Home » کوویکس سے کروناویکسین فروری سے ملنا شروع ہوجائیگی، اسدعمر

کوویکس سے کروناویکسین فروری سے ملنا شروع ہوجائیگی، اسدعمر

by ONENEWS

ایک کروڑ 70لاکھ خوراکیں ملنے کی یقین دہانی کاخط موصول

کوویکس نے پاکستان کو کرونا ویکسین کی ایک کروڑ 70 لاکھ ڈوزز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی، جس کا آغاز فروری سے ہوگا۔ اسد عمر کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ورکرز اولین ترجیح ہیں، جس کے بعد 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو ویکسین دی جائے گی، چین سے ملنے ویکسین لگانے کا عمل آئندہ ہفتے کے وسط میں شروع کردیا جائے گا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا کہ کوویکس کی جانب سے پاکستان کو کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی ایک کروڑ 70 لاکھ ڈوزز کی فراہمی کی یقین دہانی کا خط موصول ہوگیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کوویکس کی جانب سے کرونا ویکسین فروری سے ملنا شروع ہوگی، 60 لاکھ ڈوزز مارچ تک مل جائیں گی جبکہ ایک کروڑ 70 لاکھ ڈوزز جون 2021ء تک موصول ہوں گی۔

مزید جانیے : چین سے کرونا ویکسین لانے کیلئے طیارہ اتوار کوروانہ ہوگا

سماء سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ کوویکس سے کرونا ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے کا معاہدہ 8 ماہ پہلے کیا گیا، مجموعی طور پر پاکستان کو ساڑھے 4 کروڑ ڈوزز ملیں گی۔

ایک سوال کے جواب میں اسد عمر کا کہنا تھا کہ کابینہ کے فیصلے کے مطابق ہیلتھ ورکرز اولین ترجیح ہوں گے، 4 لاکھ سے زائد ورکرز رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، دوسرے مرحلے میں 65 سال سے زائد عمر کے پاکستانیوں کو فروری کے آخری تک ویکسین دی جائیگی، جس کیلئے رجسٹریشن جلد شروع ہوگی، جس کے بعد بتدریج کم عمر کے لوگوں کو ویکسین دینگے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا بدھ سے کرونا کی ویکسینیشن کا اعلان

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ایئرفورس کا خصوصی طیارہ کل (اتوار کو) ویکسین کی پہلی کھیپ لینے بیجنگ جائے گا، چین نے پاکستان کو 5 لاکھ خوارکیں عطیہ کی ہیں، اگلے ہفتے کے وسط تک ویکسینیشن کا عمل شروع ہوجائے گی۔

دیگر ذرائع سے کرونا ویکسین کے سوال پر اسد عمر نے کہا کہ کوویکس کرونا ویکسین کے حصوصل کا ایک ذریعہ ہے، چینی کمپنی سے بھی کرونا ویکسین لے رہے ہیں جبکہ دیگر ذرائع بھی استعمال کئے جائیں گے، اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کیلئے کرونا ویکسین کا انتظام کیا جائے گا۔

ویڈیو: مرحلہ وارراہنمائی، پاکستان میں کیسے کروناویکسین لی جاسکتی ہے؟

کرونا ایس او پیز اور پابندیوں سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ سب سے زیادہ ویکسین امریکا میں لگائی جارہی ہیں اس کے باوجود وہاں بھی پابندیاں لاگو ہیں، ویکسین لگنے کے بعد فوری طور پر احتیاطی تدابیر ختم نہیں ہوں گی، ویکسین کا اثر چند ماہ بعد سامنے آئے گا۔

کوویکس عالمی ادارہ برائے صحت، گاوی (گلوبل الائنس فار ویکسینز اینڈ امیونائزیشن) اور سی ای پی آئی (کولیشن فار ایپیڈیمک پریپیئرڈنس انوویشنز) کا اتحاد ہے، دیگر کئی ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان نے بھی اس پر دستخط کررکھے ہیں، یوں کوویکس دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی ویکسین مفت فراہم کرنے کا پابند ہے۔

You may also like

Leave a Comment