Home » کپتان جیاپنی تے ساڈی زندگی آسان کر دو

کپتان جیاپنی تے ساڈی زندگی آسان کر دو

by ONENEWS

کپتان جی،اپنی تے ساڈی زندگی آسان کر دو

وزیر اعظم عمران خان نے ٹوٹ بٹوٹ کا کیا کہا ہم اپنے بچپن میں چلے گئے،یاد آیا ٹوٹ بٹوٹ کیسے کھیر بناتا تھا۔پاکستان میں 1947ء سے دو طرح کی کھیر بن رہی ہے،ایک جو ٹوٹ بٹوٹ بناتے،جس میں ان کی خالہ لکڑی لاتی،پھوپھی دیا سلائی اور آگ امّی جان لگاتی ہیں اور نظم کے آخر میں کھیر پر پورے گاؤں میں لڑائی ہوتی ہے اور کھیر کسی کے ہاتھ نہیں آتی۔ خدارا اس نظم کے اس خلاصے کو موجودہ حالات کے تناظر میں نہ دیکھئے۔ خوفناک نتیجہ نظر آنے پر میرا ذمہ توش پوش ہوگا۔  دوسری کھیر یوم ِ آزادی سے لے کر آج تک عوام بناتی ہے،جس جتن سے بناتی ہے وہ ہم سب سے زیادہ کون جانے، اپنا چرخہ تک جلا دیتے ہیں لیکن ہر بار کتا کھا جاتا ہے،ہم ڈھول بجاتے رہ جاتے ہیں،یعنی روز اوّل سے کھیر کبھی عوام کے ہاتھ نہیں آئی۔ خدارا امیر خسروؒ کے شعر کے خلاصے کا بھی اپنی ذمہ داری پر نتیجہ نکالیں، آپ لاکھ اختلاف کریں کپتان اپنے موقف پہ کھڑا ہوناجانتا ہے  سارا پِنڈ بے جا بے جا کہے وہ کھڑا رہتا ہے۔ہر بار میرا دل غٹ غوں غٹ غوں کرتا ہے لیکن ہر بار کپتان کا موقف کبوتری ورگی چال چلتا فضاؤں میں پھیل جاتا ہے۔

سانحہ مچھ پر کپتان کے موقف نے مجھے بھی مشکل میں ڈال دیا تھا،میرا یقین تھا کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اور جب منفی 7ڈگری میں شہداء کے لاشے پڑے ہوں ماں کیسے دور بیٹھ سکتی ہے،پھر سمجھ میں آیا ماں اور وزیر اعظم میں فرق ہوتا ہے،خیر وزیر اعظم نے تو جانا ہی تھا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ بچے مر رہے ہوں اور ماں خاموش رہے۔ لیکن میری ذاتی رائے ہے کہ لواحقین کوبھی میتوں کی بے حرمتی نہیں کرنی چاہیے تھی۔چلیں کپتان پہنچ گیا،دلاسہ بھی مل گیا تسلی بھی دے دی مجھے دکھ اس بات کا تھا کہ شہدا کی میتوں کو اناؤں کی جنگ میں منفی 7ڈگری میں رسوانہ کیا جائے۔مچھ میں پڑے لاشے کسی شیعہ یا ہزارہ گروہ کے نہیں تھے،وہ پاکستانیوں کے مسلمانوں کے لاشے تھے،وہ ہزارہ کے جوان نہیں تھے،وہ لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ،مظفر آباد کے جوانوں کے لاشے تھے۔کتنے ٹوٹ بٹوٹ ہیں ہم لوگ میتوں پر بھی اناؤں کی جنگ اور غلیظ سیاست سے باز نہیں آتے۔کپتان جی یہ پینتیس،چالیس داعشیئے ے ریاست سے زیادہ طاقتور نہیں،بھارت ان کے پیچھے ہے تو ہمارے آگے بھی ریاست ہے۔کچل دیں،مسل دیں اب ہم سے اپنے پیاروں کے لاشے نہیں اٹھائے جاتے،اب ہماری آوازیں بین کرتے کرتے بیٹھتی جا رہی ہیں۔ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے تو ہمیں اپنی تحفظ کے آغوش میں بھی لے لے۔

او ہاں بات ہو رہی تھی ٹوٹ بٹوٹوں کی،تو کپتان جی ”تسی وی اپنی زندگی آسان کر لو تے ساڈی وی“۔ہم ٹی وی سکرین اور اخبارات میں اچھی خبریں دیکھنا چاہتے ہیں۔جب ٹی وی کھولوساستدان سوکنوں کی طرح بس طعنے دیتے نظر آتے ہیں۔۔چلیں ایک آدھ مولانا فضل الرحمن جیسا کیوٹ،سافٹ،سمائلنگ چہرہ آجاتا ہے تو بدو بدی بندے کا دل ہنسنے کو کرتا ہے ورنہ ہروقت ایک ہی رنڈی رونا۔سنتا سنگھ ڈرائیونگ ٹیسٹ دے کر آیا،بنتا سنگھ نے پوچھاکیا بناپاس ہو گئے؟،سنتا سنگھ بولا پتہ نہیں یار جب میں ہسپتال سے آیا تو ٹیسٹ لینے والے سارجنٹ کو ہوش نہیں آیا تھا۔پتہ نہیں کب تک ہمارے ٹوٹ بٹوٹ سیاست کے ڈرائیونگ لائسنس کے لئے ہمیں ہسپتالوں میں لمیاں پاتے رہیں گے۔انہیں پتہ ہی نہیں کہ ہم ہر بار انہیں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دیکھ کر کہتے ہیں ”ماہی میریا روندہ نہ ماریں،میں دا لایا جند جاں دا“۔

امریکہ میں جمہوریت خطرے میں ہے وہاں ووٹ کو عزت دو والی فلم  شرطیہ نویں پرنٹ کے ساتھ چل رہی ہے۔ٹرمپ کے ہاتھ میں ابھی دس دن،ایٹم بم والے بریف کیس کا پاس ورڈ ہے اللہ خیر کرے،کہیں وہ اپنی تازہ ٹرمپی نا دکھا دیں۔ویسے انہیں میرا مشورہ ہے کہ اپنی تحریک میں جان ڈالنے کے لئے اگر قائد احتجاج مولانامیاں کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دیں تو دیکھیں کیسے ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنزمیں  ”ست اکیونجا“ ہوتی ہے۔امریکہ میں بڑے بڑے سائنسدان،مفکر،دانشور ہوں گے لیکن میرا دعویٰ ہے ان کے پاس ایک شیخ رشید،ایک مولانا فضل الرحمن جیسا کاریگر نہیں ہو گا،پتہ نہیں کیسے ان کی جمہوریت محفوظ ہے۔

لگتا ہے وفاق اور پنجاب میں کپتان اور وسیم اکرم کی سطح ضرور انڈر سٹینڈنگ ہے،لیکن وچوں وچ اور بھی بہت سی پھسوڑیاں ہیں۔اب دیکھ لیں وزیر اعظم کے ترجمان شہباز گِل سے لاہور میں مسلم لیگیوں نے چنگا نہیں کیا۔لیکن پنجاب کی سطح پر ایکشن تو دور کی بات احتجاج کی ہلکی سی اوں آں بھی نہیں ہوئی۔کم از کم بندہ اندرواندر ہی گیم پاتا رہے اوتوں اوتوں تو رولا پا دے۔شہباز گِل حکومتی مشینری کا اہم حصہ ہیں میں یہ نہیں کہتا کہ کچہری میں ان کے ساتھ رولا رپّا پانے والے لیگیوں کے ساتھ پھڑّن پھڑیّا کیا جائے لیکن کم از کم پنجاب کی وزارت ِ اطلاعات کی سطح  پر مذمت،شذمت تو کھڑکانی چاہیے۔فردوس آپا اگر یہ سطور پڑھیں تو خدارا ہمارے کالم کی لاج رکھتے ہوئے ایک آدھ جملہ شہباز گلِ کے لئے ضرور ادا کریں کم از کم دونوں کا ڈاک خانہ تو ایک ہی ہے۔ورنہ ایسا ایپی سوڈ آئندہ کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment