Home » کچھ ضرب الامثال اورمحاورات

کچھ ضرب الامثال اورمحاورات

by ONENEWS

کچھ ضرب الامثال اورمحاورات

قارئین کرام!محاورے صدیوں کے تجربات اور نسلوں کی محنت کے بعد معرض وجود میں آتے ہیں محاورے تہذیبوں کی اہمیت کے عکاس ہوتے ہیں جن سے معاشروں کے تمدن کوسمجھنے میں آسانی ہوتی ہے شاعروں نے بھی محاروں کا ستعمال کیا ہے ایسے ہی ضرب الامثال ہیں۔

ضرب الامثال معاشرے کی ثقافت اس کے مخصوص رہن سہن کی عکاس ہوتی ہیں جو دانش و حکمت سے آراستہ ہوں کسی معاشرے کے رویوں، دانش اور رتہذیب کے بارے میں ضرب الامثال سے معقول نتیجے اخذ کئے جا سکتے ہیں جیسے ندامت کے اظہار کے لئے ’آب آب ہونا‘اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمام جماعتوں کے قائدین کراچی کے مسائل پر اس قدر شرمندہ ہوئے ہوئے کہ ہرطرف پانی پانی ہوگیا بھئی ندامت کے آنسو بھی تو ہوتے ہیں وہ بھی شامل ہو گئے ہوں گے۔

پھر شیر بکری کا ایک گھاٹ پر پانی پینا۔شیرایسا جانور ہے جو بہادری کی علامت ہے شیر اپنے شکار کے پیچھے میلوں دوڑتا ہے راستے میں آنے والی مشکلات پتھر۔کانٹے کنکر کھائی کسی کا خوف نہیں کھاتا اور اپنے شکار کی چیر پھاڑ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا شیر بھوکا ہو تو اور بھی سفّاک ہوجاتا ہے بکری۔ہرن ایسے دوسرے جانور اس کا ہدف ہوتے ہیں اس لئے شیر بکری کا ایک گھاٹ پر پانی پینا بھی ممکن نہیں، کیونکہ وہ زمانے لَد گئے، جب کسی انصاف پسند بادشاہ کی ریاستی انتظامی صلاحیت اور خوبی ایسی ہوتی ہے کہ کوئی طاقتور ظالم کسی کمزور پر ظلم کا تصور نہ کر سکتا تھا تب کہا جاتا تھا کہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہیں، لیکن ایسا نہیں کہ حکومت اور اپوزیشن ایک ساتھ بیٹھیں یا ملکی مسائل حل کرنے کے لئے ایک ساتھ کوششیں کریں۔ہمارے سیاستدان اکثر انتخابی ایام میں اپنی تشہیری مہم میں لکھواتے ہیں کہ ’کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے‘ایک نعرہ ’آیا آیا  شیر آیا‘ بھی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تو باقاعدہ ایک ٹائیگر فورس بنا رکھی ہے

قارئین مکرم! شگوفہ چھوڑنا۔ اس میں دلچسپی کے کتنے ہی پہلو پھوٹتے ہیں شگوفہ چھوڑنا سے مراد ایسی دلچسپ بات کہنا ہے، جوماحول میں پھلجڑیاں چھوڑ دے یعنی محفل کو قہقہوں اور خوشیوں سے بھر دے شگوفے چھوڑنے میں ایک دلچسپ جھوٹ کا پہلو بھی موجود ہوتا ہے ہماری سیاسی تاریخ میں شگوفے چھوڑنے کو بھی ایک دلچسپ مشغلہ سمجھا گیا ہے آئے روز کسی نہ کسی کی جانب سے کوئی ایسا شگوفہ چھوڑ دیاجاتا ہے کہ جس سے ساری عوامی توجہ اسی کی جانب مبذول ہو کر رہ جاتی ہے۔’ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا‘یعنی جب کوئی شخص اپنی ناکامی کی وجہ کسی اور کو قرار دینا چاہتا ہو کسی شخص کو کوئی کام نہ آتا ہو تو کہا جاتا ہے کہ ’ناچ نہ آئے آنگن ٹیڑھا‘ قارئین کرام کی دلچسپی کے لئے اس سے جڑی کہانی بیان کرتاہوں۔کہتے ہیں اگلے زمانوں میں ایک نوجوان جسے کوئی کام کرنا نہ آتا اس کی شادی دور گاؤں میں ہوئی اس کے گھر کے مقابل لوہار کی دکان تھی جہاں وہ کبھی کبھاربیٹھ جاتااس نے سوچا یہ کام ایسا مشکل نہیں وہ چاہے تو یہ کام کر سکتا ہے اسی دوران اسے معلوم ہوا کہ اس کے سسرال والے ایک کلہاڑا بنانے کے خواہاں ہیں داماد کو جب سسرال والوں کے اس پروگرام کی خبر ہوئی تو فن کے میدان میں ایسے کود پڑا جیسے وہ اس میں مہارت تامہ رکھتا ہو لہٰذا اس نے کہہ دیا کہ وہ کلہاڑا خود بنائے گا ادھر سسرال والے بہت خوش ہوئے اور اترانے لگے کہ ہمیں ایک ہنرمند داماد ملا۔

آگ جلائی گئی لوہا گرم کیا گیا، لیکن داماد کی ہزار کوششوں کے باوصف کلہاڑا نہ بن سکا الٹا اس تگ و دو میں کافی سارا لوہا ضائع ہوا تو اس نے زچ ہوتے ہوئے کہا کہ دیکھئے صاحب اس وقت خاص تکنیکی خرابی کی وجہ سے کلہاڑا تو نہیں بن سکتا البتہ میں آپ کو ایک بڑا ٹوکہ بنائے دیتا ہوں۔ کلہاڑا بنانے کے فن کا مظاہرہ تو سسرال والے دیکھ چکے تھے سو ٹوکہ بنتے دیکھنے کا حوصلہ بھی کیا اور کلہاڑا پھر چھری سے چاقو تک لوہا ختم ہوگیا، لیکن کچھ بن نہ پایا داماد کو معلوم ہو چکا تھا کہ وہ کچھ کر نہیں سکتا تو مضمحل اعصاب کے ساتھ پسینہ پونچھتے تھکا ہارا کہنے لگا اس وقت کچھ اور تو بن نہیں سکتا تاہم آپ کے لوہے سے شُررررر بن سکتی ہے سسرالیے حیرانی سے یہ کیا ہے؟ داماد بولا ابھی سمجھائے دیتا ہوں داماد نے لوہا گرم کیا اور گرم لوہے کو پانی میں ڈبو دیا تو اس سے شُرررررر کی آواز آئی سسرالی تعجب سے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے تو داماد بولا میں جس کام کے لئے آیا تھا وہ مکمل ہوا اب جازت دیجئے گاؤں میں بھی کافی کام پڑا ہے وہ کرنا ہے۔

قارئین معظم!اس کہانی کی صداقت کا ذمہ میں نہیں لے رہا پڑھی ہوئی بات بیان کی ہے البتہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کی حالت بھی کچھ ایسی ہے وہ کچھ بہتر کارکردگی نہ دکھا پائیں تو اس ناکامی کو دوسروں کا شاخسانہ قرار دے دیتے ہیں کہ یہ سب پچھلی حکومتوں کا کیا دھرا ہے ان کی وجہ سے ہم کچھ کر نہیں پائے۔

پھر۔وہ آستین کا سانپ نکلا (وہ دھوکے باز نکلا) یہ پارٹی ٹکٹ پر جیتنے والے امیدواروں کے لئے موزوں ہے جو کامیابی کے فوری بعد حکمران جماعت سے جا ملتے ہیں۔بھینس کے آگے بین بجانا (کسی بات کا اثر نہ ہونا) عوام کتنا ہی حکمرانوں کے آگے واویلا کریں ان پر عوام کی چیخ و پکار کا کچھ اثر نہیں ہوتاسانپ بھی مرجائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے (یعنی مقصد پورا ہوجائے اور نقصان بھی نہ ہو) ویسے!یہ مقصد پورا کرنے والے بھی کیسے استاد ہوتے ہیں مقصد بھی حاصل کر جاتے ہیں اور نقصان کے ذمہ دار بھی نہیں ہوتے۔

مزید :

رائےکالم

You may also like

Leave a Comment