ شغف ہے اس لئے جب بھی کوئی آرٹیکل سپردِ قلم کرتا ہوں تو اس کا خاتمہ کسی حسبِ حال گیت پر کیا کرتا ہوں۔ چنانچہ میں درج ذیل گیت 1989ء کے اس واقعے کی یاد کے نام معنون کرتا ہوں جس کا سراپا دور افق پر مجھے ہانٹ(Haunt)کرتا نظر آتا ہے۔

…………………………

قارئین گرامی! یہاں جنرل قاضی صاحب کی تحریر ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے آخر میں جنرل صاحب نے اپنے آرٹیکل کے ساتھ دو ویڈیوز بھی واٹس آپ پر بھیجیں جن میں سے ایک میں غروبِ آفتاب کا منظر ہے…… دور افق پر آفتاب کا ٹمٹماتا قرص ڈوبنے کے قریب ہے۔ یہ بڑا اداس منظر ہے اور دوسری وڈیو میں وہ گیت ہے جو مکیش کی آواز میں ایک پرانی انڈین فلم کا ہے جس کے بول یہ ہیں:

کہیں دور جب دن ڈھل جائے

سانجھ کی دلہن بدن چرائے

چپکے سے آئے

میرے خیالوں کے آنگن میں

کوئی سپنوں کے دیپ جلائے

……………………

کبھی یونہی جب ہوئیں بوجھل سانسیں

بھر آئیں بیٹھے بیٹھے جب یونہی آنکھیں

کبھی مچل کے…… پیار سے چل کے

چھوئے کوئی مجھ کو  پر نظر نہ آئے

کہیں تو یہ دل کبھی مل نہیں پاتے

کہیں سے نکل آئیں جنموں کے ناتے

دل جانے میرے سارے بھید یہ گہرے

ہو گئے کیسے میرے سپنے سنہرے

یہ میرے سپنے، یہی تو ہیں اپنے

مجھ سے جدا نہ ہوں گے، ان کے یہ سائے

کہیں دور جب دن ڈھل جائے

……………………

مجھے بھی صوت و صدا کا کچھ شعور ہے۔ اور مکیش کے بہت کم گانے مجھے پسند ہیں لیکن جو پسند ہیں وہ بہت ہی پسند ہیں۔ ان میں سے ایک یہ گیت بھی ہے۔ اب فلم کا نام یاد نہیں لیکن موسیقار کا نام سلیل چودھری ہے جو پرانی انڈین فلموں کے گولڈن دور کا ایک جاناپہچانا میوزک ڈائریکٹر تھا۔ گیت نگار کا نام شاید یوگیش تھا اور یہ گانا راجیش کھنہ پر پکچرائز کیا گیا تھا۔ میں نے جنرل صاحب کی طرف سے بھیجے گئے یہ دونوں کلپ دیکھے اور سنے اور اپنی زندگی کے وہ ایام یاد آئے جو اب لینڈ مارک بن چکے ہیں۔ سلیل ایک بنگالی فنکار تھا اور اس کے گیتوں میں ”بنگال کا جادو“ سر چڑھ کر بولتا سنائی دیتا ہے۔

پھر ایک عجیب و غریب اور دلدوز سانحہ رونما ہوا…… اگلے روز 30دسمبر (2020ء) تھا اچانک اطلاع ملی کہ جنرل صاحب کا جواں سال بیٹا لیفٹیننٹ کرنل جنید قاضی وفات پا گیا ہے۔ یہ خبر اتنی ناگہانی اور روح فرسا تھی کہ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ جب کئی دوستوں کی طرف سے یہ لرزہ خیز خبر کنفرم ہوئی تو میں سکتے میں آ گیا!…… اور جنرل صاحب سے ایک ہفتے تک تعزیت کرنے کا یارا نہ ہو سکا…… جس شام انہوں نے یہ وڈیو مجھے ارسال کی میں نے محسوس کیا کہ اس کے بول، اس کی دھن اور آواز کا مجموعی تاثر اب تک مجھے بھی ہانٹ کر رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ والدین کا دل اگر آنے والے سانحات کا کوئی پیش خیمہ ہوتا ہے تو شاید یہ تحریر اور یہ وڈیو بھی جنرل صاحب کے دل کے اس کونے سے آواز دے رہی تھی جس کو ہم فانی لوگ بالکل نہیں سمجھ پاتے…… اللہ کریم کرنل جنید قاضی مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور پسماندگان کو برداشت کا حوصلہ عطا فرمائے۔(آمین!)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment