Home » کھوکھر پیلس کا انہدام قانونی اقدام یا سیاسی انتقام؟

کھوکھر پیلس کا انہدام قانونی اقدام یا سیاسی انتقام؟

by ONENEWS

کھوکھر پیلس کا انہدام، قانونی اقدام یا سیاسی انتقام؟

لاہور میں کھوکھر پیلس اور اس کے اردگرد موجود ناجائز عمارتوں کو گرانے کے لئے آپریشن ہوا تو پھر وہی سیاسی انتقام کی آوازیں اٹھیں۔ تاہم وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ایک تگڑے وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آئے۔ کھوکھر برادران کو مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کا اثاثہ قرار دیاجنہوں نے بقول ان کے اپنے اثاثے گنوانا منظور کئے مگر نوزشریف کا ساتھ نہیں چھوڑا معلوم نہیں ان کے اس دعوے میں کتنی سچائی ہے تاہم لاہور جیسے شہر کے انتہائی قیمتی علاقے میں ایل ڈی اے نے ایک بڑا آپریشن کر کے تقریباً سوا ارب روپے مالیت کی اراضی واگزار کرالی۔

مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عدالتی ریلیف کے باوجود یہ آپریشن کیا گیا، جس سے انتقام کی بو آ رہی ہے۔ جبکہ ایل ڈی اے حکام کاکہنا ہے کہ سب کچھ قانونی تقاضے پورے کر کے کیا گیا ہے ایک بار پہلے بھی اس آپریشن کی کوشش کی گئی تھی لیکن مزاحمت کی وجہ سے یہ کام نہیں ہو سکا تھا، اس بار صبح سویرے یہ آپریشن کیا گیا اور مزاحمت کے تمام دروازے پہلے سے بند کر دیئے گئے۔بہر حال اب تو یہ کام ہو چکا ہے جس کے نتائج کیا برآمد ہوتے ہیں آنے والا وقت بتائے گا۔ البتہ پنجاب حکومت کو اب یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ صرف مخالف جماعت کے لوگوں کو ہی نشانہ نہیں بنا رہی بلکہ اس کا ہدف وہ تمام لوگ ہیں جنہوں نے سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضے کر رکھے ہیں۔

پاکستان میں زمینوں پر قبضے زیادہ تر انہی لوگوں نے کر رکھے ہیں، جنہیں سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔ کل ہی وزیر اعظم عمران خان کو یہ رپورٹ پیش کی گئی ہے کہ سندھ میں وفاق کی تقریباً 493 ایکڑ اراضی پر نا جائز قبضے ہیں جنہیں چھڑوا کر قومی خزانے کو بھرا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے ایسی ہر کوشش پر سیاسی انتقام کا نعرہ ضرور بلند ہوتا ہے جس کے بعد یہ مہم ختم کر دی جاتی ہے۔ پنجاب میں تو تحریک انصاف کی حکومت ہے اور صوبے کا وزیر اعلیٰ بھی وزیر اعظم کا با اعتماد ساتھی ہے، لیکن سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور جن افراد نے وفاق کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا ہے انہیں وہاں کے با اثر سیاسی افراد کی سرپرستی حاصل ہو گی۔ جس کے باعث یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وفاقی حکومت کو وہ انتظامی تعاون ملے جو ناجائز قبضے چھڑانے کے لئے درکار ہوتا ہے۔

کراچی کے حالات ہی کو دیکھ لیں کہ سپریم کورٹ بھی کتنی بار یہ احکامات دے چکی ہے، کہ سرکاری زمینیں واگزار کراکے عوامی فلاحی منصوبوں کے لئے استعمال کی جائیں مگر سندھ حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی کیونکہ جس لینڈ مافیا نے کراچی کو بیچ کھایا ہے وہ تو مبینہ طور پر حکومتی صفوں میں موجود ہے۔ یہ ملک کے کسی ایک شہر یا ایک صوبے کا مسئلہ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں لینڈ مافیا نے ہر شہر میں پنجے گاڑ رکھے ہیں صرف سرکاری زمین پر ہی نہیں بے چارے غریب لوگوں کی زمینوں پر بھی قبضے کئے گئے ہیں اور انہیں اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے کئی شہروں میں ہاؤسنگ کالونیاں اسی طرح زبردستی ہتھیائی گئی زمینوں پر بنائی گئیں۔

پاکستان میں ابھی ایسی سیاست کا آغاز تو ہوا نہیں کہ سیاسی جماعتیں اپنی صفوں میں موجود قانون شکنوں اور قبضہ گروپوں کی سرپرستی کرنے والوں کو نکال باہر کریں۔ یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے گروپ سیاسی جماعتوں کی مالی فنڈنگ کرتے ہیں اور بدلے میں اسمبلی کی ایک دو نشستیں حاصل کر لیتے ہیں تحریک انصاف نے اگر قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا ہے تو اسے اس پہلو پر بھی گہری نظر رکھنی ہو گی کہ اس کی صفوں میں ایسے افراد موجود نہ ہوں جنہوں نے سیاسی آڑ لے کر قبضے کر رکھے ہوں۔ اپوزیشن بھی یہ الزام لگا رہی ہے کہ بنی گالا کی غیر قانونی تعمیرات کے حق میں فیصلہ آ جاتا ہے اور لاہور میں کھوکھر برادران کی تعمیرات کو گرا کر قانون کے امتیازی ہونے کی مثال قائم کی جاتی ہے۔ یہ سیاسی بیان ہے اور اس میں دو مختلف چیزوں کو یکساں قرار دیا گیا ہے، بنی گالا کی تعمیرات کسی سرکاری یا ناجائز قبضے والی جگہ پر نہیں کی گئیں بلکہ وہاں صرف نقشے کی منظوری کا معاملہ تھا جبکہ لاہور میں ایل ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ جس زمین پر کھوکھر پیلس اور دیگر تعمیرات کی گئیں وہ اس کی ملکیت ہے اور وہ عدالتوں میں اسے ثابت بھی کر چکی ہے۔ اس کا بہترین فورم تو عدلیہ ہی ہے جہاں کھوکھر برادران کو اپنا موقف پیش کر کے ایل ڈی اے کے آپریشن کو انتقامی ثابت کرنا چاہئے

اگر یہ شواہد سامنے آتے ہیں کہ لاہور سمیت صوبہ پنجاب میں سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضوں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں اور خاص طور پر تحریک انصاف کے ارکانِ اسمبلی یا عہدیدار ان قبضوں کی سرپرستی کر رہے ہیں تو کھوکھر پیلس کو گرانے کا واقعہ ایک بڑا سیاسی انتقام کی مثال بن جائے گا۔ ایک طرف پنجاب حکومت کو کھوکھر پیلس کی بابت ناجائز قبضے کے تمام شواہد سامنے لانے چاہئیں تو دوسری طرف ناجائز قبضہ گروپوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشن بھی جاری رکھنا چاہئے تاکہ یکطرفہ کارروائیوں کے الزامات سے بچ سکے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment