Home » کہیں دور جب دن ڈھل جائے  (1)

کہیں دور جب دن ڈھل جائے  (1)

by ONENEWS

کہیں دور جب دن ڈھل جائے  (1)

لیفٹیننٹ جنرل (ر) طاہر محمود قاضی میرے دوستوں اور کرم فرماؤں میں سے ہیں۔ ان کا سروس پروفائل بہت شاندار اور ’شاداب‘ ہے جس کا تذکرہ بعد میں کروں گا…… باتوں باتوں میں چند روز پہلے میں نے ان سے درخواست کی کہ اگر وہ اپنی پروفیشنل زندگی کے ان قابل ذکر واقعات کو مختصر الفاظ میں ڈھال کر لکھ دیا کریں جو ان کی نظر میں عسکری یا غیر عسکری قارئین کی معلومات افزائی اور دلچسپی کا باعث ہوں تو شاید اس سے بہتوں کا بھلا ہو جائے۔ (لفظ شاید پُر زور ہے)…… انہوں نے کچھ تامل کیا اور کہا کہ اگر میں انگریزی میں لکھ دوں تو کیسا رہے گا۔ میں نے گزارش کی کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں، میں ترجمہ کر دیا کروں گا۔

وہ اسلام آباد میں ہوتے ہیں۔ ان کا پہلا آرٹیکل 29دسمبر 2020ء کو موصول ہوا جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے اس امید کے ساتھ کہ اس میں بیان کئے گئے واقعہ کی سبق آموزی بعض احباب کے لئے شاید باعثِ تقلید ہو!…… وہ لکھتے ہیں:

……………………

ایک چینی فلاسفر کا قول ہے: ”اگر کسی جاب پر آپ ایک مختصر وقت کے لئے بھی برسرِ کار ہوں اور آپ کا وقت کسی اچھے کام پر صرف ہو تو وہ ’کارِ خیر‘ دوام پا جاتا ہے۔“

آج کل جزوی لاک ڈاؤن کا دور ہے جس نے مجھے ایک ’مختصر فرصت‘ فراہم کر دی ہے تاکہ میں گزشتہ زندگی پر کچھ تدبر کروں …… ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ”پروین شاکر ٹرسٹ“ کے کرتا دھرتاؤں نے ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس کا موضوع تھا: ”کہانیاں جو چھپ نہ سکیں“……

ہم میں سے ہر کسی کو کوئی نہ کوئی کہانی یا تجربہ ایسا ضرور حاصل ہوتا ہے جو سبق آموز ہوتا ہے لیکن آپ کو اسے ضبطِ تحریر میں لانے کا موقعہ نہیں ملتا۔ تاہم آپ اسے جب بھی چاہیں اپنے لفظوں میں دہرا تو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں بعض مقررین نے اپنی اپنی کہانیاں اور تجربات سنائے۔ میں نے بھی اس پروگرام میں حصہ لیا اور اپنی ایک کہانی / تجربہ سامعین کو سنایا۔ یہ کہانی یا تجربہ زندگی بھر میرے ساتھ رہا اور میں آج اپنے قارئین کو اس سے متعارف کروانا چاہتا ہوں …… کہانی کی شروعات اس طرح ہوتی ہیں کہ اپنی فوجی ملازمت کے دوران میری ملاقات ایک فرشتہ سیرت انسان سے ہوئی جس کے رویئے نے میری زندگی پر ایک انمٹ نقش چھوڑا اور زندگی کے بارے میں میرے زاویہء نگاہ میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کر دی۔

یہ 1989ء کا ذکر ہے۔ میں اس وقت لیفٹیننٹ کرنل تھا اور کوئٹہ میں ایک ائر ڈیفنس رجمنٹ کی کمان کر رہا تھا۔ ان ایام میں پاک فوج اکاؤنٹنگ کے ’وار سسٹم‘ پر فنکشن کر رہی تھی۔ آرمی آفیسرز کی تنخواہ کا حساب کتاب کنٹرولر آف ملٹری اکاؤنٹس (CMA”o”)کے دفتر میں رکھا جاتا تھا جو راولپنڈی میں تھا۔افسروں کو ہر ماہ انفرادی طور پر ایک چیک سلپ ایشو کر دی جاتی تھی اور رقم ان کے مقرر کردہ بینکوں میں بھیج دی جاتی تھی۔ سولجرز کے لئے بھی یہی سسٹم رائج تھا لیکن فرق یہ تھا کہ ان کی تنخواہ ان کی رجمنٹ/ بٹالین میں بھیج دی جاتی تھی جہاں سے وہ ہر ماہ کی یکم کو یہ تنخواہ وصول کر لیا کرتے تھے۔ حسابداری کا یہ سسٹم 1965ء کی جنگ کے دوران شروع کیا گیا تھا جو جنرل آصف نواز کے دور تک باقی رہا۔ بعدازاں زمانہ ء امن کا اکاؤنٹنگ سسٹم شروع ہوا اور آل بنکس کی تنخواہ رجمنٹوں میں کیلکولیٹ ہونے لگی۔

جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہمیں ہر ماہ CMA(o)کی طرف سے ایک پے سلپ مل جاتی تھی جس پر درج ہوتا تھا کہ اتنے پیسے فلاں بینک میں بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ اگست 1989ء کا ذکر ہے مجھے جو پے سلپ موصول ہوئی اس میں بجلی کے بل اور ٹی اے / ڈی اے (سفر خرچ اور یومیہ الاؤنس) کی مد میں ایک خطیر کٹوتی کرکے صرف 481روپے میں بینک میں بھیجے گئے تھے۔ میں یہ پے سلپ دیکھ کر خاصا پریشان ہوا اور ایک دوست کو جو راولپنڈی میں تھا ٹیلی فون کیا کہ ذرا CMA(o)میں جاؤ اور پتہ کرو کہ مجھ سے یہ ’سلوک‘ کیسے کیا گیا ہے۔ وہ دوست وہاں گیا اور مجھے بتایا کہ کہیں گڑبڑ ہوئی ہے اور آئندہ ماہ اس کی تلافی (ایڈجسٹ منٹ) کر دی جائے گی۔ چنانچہ ستمبر کی پے سلپ میں یہ ’تلافی‘ کر دی گئی۔

اکتوبر 1989ء میں ایکسرسائز ”ضربِ مومن“کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ یہ آرمی سائز کی دوطرفہ جنگی مشق تھی جس کے لئے مجھے سرگودھا میں ایک رجمنٹ کے ساتھ اٹیچ کر دیا گیا۔ وہاں نومبر1989ء میں مجھے جو پے سلپ موصول ہوئی اس میں بھی زیادہ کٹوتی کی گئی۔ میں موقع کا منتظر رہا کہ کسی دن راولپنڈی جاؤں گا اور CMA(o) میں جا کر معلوم کروں گا کہ آخر معاملہ کیا ہے اور میرے ساتھ یہ ’سلوک‘ کیوں کیا جا رہا ہے۔ ایکسرسائز ضربِ مومن دسمبر 1989ء میں شروع ہوئی اور اسی ماہ کے اواخر میں ختم ہو گئی۔ ایکسرسائز کے خاتمے پر ہمیں 10دن کی رخصت ملی۔ میں اسلام آباد آیا اور اپنی فیملی کے ساتھ یہ رخصت گزاری۔ اسی دوران سوچا کہ CMA(o) جایا جائے۔

چنانچہ جنوری 1990ء کی ایک سرد ٹھٹھرتی صبح، راولپنڈی پہنچا۔ اس روز مطلع ابر آلود تھا اور بارش کی پیشگوئی بھی کر دی گئی تھی۔ میں CMA(o) پہنچا، گاڑی پارک کی اور استقبالیے(Reception) میں چلا گیا۔ اپنا مختصر تعارف کروایا اور آمد کی وجہ بھی بتائی۔ استقبالیہ کے کلرک نے ایک بیرک کی طرف اشارہ کیا جو وہاں سے تقریباً 200گز دور تھی۔ میں بیرک میں داخل ہوا تو دیکھا کہ کوئی زیادہ عملہ موجود نہیں۔ گیس کا ایک ہیٹر بیرک کے وسط میں جل رہا تھا اور 5،6 لوگ اس کے گرد ایک نیم دائرے کی شکل میں بیٹھے کسی موضوع پر گرما گرم بحث کر رہے تھے۔ میں نے ان کو اپنا مدعا بیان کیا تو ایک صاحب نے میرا آرمی نمبر (PA Number) پوچھا۔ میرے بتانے پر اس نے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا جو اس بیرک کے آخری سرے پر بیٹھا تھا۔ میں اس کے پاس چلا گیا اور دیکھا کہ ایک درمیانے قد کا نحیف سا آدمی موٹے شیشوں کی عینک لگائے فائلوں کے انبار میں دنیا و مافہیا سے بے خبر مصروفِ کار ہے۔ میں نے اس سلام کیا اور حاضری کی وجہ بیان کی۔ اس نے بھی میرا PA نمبر پوچھا اور سن کر بتایا کہ دراصل معاملہ یہ ہے کہ جو آدمی آپ کے گروپ کو ڈیل کرتا تھا وہ 5ماہ سے فرار ہو کر دبئی چلا گیا ہے اور اس کی جگہ تاحال کوئی نئی پوسٹنگ نہیں ہوئی اس لئے مسائل کا سامنا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ کیا میں کوئٹہ سے یہاں صرف اپنی تنخواہ کی کٹوتی کا سبب معلوم کرنے آیا ہوں؟ میں نے چہرے پر معصومانہ لجاجت بکھیرتے ہوئے ’ہاں‘ کر دی۔ اس نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”آپ تشریف رکھیں۔ میں کچھ کرتا ہوں“۔

میں اپنے ٹی اے/ ڈی اے بلوں کی نقول بھی ساتھ لایا تھا۔ اس نے مجھ سے وہ کاغذات لے لئے اور چند گز دور پڑی ایک الماری کھول کر وہاں سے کچھ کاغذات نکالے۔جب وہ یہ کاغذات ’پھرول‘ رہا تھا تو میری سوچ کسی اور طرف نکل گئی۔ میں نے دل ہی دل میں اپنے آپ سے سوال کیا کہ آخر یہ شریف آدمی میرے لئے اتنا تکلف کر رہا ہے تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہوگی۔مجھے پہلا خیال یہ آیا کہ میں چونکہ کوئٹہ سے آیا ہوں تو یہ شائد مجھ سے ایرانی کولر کی فرمائش کرے۔ ان ایام میں ہمارے دوست کوئٹہ سے آنے والوں سے جو فرمائشیں کیا کرتے تھے ان میں یہ ’کولر‘ کی آئٹم بھی تھی۔ میں سوچنے لگا کہ اگر اس نے واقعی کولر مانگا تو یہ کوئی ایسی فرمائش نہیں ہو گی جس کو پورا کرنا میری رسائی میں نہ ہو۔

دریں اثناء وہ دوبارہ میرے پاس آیا اور چند دوسرے متعلقہ کاغذات بھی طلب کئے جو میں نے اسے تھما دیئے۔ لیکن جب وہ دوبارہ اسی الماری کی طرف گیا تو خیال کی ایک اور لہر بھی میرے دماغ میں گردش کرنے لگی۔ ان دنوں کوئٹہ کے باڑہ بازاروں میں ملنے والے ایرانی ڈبل کمبلوں کی بہت مانگ تھی۔ تاہم میں نے دل کو تسلی دی کہ خیر ہے اگر اس نے کمبل کا تقاضا کیا تو وہ بھی میری جیب کی پہنچ سے زیادہ دور نہیں ہو گا۔ آخر وہ بار بار آ جا رہا تھا اور الماری میں رکھی فائلوں کو الٹ پلٹ رہا تھا۔ اس تگ و دو کا کچھ صلہ تو اس کو دینا بنتا تھا ناں …… میں انہی خیالات میں کھویا وہاں بیٹھا رہا اور وہ نجانے مجھے چھوڑ کر کہاں کہاں پھرتا رہا۔ کوئی 20،25منٹ بعد واپس آیا تو چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔کہنے لگا: ”میں نے آپ کا کیس مکمل کرکے سارے مطلوبہ کاغذات بِل سیکشن والوں کو دے دیئے ہیں۔ آپ کو جلد ہی سارا بقایا مل جائے گا، فکر نہ کریں“۔

میرے لئے یہ لمحہ بڑا ہی مضطرب کرنے والا تھا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ ضرور کسی نہ کسی سمگل شدہ آئٹم کا تقاضا کرے گا۔ اگلے ہی لمحے میں اور بھی حیران ہوا کہ اس نے اپنا دایاں بازو باہر نکالتے ہوئے مجھے باہر چلنے کو کہا اور یہ جملہ دہرایا: ”آج کا دن بہت سرد ہے اور آپ ویسے بھی کوئٹہ سے سیدھے یہاں آ رہے ہیں۔ یہ تو ڈبل سردی کا معاملہ ہے۔ آیئے ایک کپ چائے پیتے ہیں“۔(جاری ہے)

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment