Home » کپتان جی بٹن آج بھی آپ کے ہاتھ میں ہے

کپتان جی بٹن آج بھی آپ کے ہاتھ میں ہے

by ONENEWS

کپتان جی بٹن آج بھی آپ کے ہاتھ میں ہے

نجی چینل کی اینکر کا سوال تھا ”آپ کہتے ہیں میری تنخواہ دو لاکھ ہے پھر بھی گذارا نہیں ہوتا، ذرا بتایئے اُن لوگوں کا گذارا کیسے ہوتا ہو گا، جن کی آمدنی18یا 20 ہزار روپے ماہانہ ہے،اُن کے حالات کب بدلیں گے؟“اس پر فرمایا میرے پیارے کپتان نے کہ جب ملک اوپر اُٹھے گا تو لوگوں کے حالات بھی بدل جائیں گے،اینکر کہاں چوکنے والی تھی،سوال داغ دیا تو کیا تب تک لوگ خود کشیاں کرتے رہیں؟اس سوال کو بھی کپتان نے یہ کہہ کر ہوا میں اڑا دیا تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں، ہائے ہائے یہ کپتان کی صاف بیانی، عمران خان کے نام میں عمر بھی شامل ہے اور حضرت عمرؓ نے تو یہ کہا تھا  کہ دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے مر گیا تو مجھے جواب دینا پڑے گا۔یہاں میرا پیارا کپتان، ریاست ِ مدینہ کا دعویدار اور نیا پاکستان بنانے والا حاکم ِ وقت کہہ رہا ہے کہ لوگ اگر بھوک کی وجہ سے خود کشی کرتے ہیں تو مَیں کیا کر سکتا ہوں۔کپتان نے صاف صاف کہہ دیا کہ میرے پاس کوئی جادو کا بٹن تو ہے نہیں کہ جسے دباؤں اور سب کچھ بدل جائے۔ حالات بہتر کرنے میں وقت لگتا ہے، پانچ سال کی مدت اسی لئے رکھی گئی ہے کہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے پانچ سال انتظار کیا جائے۔ اب معیشت بہتری کی طرف چل پڑی ہے، آنے والے برسوں میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔

کپتان کی باتیں سن کر صدقے واری جانے کو جی چاہتا ہے۔ یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی کپتان ہے، جس نے کیسے کیسے خواب دکھائے تھے، جس کی تقریریں نشہ دو آتشہ کر دیتی تھیں،جو چھڑی گھما کے حالات کو بدلنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ آج عمران خان یوٹوپیا سے نکل آئے ہیں، زمینی باتیں کرتے ہیں تو کسی کو پسند نہیں آتیں،وہی جب خیالی باتیں کرتے تھے تو سب کو یقین آ جاتا تھا۔ غریبوں کو زمین سے اٹھا کر آسمان تک پہنچانے میں انہوں نے صرف90 دن کا وقت مانگا تھا،بلکہ پہلے سو دِنوں میں تارے توڑ کر لانے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ شاید وہ سمجھتے تھے کہ بے نظیر بھٹو، اور  نواز شریف عوام سے کھلواڑ کرتے رہے،انہوں نے جان بو جھ کر عوام کی حالت نہیں بدلی، وگرنہ کیا مشکل ہے کہ22 کروڑ انسانوں کی زندگی میں سوئچ  آن کر کے تبدیلی نہ لائی جا سکے، آج وہ ایسی مایوس کن باتیں کر رہے ہیں کہ جو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے بھی اپنے ادوار میں کبھی نہیں کیں۔ کل بنی گالا کی طرف جانے والے اساتذہ کو ڈنڈے پڑ رہے تھے اور وہ آنسو گیس کی شیلنگ سے آنکھوں میں آنسوؤں کی جھڑی لئے جھولیاں اٹھا کر حکومت کو بددعائیں دے رہے تھے تو اسلام آباد میں مقیم ہمارے ایک دوست ڈاکٹر صلاح الدین نے یہ تنقیدی تبصرہ کیا کہ بڑا شوق تھا، تبدیلی کا مزا لینے کا۔ آصف علی زرداری کو ووٹ دیتے تو آج خوشحال ہوتے، کیونکہ انہوں نے اپنے دور میں اساتذہ کی تنخواہیں دو سو گنا بڑھا دی تھیں،لیکن میرے پیارے کپتان اِن باتوں پر یقین نہیں رکھتے، وہ تو کہتے ہیں پاکستان اوپر اٹھے گا تو سب اوپر اٹھ جائیں گے۔ اس سے پہلے جتنے اوپر اٹھیں گے وہ عالم بالا کی طرف جائیں گے، خوشحالی کی طرف نہیں۔

مَیں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ میرے پیارے کپتان پر آج کل انٹرویوز دینے کا خبط کیوں سوار ہے؟جب اُن کے پاس عوام کو اچھی خبر سنانے کے لئے موجود نہیں تو پھر انہیں خاموش ہو کر بیٹھ جانا چاہئے۔اِدھر اُدھر کی مارنے کے لئے اُن کے ترجمان ہی کافی ہیں، کم از کم یہ بھرم تو رہ جاتا ہے کہ کپتان کی رائے یہ نہیں جو اُن کے ترجمانوں کی رائے ہے،مگر جب خود کپتان ٹی وی پر بیٹھ کر یہ  کہہ دیتے ہیں کہ مَیں کیا کر سکتا ہوں تو پھر   یہ سوال تو   پیدا ہوتا ہے کہ جب کچھ کر نہیں سکتے تو کرسی پر بیٹھے کیوں ہو، بھلے آپ بہت زیادہ ترقی کے اہداف حاصل نہ کریں،اس بارے میں طفل تسلیاں دیتے رہیں، مگر کچھ ایسا اہتمام تو کریں کہ عوام کے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رہے۔ وہ بچوں کو نہروں میں نہ پھینکیں،زندہ نہ جلائیں، خود کشیاں نہ کریں یا زندہ رہنے کے لئے ڈاکے نہ ڈالیں۔ کپتان کی نیت پر کسی کو شک نہیں،اُن کی ایمانداری پر بھی عوام یقین رکھتے ہیں،مگر ان دونوں باتوں سے عوام کا پیٹ تو نہیں بھر سکتا، بجلی، آٹا، چینی، گھی، دالیں، مرغی کا گوشت، انڈے مہنگے ہو جائیں تو عوام کی چیخیں نکل جاتی ہیں،گاڑیاں مہنگی ہو جائیں، زمینوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں، سونا فی تولہ مہنگا ہو جائے، انہیں زیادہ فرق نہیں پڑتا، بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور آصف علی زرداری کے ادوار میں ان بنیادی ضرورت کی اشیاء کو جیسے تیسے عوام کی پہنچ میں رکھا گیا۔اس کے لئے سبسڈی دی گئی یا کوئی دوسرا طریقہ اختیار کیا گیا، مگر قیمتیں اتنی نہیں بڑھیں کہ عوام بلبلا اٹھیں، مگر کپتان کے دور میں تو نزلہ گرا ہی اُن اشیاء پر ہے جو عوام کو  زندہ  رکھتی ہیں، سبزیاں تک اُن کی استطاعت سے باہر ہوگئیں اور سوکھے پیاز کے ساتھ روٹی کھانے والے بھی عذاب میں آ گئے۔

کیا عوام کو تبدیلی آنے کا پانچ سال انتظار کرنا پڑے گا۔کیا یہ کوئی آئینی مجبوری ہے کہ عوام ترقی و خوشحالی کے لئے پانچ سال انتظار کریں۔ان پانچ برسوں میں اگر مہنگائی کا یہی حال رہا، بے روز گاری اور کساد بازاری اسی طرح رہی تو کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک، والا معاملہ ہو گا۔بھوک و ننگ کی حکمرانی دندنائے گی اور غریبوں کے لئے ایک ایک دن گزارنا مشکل ہو جائے گا۔ پیارے کپتان مہربانی فرمائیے اتنی لمبی لمبی تاریخیں نہ دیں، ضروری اشیاء پر سبسڈی دیں اور اُن کی فراہمی یقینی بنائیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں یکم جنوری سے اضافہ کریں، کابینہ کے سائز میں کمی لائیں، بچت کر کے وہی پیسہ عوام پر خرچ کریں۔گورننس کو بہتر بنا کے ذخیرہ اندوزوں، مافیاز کے کل پرزوں کو لگام ڈالیں، ذرا صوبائی حکومتوں سے پوچھیں کہ  دو ماہ پہلے، دو سو روپے کلو بکنے والا مرغی کا گوشت ساڑھے تین سو روپے کلو کیسے بک رہا ہے، کون سی ایسی آفت آ گئی ہے کہ جس نے مرغیوں کی افزائش روک دی ہے، سبزیاں جو ہمارے کھیتوں کھلیانوں میں اُگتی ہیں، اُن کی آمدنی سے کسان یا کاشتکار کی زندگی تو نہیں بدلی ہاں آڑھتی مافیا ارب پتی ہو گیا ہے۔یہ مارکیٹ کمیٹیوں کا نظام گل سڑ چکا ہے اسے تبدیل کر کے مانیٹرنگ کا کوئی نیا نظام کیوں نہیں بنایا جاتا۔کپتان کی حکومت کے بارے میں یہ تاثر کیوں پھیل گیا ہے کہ اُس میں حکومت نام کی کوئی شے موجود نہیں،ہر طبقہ بے لگام ہو چکا ہے اور جس  کا جو چاہتا ہے کئے جا رہا ہے، کپتان کو یقین ہونا چاہئے کہ عوام کی تقدیر بدلنے کا بٹن آج بھی اُن کے ہاتھوں میں ہے۔ پانچ سال مکمل ہونے کا انتظار کئے بغیر اُس بٹن کو دبانے کی ضرورت ہے، کیونکہ بٹن دبانے سے ہی پانچ سال مکمل ہو سکتے ہیں۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment