Home » کورونا 19 کی دوسری لہر بچو اور بچاؤ

کورونا 19 کی دوسری لہر بچو اور بچاؤ

by ONENEWS

کورونا 19 کی دوسری لہر، بچو اور بچاؤ

کورونا۔ 19 وائرس ابھی ختم نہیں ہوا۔ اس میں کافی کمی واقع ہو گئی تھی،اس کمی کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ کورونا ختم ہو گیا ہے اور عوام تمام احتیاطی تدابیر  ترک کر دیں۔ کورونا۔ 19 وائرس کی دوسری لہر آ چکی ہے،اس کی نوعیت زیادہ خطرناک ہے اس میں اموات زیادہ ہو رہی ہیں اور عوام کو پہلے سے بھی زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔کورونا وبا کی دوسری لہرنے برطانیہ جیسے مضبوط معیشت کے حامل ملک کی معاشی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، اسی طرح یورپ کے دیگر بڑے ممالک بھی اسی عذاب میں پھنسے ہوئے ہیں،پاکستان میں کورونا آیا، حکومت نے بھاگ دوڑ کر کے انتظامات کئے، مگر محکمہ صحت کے ڈاکٹروں نے تھوڑے بہت اور ناکافی انتظامات کے باوجود اپنے چھوٹے عملے کے ساتھ مل کر اس موذی وبا سے عوام کو بچانے کے لئے جانفشانی سے کام کیا، اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے اپنا آرام اور سکون ترک کر کے دن رات مسیحائی کے جذبے سے کام کر کے اس وباء سے ہونے والے نقصان کو کم سے کم کرنے میں اپنا مثالی کردار ادا کرتے ہوئے ہزاروں مریضوں کو موت کے منہ سے بچایا جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی،جس کے باعث پاکستان میں حالات دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں قابو میں رہے لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خصوصی کرم کیا اور ملک کی معیشت کے مثبت اشاریئے ریکارڈ ہوئے۔ گزشتہ 3 ماہ کے دوران ملکی برآمدات میں تیزی آنے کی خبریں پڑھنے کو ملیں،فارن ایکسچینج ریزرو مضبوط ہوئے، آپ یہ پڑھ کر خوش ہوں گے کہ اس سال عید الاضحی کے موقع پر جانور قربان کرنے کا مذہبی فریضہ انجام دینے پر تین سو ارب روپے سے زیادہ معاشی سرگرمی دیکھنے میں آئی، لوگوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر مہنگے جانور خرید کر قربانیاں دیں،یہ اللہ کے شکر گزار بندے بن جانے کا ثبوت ہے۔ اللہ کی رحمت نے پاکستان کو کورونا 19وائرس سے پھیلنے والی بڑی تباہی سے بچا لیا، وگرنہ اس وباء نے تو بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کے ہاتھ کانوں کو لگوا دیئے ہیں، حالانکہ ان کے پاس تو طبی اور معاشی انفراسٹرکچر بہت مضبوط تھا، پاکستان تو اس کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھا۔

اگست کے مہینے میں لاک ڈاؤن ختم ہوا، زندگی بحال ہوئی، سڑکوں، مارکیٹوں اور سکولوں کی رونقیں بحال ہوئیں۔ابھی تین ماہ بھی پورے نہیں گزرے کہ ملک میں کورونا 19 وائرس کی لہر دوبارہ  آ گئی ہے، ملک کے ڈاکٹراس کی پیشگی توقع کر رہے تھے اور عوام کو آگاہی مہموں کے ذریعے بتا رہے تھے۔ پنجاب پر اس کا شدید دباؤ آ سکتا ہے،  یکم اگست تک ملک بھر میں روزانہ چار سو سے پانچ سو مریض تھے، لیکن اب یہ تعداد  دو ہزار یومیہ سے بڑھ چکی ہے۔اس کی بڑی وجہ ڈاکٹر سلمان ظہیر ایس اوپیز پر عمل نہ کرنا بتا رہے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے ایک آگاہی مہم میں بتایا کہ ماسک کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ سکولوں، بازاروں، دکانوں، شاپنگ سنٹروں اور شادی ہالوں میں سب کچھ نظر انداز کر دیا گیا ہے اور جو لوگ پہنتے بھی ہیں، وہ بھی بات کرتے ہوئے ماسک نیچے کر لیتے ہیں، اسے بطور فیشن استعمال نہیں کرنا،بلکہ جسم کا لباس سمجھ کر استعمال کرنا ہے،  مسلح افواج کے اجلاسوں میں جس طرح فوجی افسران ماسک کا استعمال کرتے ہیں، وہ طریقہ اور انداز اپنانے کی ضرورت ہے،وگرنہ ماسک کے استعمال کا کوئی فائدہ نہیں۔ ماسک پہننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو کورونا وبا سے بچانے کے ساتھ ساتھ اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی بچا رہے ہیں کچھ لوگ ماسک محض بینکوں میں لین دین کرنے کے لئے جاتے وقت استعمال کرتے ہیں۔

آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ بینکوں کے اندر بیٹھا عملہ ماسک پہننے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا، اس طرح تو وہ لوگ ماسک پہننے والوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں اور ماسک پہن کر بینک جانے والے لوگ باہر نکلتے ہی ماسک اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیتے، جیب میں ڈال لیتے ہیں یا پھینک دیتے ہیں۔اب تو ماسک بھی سستے ہیں اور بازار میں جگہ جگہ دستیاب ہیں۔سینی ٹائزر بھی آسانی سے مل رہا ہے،بلکہ پاکستان سے بیرون ملک بھی جا رہا ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ کورونا کی اس دوبارہ آ جانے والی لہر کے موقع پر ماسک اور سینی ٹائزر کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکنے کے فوری اقدامات کرے تاکہ ملک کے ہر فرد کو ماسک اور سینی ٹائزر سستے داموں دستیاب رہے اور وقت سے فائدہ اٹھانے والے ذخیرہ اندوز اور گراں فروش عوام کی مجبوری اور ضرورت سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ ہم اس سے قبل ڈینگی  کے موقع پر تجربہ کر چکے ہیں کہ پینا ڈول کا پتا دو سو روپے میں بھی نہیں مل رہا تھا۔ ناجائز منافع خور بحرانوں اور عوام کی مشکل کے وقت کا انتظار کرتے اور انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔ لوگوں کو کورونا سے بچائیں اور خود بھی بچیں، اسی میں سب کا بھلا ہے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment