Home » کچھ اوناں نوں مرن دا شوق وی سی؟

کچھ اوناں نوں مرن دا شوق وی سی؟

by ONENEWS


کچھ اوناں نوں مرن دا شوق وی سی؟

یہ اقدام قابل تعریف ہی کہلائے گا کہ حکومت کی طرف سے نہ صرف پی آئی اے ایئر بس حادثے کی حالیہ رپورٹ ایوان میں پیش کر دی گئی بلکہ اس سے پہلے حادثات کی تحقیقاتی رپورٹیں بھی عوام کے سامنے لے آئی گئیں۔ اسے ہر صورت اچھا قدم قرار دیا گیا ہے عام ذہن کے شہری کو یہ عمل بھلا لگا تو اس کے ذہن میں کئی سوالات بھی ابھر آئے ہیں۔ پہلا تو یہی ہے کہ حادثات والی ساری کی ساری تحقیقی رپورٹیں یکسانیت کی حامل ہیں۔ صرف ایک ہی مختلف ہے یہ چترال والے حادثے کی رپورٹ ہے جس میں جنید جمشید بھی جاں بحق ہوئے تھے کہ اس کو تکنیکی خرابی قرار دیا گیا۔ باقی تمام حادثات میں پائیلٹ قصور وار ٹھہرے ہیں، حالیہ حادثہ بھی پائیلٹ اور کو پائیلٹ کے کھاتے میں گیا۔ ایئر کنٹرولر کا ذکر تو ضمناً ہے اس کا ”گناہ“ صرف یہ ٹھہرایا گیا کہ اس نے پائیلٹ کو جہاز کے انجن سے نکلنے والی چنگاریوں سے آگاہ نہیں کیا تھا باقی پورے حصے میں اسی ایئر کنٹرولر کی صفائی موجود ہے کہ اس نے ہدایات دیں جن پر پائیلٹ نے عمل نہیں کیا اور یوں ”جان بوجھ“ کر ”خود کشی“ کرلی اور ساتھ 97 سے زائد جانوں کو بھی لے گیا کہ فرشتوں کو اجتماعی طور پر ہی جواب دیا جائے۔

عام شہری اور مجھ جیسے ”جیک آف آل“ کی کھوپڑی میں تو یہی خیال آتا ہے کہ اس رپورٹ میں جسے ابتدائی کہا گیا کوئی ایسی بات نہیں جسے کوئی نیا انکشاف کہا جا سکے۔ ہم تو محترم سرور خان اور انکوائری کمیشن کو نہیں۔ متوفی پائیلٹ کے والد کو ”پیر“ مانتے ہیں کہ جنہوں نے پہلے روز ہی کہہ دیا تھا کہ ان کے مرحوم صاحبزادے کو ذمہ دار قرار دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ بھی کوئی الزام نہیں تھا بلکہ کھلی حقیقت تھی کہ حادثے کے فوراً بعد خود محترم وزیر ہوا بازی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مشترکہ طور پر قرار دے دیا تھا کہ حادثہ پائیلٹ کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے اور اب ابتدائی رپورٹ نے اسی کی تصدیق کی۔ اس کے علاوہ دوسرا اہم پہلو طیارے میں تکنیکی خرابی کا تھا اس حوالے سے بھی سی ای او محترم نے واضع کر دیا تھا کہ طیارہ ”فٹ“ تھا اور انہوں نے ایک سرٹیفکیٹ بھی دکھا دیا تھا اور اب عبوری تحقیقات میں بھی یہی کچھ کہا گیا ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی ہے کہ اگر ”مجرم“ کو سزائے موت ہی دلانا تھی تو اتنے زیادہ خرچ کی کیا ضرورت تھی، یہاں بھی معاملہ ویسا ہی نظر آیا ہے کہ جو کچھ وزیر ہوا بازی اور سی ای او نے پہلے روز کہا وہی اس ابتدائی رپورٹ میں کہہ دیا گیا۔

ہم جیسے کئی لوگ البتہ یہ سوال ضرور پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر یہی سب کچھ درست کہ ایئر کنٹرول پائیلٹ کو ہدایات دیتا رہا، اس نے عمل ہی نہیں کیا بلکہ ”لینڈنگ گیئر“ کھلے نہ ہونے کے باوجود تین بار لینڈ کرنے کی کوشش کی جس کے باعث طیارے کا انجن رن وے سے ٹکراتا رہا یوں اسے نقصان پہنچا اور انجن میں آگ لگنے کا سبب بھی یہی تھا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پائیلٹ کو مرنے کا اتنا شوق اور اتنی جلدی تھی کہ اس نے رن وے پر ہی طیارے کو توڑنے کی بھرپور کوشش کی ا ور کو پائیلٹ نے بھی اسے روکا نہیں بلکہ تعاون ہی کیا۔ یوں ان دونوں کو بھی بقول منیر نیازی ”مرنے کا شوق تھا“ اور وہ اپنے ساتھ مسافروں، عملے اور شہریوں کو بھی لے گئے۔ بہر حال ایک سوال جس کا جواب اس ابتدائی تحقیقات میں بھی ابھی تک نہیں دیا گیا وہ یہ ہے کہ اگر پائیلٹ نے ایئر کنٹرولر کی بات پر دھیان نہیں دیا اور طیارے کو رن وے سے ٹکرا دیا تو ایئر پورٹ پر ہنگامی حالت کا اعلان کر کے ”بیلی لینڈنگ“ کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا۔

اگر پائیلٹ اور کو پائیلٹ اتنا ہی ذہنی توازن کھو بیٹھے تھے تو پھر ایئرپورٹ انتظامیہ کیا کر رہی تھی کیا سول ایوی ایشن والے حضرات کوئی ایسی فوٹیج پیش کر سکے جس میں ”بیلی لینڈنگ“ کی کسی تیاری کا عمل نمایاں ہو، اور کیا ٹریفک (ایئر) کنٹرولر کی کوئی ایسی ہدایت موجود ہے جس میں کیپٹن (پائیلٹ) سے کہا گیا ہو کہ جہاز کے لینڈنگ گیئر نہیں کھلے ہوئے اور پھر یہ اطلاع نشر کی گئی ہو کہ جہاز کا انجن رن وے سے ٹکرایا، انجن سے چنگاریاں نکل رہی ہیں، لہٰذا اب ہنگامی طور پر ”بیلی لینڈنگ“ ہوگی، جس کا فوری انتظام کیا جا رہا ہے، اس لئے وہ (پائیلٹ) تیاری کرے، جہاز کو فضا میں چکر لگوائے اور پھر ”بیلی لینڈنگ“ کرے اس اثناء میں رن وے پر فوم اور فائر بریگیڈ کے ساتھ طبی اور حفاظتی عملہ پہنچ کر پوزیشن سنبھال لیتا اب اگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو پھر اس پر کمشن اپنی رائے کب دے گا کہ وزیر موصوف نے یوں بھی یہ کہہ کر فیصلہ سنا دیا کہ پائیلٹ اور کو پائیلٹ کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا۔

حکومت کا یہ بھی دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے کہ اس نے چینی، آٹا کمیشن کی رپورٹ بھی شائع کر دی۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ رپورٹ شائع ہو گئی، ذمہ دار سزا کیوں نہیں پا رہے۔ آٹا اور چینی مہنگی کیوں بک رہی ہے اور پٹرول کیوں دستیاب نہیں؟ اس کے علاوہ یہ خوشخبری بھی سنا دی گئی کہ یکم جولائی سے گیس کے نرخ بڑھ جائیں گے اور ایل پی جی ابھی سے مہنگی ہو گئی اور بجلی کے نرخ ”انشاء اللہ“ ستمبر میں بڑھا دیں گے ڈالر مہنگا ہو گیا تو پھر کیا سونے کے نرخ ایک لاکھ روپے تولہ سے زیادہ ہو گئے ہیں تو کیا ہوا، یہ سب امیروں کے چونچلے ہیں، غریبوں کو ان سے کیا ان کے لئے تو ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن جو شروع کر رکھا ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ اللہ کو پیارے ہوتے رہیں۔ وزیر ہوا بازی نے جو پینڈورا بکس کھولا ہے۔ اس پر پھر بات ہو گی۔

مزید :

رائےکالم





Source link

You may also like

Leave a Comment