Home » کورونا کی تباہ کاریاں اور بے رحم سیاست

کورونا کی تباہ کاریاں اور بے رحم سیاست

by ONENEWS

کورونا کی تباہ کاریاں اور بے رحم سیاست

سیاست سیاست کھیلنے والو کچھ کورونا کی بھی فکر کرو۔ بدھ کو ایک دن میں 105 افراد کورونا کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے۔ یہ کورونا کی دوسری  لہر میں اب تک کی سب سے زیادہ اموات ہیں تین ساڑھے تین ہزار کیسز روزانہ سامنے آ رہے ہیں، سنجیدگی کسی جگہ، کسی شعبے اور کسی شخص میں نظر نہیں آ رہی۔ یوں لگتا ہے اس معاملے کو اللہ توکل چھوڑ دیا گیا ہے۔ اپوزیشن اس حوالے سے کچھ ماننے کو تیار نہیں، سب کچھ حکومت کی پی ڈی ایم تحریک کو ناکام بنانے کی چال قرار دے رہی ہے۔مَیں بھی شاید اسی پروپیگنڈے میں آ جاتا اگر روز و شب اپنے اردگرد ایسی شخصیات کو لقمہ ئ اجل بنتے نہ دیکھتا جو کورونا  میں مبتلا ہوئیں اور باوجود تمام تر علاج اور کوششوں کے جانبر نہ ہو سکیں۔ابھی کالم لکھ ہی رہا تھا کہ اسلام آباد سے افضل بٹ کی ایک پوسٹ پر نظر پڑی، جس میں ایک معروف صحافی طارق محمود ملک کی کورونا کی وجہ سے موت کی اطلاع تھی، اُنہیں 4دسمبر2020ء میں پمز اسلام آباد داخل کیا گیا تھا۔ کورونا سے لڑتے لڑتے بالآخر وہ جان کی بازی ہار گئے۔ ملتان میں ایک سینئر پروفیسر ارشد پرویز ملک نے کورونا کی وجہ سے دم توڑا، جبکہ نشتر کے ایک پروفیسر ارشد اقبال بھٹہ بھی اس وائرس کی نذر ہو گئے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس بار کورونا کی لہر اِس لئے زیادہ خطرناک ہے کہ اُس کی حشر سامانی پہلے سے زیادہ ہے۔ اب اس میں مبتلا ہونے والے زیادہ تیزی سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔

کورونا وبا کی پہلی لہر کے بعد حکومتی سطح پر جو سنجیدگی نظر آئی تھی، دوسری لہر کے موقع پر وہ بالکل مفقود نظر آئی ہے۔ این سی او سی روزانہ صرف اعداد و شمار جاری کرنے تک محدود ہو گیا ہے یا پھر کبھی کبھار ڈاکٹر فیصل سلطان ٹی وی پر آ کر یہ خبر سنا جاتے ہیں کہ کورونا کی شرح بڑھ رہی ہے، اِس لئے احتیاط کی جائے۔یہاں صرف کہنے سے کون احتیاط کرتا ہے، اس بار حکومت غالباً اپوزیشن کی وجہ سے ڈھیلی پڑی ہوئی ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ کہنے کو شادی ہالوں کے اندر تقریبات پر پابندی ہے، لیکن ہر  جگہ شادیاں بند مارکی ہالوں میں کی جا رہی ہیں۔ ریسٹورنٹ کھلے ہیں، اُن پر کسی کا کوئی چیک نہیں، صرف تعلیمی ادارے ہی بند ہیں، جنہیں سب سے آخر میں بند کیا جانا چاہئے تھا۔

بازاروں میں کورونا ایس او پیز کی پابندی کو ”گناہ“ سمجھا جاتا ہے، رہی سہی کسر اپوزیشن کے جلسوں نے نکال دی اور عوام کو یہ پیغام ملا کہ ”صرف سیاسی مقاصد کے لئے حکومت کورونا کے پھیلاؤ کا پروپیگنڈہ کر رہی ہے“ وگرنہ حقیقت میں تو اس کا کہیں وجود نہیں۔ ہوتا تو جلسے کیوں ہوتے،ریلیاں کیوں نکلتیں۔ کورونا کا مسئلہ یہ ہے کہ فوری ظاہر ہو کر بندے نہیں مارتا،ایسا ہوتا تو جلسے جلوسوں میں لوگ سرعام مرتے اور خوف پھیل جاتا۔ اس کا معاملہ یہ ہے کہ کچھ دن بعد علامتیں ظاہر کرتا ہے اور چمٹ جاتا ہے۔ اُس وقت اس موذی وائرس میں مبتلا ہونے والے کو علم ہوتا ہے کہ اُس نے فلاں وقت میں فلاں جگہ جو بے احتیاطی کی تھی، اُس کا نتیجہ سامنے آ گیا ہے۔

اسد عمر آئے روز ٹی وی پر آ کر یہ تنبیہہ کر جاتے ہیں کہ عوام نے احتیاط نہ کی تو پابندیاں سخت کرنی پڑیں گی، آخر کب کرو گے پابندیاں سخت جب مرنے والوں کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔پھر کیا یہ وائرس کوئی ایسی چیز ہے کہ اِدھر پابندیوں کا بٹن آن کیا اور اُدھر ختم ہو گیا۔اگر یہ بڑے پیمانے پر ایک بار پھیل گیا تو اسے کنٹرول کرنے میں کئی ماہ لگ جائیں گے اور اس دوران یہ مزید بھی پھیل سکتا ہے۔کیا ہم نے دیکھا نہیں کہ امریکہ میں یہ اب تک کنٹرول نہیں ہوا۔کیا بھارت کی مثال سامنے نہیں کہ کورونا پھیلا تو پھر پھیلتا ہی چلا گیا۔حیرت ہے اِس بار حکومت تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور دیگر طبقوں کے ہاتھوں بے بس ہو چکی ہے، رات کو دکانیں جلد بند کرنے کا حکم دیا تو تاجروں کی ایک دھمکی پر اُسے تبدیل کر دیا۔

بازاروں میں ماسک نہ پہننے کی پاداش میں انہیں سیل کیا تو تاجروں کی مزاحمت پر کھول دیا۔ آج کسی جگہ بھی چلے جائیں یہ احساس نظر نہیں آئے گا کہ لوگ اس وبا سے پریشان ہیں۔ پریشانی صرف ہسپتالوں کے کورونا وارڈز یا اُن لواحقین تک رہ گئی ہے،جن کے پیارے اس وبا میں مبتلا ہو کر زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یہ تو بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے والی بات ہے۔ڈاکٹروں کی تنظیمیں آئے روز یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ کم از کم دو ہفتے کا سخت لاک ڈاؤن کیا جائے۔پہلے کی طرح ہر چیز بند کر دی جائے۔ کم از کم اُن شہروں اور علاقوں میں جہاں کورونا کی شرح بہت بڑھ چکی ہے اِس قسم کا لاک ڈاؤن از حد ضروری ہے،مگر اپنے پیارے کپتان اس نظریے کو چھوڑنے پر تیار نہیں کہ سخت لاک ڈاؤن سے لوگ بھوکوں مر جائیں گے۔ ارے بھائی بھوکوں نہیں مرتے،البتہ کورونا سے ضرور مریں گے اور مریضوں کو سنبھالنے کے لئے ہسپتالوں میں جگہ نہیں رہے گی۔

صرف ہمارے ہی ملک میں اربابِ اختیار کی یہ ضد موجود ہے کہ پہلے جیسا سخت لاک ڈاؤن نہیں کریں گے، وگرنہ دُنیا میں جہاں جہاں کورونا کی دوسری لہر سر اُٹھا رہی ہے، سخت لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ لندن کی حالیہ مثال سب کے سامنے ہے جہاں ایک بار پھر سب کچھ بند کر دیا گیا ہے۔ کینیڈا اور امریکہ میں بھی دوبارہ سخت لاک ڈاؤن کی حکمت ِ عملی اختیار کی گئی ہے۔ ہم اگر اس طرف نہیں جاتے تو پھر کیسے اس وائرس پر قابو پا سکیں گے۔

مزید :

رائےکالم




Source

You may also like

Leave a Comment