Home » کہیں ایسا نہ ہو جائے۔ کہیں ویسا نہ ہو جائے

کہیں ایسا نہ ہو جائے۔ کہیں ویسا نہ ہو جائے

by ONENEWS


کہیں ایسا نہ ہو جائے۔ کہیں ویسا نہ ہو جائے

میچ بھلے سیاسی ہو یا عدالتی، ذاتی ہو یا گروہی، مقامی ہو یا قومی موج مٹھائی والوں کی ہوتی ہے۔ ان مقابلوں میں کسی نہ کسی کا پلہ بھاری رہتا ہے اور جو بھی نتیجے کو اپنی کامیابی سمجھتا ہو وہ اس کا اظہار مٹھائی کھلا کر کرتا ہے۔ ہمارے ہاں بہانے، بہانے سے مٹھائیوں کے دور چلتے رہتے ہیں۔ مٹھائی سے یاد آیا کہ جب 1990ء کی دہائی میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی لڑائی عروج پر تھی تو 12 اکتوبر 1999ء کو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے دو تہائی اکثریت والے وزیر اعظم نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تو پیپلزپارٹی نے سکھ کا سانس لیا۔ سیاسی مخالف سے جان چھوٹنے کی خوشی میں 13 اکتوبر کو ملک بھر میں پیپلزپارٹی کے عہدیداروں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔ ملتان سے سابق ایم پی اے اور پیپلزپارٹی کے تا حیات سٹی صدر خورشید احمد خان مرحوم مٹھائی کا ٹوکرا لئے ہمارے پاس (دفتر نوائے وقت) پہنچ گئے۔ ایک ایک صحافی کا منہ میٹھا کرانے لگے۔ اس وقت میں نے عرض کی تھی کہ خان صاحب مٹھائی پر زیادہ خرچہ نہ کریں دونوں بہن بھائی (بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف) ایک ہی ٹرک پر چڑھے احتجاج کرتے نظر آئیں گے۔ ہوا بھی یہی کہ دونوں نے فوجی آمر کے خلاف تحریکیں چلائیں اور جمہوریت کی بحالی کا مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔ شروع میں جس خوش فہمی نے پیپلزپارٹی سے مٹھائیاں تقسیم کرائی تھیں وہ جلد ہی دم توڑ گئی۔ پھر بینظیر بھٹو کے المناک سانحہ قتل کے نتیجے میں جمہوریت مرحلہ وار بحال ہوئی۔ پیپلزپارٹی کی منتخب حکومت قائم ہوئی مگر بی بی نہیں تھیں۔ پی پی پی کے اقتدار کا سورج طلوع ہوا مگر گہنایا ہوا۔ آمر کمزور ہوتا ہوتا غروب ہو گیا۔ ایوان صدر میں بھی پیپلزپارٹی کا ترنگا پہنچ گیا۔ بی بی کے شوہر نامدار آصف علی زرداری نے صدر مملکت کا حلف اٹھایا۔ پیپلزپارٹی اقتدار پر قبضہ مکمل ہونے پر شاداں و فرحاں تھی مگر بینظیر بھٹو کی شہادت کا غم بھی ابھی تازہ تھا اس لئے کھل کر جشن نہ منایا گیا۔

البتہ با اعتماد لوگوں میں مٹھائیاں بٹیں۔ 2013ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی پٹ گئی۔ نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) نے ایک بار پھر دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔ اس موقع پر اگر لیگیوں نے مٹھائی بانٹی تو ان کا حق بنتا تھا۔ نصف شب کے قریب پتہ چل گیا تھا کہ انتخابی نتائج کیا ہیں؟ چنانچہ صبح ہوتے ہوتے متوالوں نے مٹھائی کی دکانیں خالی کر دی تھیں۔ میاں نوازشریف تیسری بار وزیر اعظم کے منصب پر بیٹھے اور کراچی کے ممنون حسین ایوانِ صدر میں برا جمان ہو گئے۔ یوں مسلم لیگ (ن) کا اقتدار مکمل ہو گیا۔ مگر یہ اقتدار چین سے چل نہ سکا سانحہ ماڈل ٹاؤن اور اسلام آباد کے دھرنوں نے رنگ میں بھنگ ڈالے رکھا۔ جس طرح عدالتی کارروائی کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے منتخب وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے الزام میں بے تخت کر دیا گیا۔ ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف کو باقی وقت کے لئے وزیر اعظم منتخب کرنا پڑا۔

تو نے دیکھا ہی نہیں جیت کے ہارا ہوا شخص

بخت کے تخت سے یکلخت اُتارا ہوا شخص

اس کامیاب تجربے کا ایکشن ری پلے مسلم لیگ (ن) کے وزیر اعظم میاں نوازشریف کو بھی دیکھنا پڑا۔ ان کے گرد عدالتی کارروائیوں کا گھیرا تنگ ہونا شروع ہو گیا۔ لگتا تھا کہ حکومت آج ختم ہوئی کہ کل۔ لیگی کارکن سخت پریشان تھے۔ سپریم کورٹ میں اثاثے، آمدنی، ذرائع، منی ٹریل کے گرد گھومتے دلائل کے انبار تھے۔ ایک مرحلے پر لگتا تھا کہ سپریم کورٹ خود ایک آدھ دن میں فارغ خطی کا فیصلہ سنا دے گی مگر تمام معاملات کی چھان بین کے لئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنا دی گئی۔ اس کا دائرہ کار (تقریباً لا محدود) طے کیا گیا۔ پہلی مرتبہ فوج کے نمائندے کسی تحقیقاتی ٹیم میں ڈالے گئے۔ اس ٹیم کی کارکردگی کی نگرانی کے لئے حاضر سروس جج تعینات کئے گئے۔ ہر ہفتے رپورٹ جمع کرانے کے لئے پابند کیا گیا۔ وطن عزیز میں یہ چلن عام ہے کہ جب کسی معاملے کو دبانا ہو تو اس کے لئے کمیٹی بنا دی جاتی ہے۔ لیگی کارکنوں نے بھی یہی سمجھا اور مٹھائیاں بانٹ دیں۔ ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) ملتان بلال بٹ ایڈووکیٹ سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ ”مقدمہ گیا کھوہ کھاتے“۔۔ مگر چشم فلک نے دیکھا کہ مقدمہ شریف خاندان کے ”گاٹے فٹ“ ہو گیا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد سماعت شروع ہوئی تو اقامہ ڈکلیئر نہ کرنے پر اقتدار ختم۔ تا حیات نا اہلی اور پھر سات سال قید کا سامنا کرنا پڑا۔ شاہد خاقان عباسی کو باقی وقت کے لئے وزیر اعظم بنانا پڑا۔ جے آئی ٹی بننے پر جو مٹھائیاں تقسیم کی گئیں جو مبارک سلامت ہوئی وہ سب عارضی تھی۔ مٹھائی کے پیسے بھی ضائع گئے۔

اتنے عرصے کے بعد یہ مٹھائیاں ہمیں اس لئے یاد آئیں کہ جمعہ کے روز سپریم کورٹ فل بینچ (قاضی فائز عیسیٰ کیس میں) کے فیصلے پر فاضل جج صاحب کے دوستوں اور وکلاء رہنماؤں کے مٹھائیاں کھانے اور تقسیم کرنے کے مناظر اخبارات اور ٹی وی کی زینت بنے۔ وکلاء نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کیس جیت گئے ہیں۔ شام کو سرکاری وکیل فروغ نسیم اور ریفرنس کے حق میں متحرک مشیر بیرسٹر شہزاد اکبر نے فاضل جج فائز عیسیٰ کے حامی وکلاء رہنماؤں کے تاثر کو زائل کرنے کے لئے کہا کہ یہ کسی کی جیت ہوئی ہے نہ کسی کی ہار البتہ ہماری یہ بات مان لی گئی ہے کہ بیگم فائز عیسیٰ اور بچوں کو لندن والی جائیدادوں کا معاملہ جائزے کے لئے ایف بی آر کو بھیجا جائے۔ اب ایف بی آر ان کے معاملات کی چھان بین کر کے اپنی سفارشات سپریم جوڈیشل کونسل میں پیش کرے گا۔ تب معاملہ کھل کر سامنے آئے گا۔ حکومتی حامیوں نے وکلاء کی جانب سے مٹھائی تقسیم کرنے کو قبل از وقت قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ابھی سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا۔

جب تفصیلی فیصلہ آئے گا تب دیکھیں گے کہ آگے کیا کرنا ہے؟ ادھر بار کونسل نے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دینے کا اعلان کیا ہے۔ فیصلے کے اس حصے پر کہ جس میں بیگم فائز عیسیٰ کا معاملہ ایف بی آر کو دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمارے عدالتی نظام میں اتنے بڑے فل بینچ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں کی کامیابی کی نظیریں نہیں ملتیں اور پھر اس میں خاصا وقت لگتا ہے اس دوران ایف بی آر اپنا کام کافی حد تک کر چکا ہوگا۔ بعض لوگوں کے خیال میں نوازشریف کیس کی جے آئی ٹی اور قاضی فائز عیسیٰ کیس میں ایف بی آر کے حوالے کرنے کے معاملات ملتے جلتے ہیں۔ البتہ اس میں ایک کام قاضی فائز عیسیٰ کے حق میں دو ٹوک ہو گیا ہے کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس نہ صرف کالعدم ہو گیا ہے بلکہ اس ریفرنس کی روشنی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے قاضی صاحب کو جو نوٹس جاری کیا تھا اسے بلا جواز قرار دے کر ختم کر دیا ہے۔ اب اگر کچھ ہونا ہے تو بیگم صاحبہ کے معاملے میں ایف بی آر کی رپورٹ سے ہی کچھ ہونا ہے۔ اور یہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک پرانا ملی نغمہ یاد آ گیا۔

جب پیار میں دو دل ملتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں، ان کا بھی کہیں، مجھ جیسا ہی انجام نہ ہو، ان کا بھی جنوں ناکام نہ ہو۔

یہ دعا کی جا سکتی ہے کہ ایف بی آر میں جو بھی ہو اچھا ہو۔ ویسے جملہ معترضہ یہ ہے کہ ”اگر صدارتی ریفرنس کے پیچھے فیض آباد دھرنے کے فیصلے میں جسٹس فائز عیسیٰ کے ریمارکس کا غصہ ہے تو پھر خیر نہیں۔ گھیر گھار کر، کہیں نہ کہیں سے، کسی نہ کسی طرح مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی روایت دہرائی جائے گی۔ خدا کرے کہ ایسا نہ ہو۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment